Friday, May 24
Shadow

بہاولپور میں اجنبی/ انعام الحسن کاشمیری

مظہراقبال مظہر نے شاندار روایات کے حامل اس شہر کو ہمارے لیے اجنبی نہیں رہنے دیا!!
انعام الحسن کاشمیری

        ہم نے کتابوں میں بہاولپور کے متعلق جو پڑھا ہے، وہ محض اتنا ہے کہ اس ریاست کے نواب نے قیام پاکستان کے بعد نوزائید ہ مملکت میں نہ صرف شمولیت اختیار کی بلکہ اس غریب اور مفلوک الحال مملکت کی عملی مدد کے لیے غالباً تین کروڑ روپے کی امداد بھی قائداعظم کے حضور پیش کی۔ پھر اس ریاست کی ایک وجہ شہرت اسلامیہ یونیورسٹی ہے، لیکن اس سے آگے کبھی جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی کہ یہ کون سا ایسا ترقی یافتہ شہر ہے، جس کی جانب کبھی تعلیم یاروزگار کے سلسلے میں سفراختیار کرنامقصدِ حیات ہوسکتاہے۔ دراصل ہماری ترجیحات ہماری ضروریات کے بوجھ تلے دبی ہوتی ہیں لیکن جب جناب ظفراقبال نے ”بہاولپور میں اجنبی“ بھجوائی اور اس کے مطالعہ کے لیے ابتدائی نشست میں سرسری ورق گردانی کی تو اپنی کم علمی، کم مائیگی اور اس عظیم الشان شہر سے ناواقفیت کا بڑی شدت سے احساس ہوا۔ جناب ظفراقبال پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے روح رواں ہیں جس کے تحت پسماندہ علاقوں میں تعلیمی میدان میں فلاحی سرگرمیاں سرانجام دی جارہی ہیں۔ اسی فاؤنڈیشن کے تحت انھوں نے کتب کی اشاعت کا بیڑہ بھی اٹھایاہے اور اس سلسلے کی پہلی کتاب ”بہاولپور میں اجنبی“ ہے۔ اس کی اشاعت کے فوری بعد چند ماہ ہی میں مزید دوتین کتابیں بھی منصہ شہود پر آکر داد وتحسین وصول کرچکی ہیں۔
        ”بہاولپور میں اجنبی“ جناب مظہراقبال مظہر کے برسوں پرانے بہاولپور کے مشاہدات وتجربات پر مبنی ایک ایسا سفر ہے، جسے 1995ء میں اختیار کیا گیا لیکن اس سفر کو نامے کی صورت آج پچیس چھبیس برس بعد دی جارہی ہے۔ اس لحاظ سے ان کی یادداشت کو داد دینا پڑے گی، جس کے سہارے انھوں نے پاؤصدی پرانی یادوں کو اس طرح تازہ کیاہے، جیسے کل کی بات ہو۔ بیشتر سیاح تو سفرکے دوران ہی مشاہدات قلم بند کرتے ہیں۔ مظہراقبال مظہر تو ایک طالب علم کی حیثیت سے ایم اے انگریزی ادب کا امتحان دینے کے لیے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پہنچے تھے لیکن انھوں نے موقع کو غنیمت جانا اور انگریزی ادب کے طالب علم کے ساتھ ساتھ سیاح کا روپ بھی دھار لیا اور تاریخ کے طالب علم کا بھی، چنانچہ امتحانات کے ساتھ ساتھ وہ شہر کی سیر، تاریخی مقامات کی دید، ان کی اہمیت وحیثیت، معاشرت، تہذیب، رسم ورواج، مختلف پیشوں سے منسلک افراد کے اطوار، یہاں کے شب وروز کے مشاغل، زندگی کی مشکلات، اور اس نوع کے دیگر امور کو بہت قریب سے دیکھتے، مشاہدہ وتجربہ کرتے آگے بڑھتے چلے گئے۔ چنانچہ مظہراقبال مظہر نے اگرچہ ایک اجنبی کی حیثیت سے بہاولپور کو دیکھا، اور اسے اپنی روح تک میں اتار لیالیکن اس تصنیف کے ذریعے انھوں نے کوشش کی ہے کہ یہ شاندار اور عظیم روایات کا حامل شہر، مملکت خداداد کے باقی شہریوں کے لیے اجنبی نہ رہے۔ اپنی اس کوشش میں وہ پوری طرح کامیاب رہے ہیں۔ انھوں نے باریک بینی سے مشاہدات کو یوں قلم بند کیا ہے، جیسے لکھاری اور قاری ایک ہی تانگے