Friday, April 19
Shadow

کتاب میلے کے تین دن/ تاثرات : پروفیسر فلک ناز نور 

تاثرات : پروفیسر فلک ناز نور 

مارکیٹنگ ہیڈ : پریس فار پیس پبلی کیشنز 

پریس فار پیس پبلی کیشنز کے زیر اہتمام ہم پاکستان کے مختلف ایونٹس میں اپنی کتب  کی تشہیر و فروخت ، کتابوں کی تقریب رونمائی ، ایواراڈ ز وغیرہ جیسے پروگرام کر چکے ہیں جن کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا مگر جامعہ پنجاب کے زیر اہتمام کتاب میلہ میری زندگی کی خوبصورت تجربات میں سے ایک یاد گار تجربہ تھا۔

چار دن ہم کتابوں میں گھرے رہے -( سٹال کے آرگنائزر نے سٹالوں کی سیٹنگ 6 مارچ ہی کو کر دی تھی

اس دوران 7- 8 – 9 مارچ کو ہزاروں کی تعداد میں کتاب پڑھنے والے ہمارے سٹال پر تشریف لائے اور اپنی پسند اور بجٹ کے مطابق کتب رعائتی قیمت پر  خریدیں۔

پریس فار پیس کی انفرادیت یہ ہے کہ ہمارا مقصد نوجوان لکھنے والوں اور نئے لکھنے والے رائٹرز کی رہنمائی کرنا ہے – ہم نوجوانوں کو سراہتے ہیں ، بھروسہ کرتے ہیں ، انکو مشکل ذمہ داری دئتے ہیں جس سے وہ چیلنج سمجھ کر نمٹاتے ہیں -دور دراز علاقوں کے رہنے والے اور بزرگ اور نئے لکھاری جو پبلشنگ کی باریکیوں کو  اچھی طرح نہیں جانتے ان کی رہنمائی و معاونت بھی ہمارا ٹارگٹ رہا ہے

پریس فار پیس پبلی کیشنز کے سٹال پر مجھے سنئیر رائٹر تسنیم جعفری صاحبہ کا تجربہ اور رہنمائی حاصل رہی – وہ خود دو درجن کتب کی لکھاری اور بڑے بڑے  ایوارڈ  حاصل کر چکی ہیں -ہمیں ان کی کمپنی حاصل رہی۔

پریس فار پیس کے سٹال کا  انتظام چونکہ میری ٹیم کی رضا کار لڑکیاں ہی کر رہی تھیں تو ان کا حوصلہ بڑھانے کو تسنیم جعفری صاحبہ ویمن ڈے پر خاص طور پر ہمارے لئے پھول لے کر آئیں – تھینک یو میم۔ 

میں اپنی ٹیم کے لنچ کا اہتمام میلے میں موجود فوڈز سٹالز اور یونی ورسٹی کے کیفے سے کرتی رہی لیکنُ ایک دن میڈم اپنے گھر سے مزے دار کھانا بنا کر لائیں جو ایک خوشگوار سرپرائز تھا۔

ینگ رائٹر سلیمان شکور بھائی بھی تین دن تک ہمارے ساتھ رہے اور اپنی کتاب کی بھر پور پروموشن کی ، ہمار ا بھر پور ساتھ دیا ، 

پریس فار پیس کے پلیٹ فارم سے ہم سیالکوٹ کے ینگ رائٹر دانش تسلیم کی کتاب شائع کر چکے ہیں – وہ بھی بطور خاص کتاب میلے میں خاص طور پر تشریف لائے اور ہمارا بھرپور ساتھ رہا۔  

رائٹر عافیہ بزمی کتاب میلے میں اپنی فیملی ، ڈاکٹر بیٹی ، لندن سے آئے بھتیجے  ان کی پیاری سی فیملی کے ساتھ تشریف  لائے ، ہماری بڑی بہن عافیہ بزمی جب محبت سے اپنے فادر خالد بزمی کا زکر کرتی ہیں تو مجھے بھی اپنے والد بہت یاد آئے  ، وہ بھی کتابوں کے بہت شوقین تھے-اور ہمیں بھی شوق سے میگزین لا کر دیتے تھے۔

 لندن میں مقیم ہمارے ڈائریکٹر پروفیسر سر ظفر اقبال صاحب نے کئی بار اسلام آباد کے بزرگ رائٹر سید مکرم علی صاحب کا ذکر خیر کیا تھا مگر ہمارے سٹال پر ان سے ملاقات کے بعد اندازہ ہوا وہ کتابوں اور رائٹر سے کتنی محبت کرتے ہیں -ایسے مخلص بزرگ اللہ کی نعمت ہیں۔

 مجھے  روبیہ مریم نے بھی بہت متاثر کیا – وہ بھی تین دن تک بہت محنت سے سٹال کی دیکھ بھال اور مہمانوں کی رہنمائی کرتی رہی

وہ پی ایچ ڈی سکالر ہے لیکن سٹڈی کی مصروفیات کے باوجود ہمیں بہت وقت دیا – ویل ڈن روبی

اپنے سٹال کی مصروفیات کے باعث میں دوسرے سٹال   دیکھنے سے محروم رہی البتہ میم تسنیم کے ساتھ یاسر پبلی کیشنز  کے سٹال پر فاطمہ شیروانی سے ملاقات ہوئی اور ان کو بہت لگن  اپنے کام میں مصروف دیکھ کر خوشی ہوئی۔

یونیورسٹی  کے آئی ای آر شعبہ ہمارے لیے سہولت کا باعث رہا جس  پر ادارے کے سربراہ    ڈاکٹر طارق محمود کا شکریہ ادا کرنے کےلیےہماری رضا کار  روبیہ اور مقدس نے ان کے دفتر جا کر شکریہ کہا۔

ہمارے خاص مہمان

پریس فار پیس کے سٹال پر ہمیں بہت سے سنئیر رائٹر زر ، کالم نگاروں اور مصنفین اور سماجی شخصیات کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہوا ۔جن میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں:

محمد فہیم عالم صاحب، مسرت کلانچوی صاحبہ ،    ،ڈاکٹر عنبرین بصیرہ، مزاح نگار اور نقاد   ڈاکٹر اشفاق ورک، لیاقت بلوچ صاحب  ، ڈاکٹر فاروق بیگ  رفاہ یونی ورسٹی فیصل آباد، ڈاکٹر نیر ناصر،  نسرین اختر نیناں صاحبہ،  زرش بٹ، اشفاق احمد خان  صاحب، ایمان فاطمہ،  میڈم عطرت بتول ، محترمہ کنول بہزاد، ناہید گل، فضل اعوان  صاحب (مصنف اور یوٹیوبر) ، عائشہ جمشید ، عاصمہ جمشید، تہذین طاہر (ناول پگلی کی مصنفہ)، محترمہ  عافیہ بزمی صاحبہ ، معاذ معاویہ، کنول نہزاد ، تہذین طاہر ، انعام کاشمیری صاحب

(اگر کسی کا نام رہ گیا ہے تو ایڈوانس معذرت )

میلے کی گہما گہمی اور رش کی وجہ سے ہم ان معزز رائٹرز اور دور سے آئے مہمانوں  کی مہمان نوازی  کا اگر حق ادا نہ  کر سکے تو معذرت۔ 

پنجاب یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود  صاحب بھی تشریف لائے -میری درخواست پر انھوں نے ہمارے ساتھ فوٹو بھی بنوایا اور ہمیں شاباش دی -اس دوران بچوں نے بھی کتابیں خریدیں کیونکہ ہم نے میڈم تسنیم جعفری ، میڈم قانتہ رابعہ ، محمد احمد رضا انصاری سمیت بچوں کے لئے ادیبوں کی بہت خوب صورت کتابیں شایع کر چکے ہیں۔

نئی  مطبوعات کا اجرا

پریس فار پیس سٹال پر ہم نے  ادارے کے کیٹلاگ کا بھی اجرا کیا -اور ہماری نئی کتاب آغوش صدف کا بھی فوٹو سیشن ہوا -سٹال پر بہت سارے لوگ 

ہمارے پلیٹ فارم سے کتاب کی اشاعت کا بھی پوچھتے رہے – ان سے گزارش  کہ اس شعبے کو ہماری ایڈیٹوریل ٹیم دیکھتی ہے 

کتابوں اور دیگر تدریسی مواد کی اشاعت کے لیے ہماری ایڈیٹر اور ڈائرکٹر صاحب سے بزریعہ ای میل اور واٹس ایپ رابطہ کیا جاسکتاہے۔

آپ ہمارے ساتھ بطور فری لانسر  کام کرنا چاہتے ہیں تو پریس فار پیس آپ کا اپنا ادارہ ہے – آپ انگریزی ، اردو یا کسی بھی زبان کے رائٹر ہیں۔

آپ کا تخلیقی کام ہم بڑے اعزازکے ساتھ شائع کریں گے –

پنجاب یونی ورسٹی کے کتاب میلے کی بھر پور کامیابی نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ صدی کتابوں کی آخری صدی نہیں ہے – لفظ زندہ رہیں گے ، کتاب کی مہک باقی رہے گی – ہمارے لکھاریوں کے ذہنوں سے تخلیق کے چشمے پھوٹتے رہیں گے – لکھاری اور قاری کا رشتہ آباد رہےگا۔ 

اپنی بات کا اختتام ایک انگریزی قول سے کرتی ہوں 

“I love the sound of the pages flicking against my fingers. Print against fingerprints. Books make people quiet, yet they are so loud.” ―Nnedi Okorafor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact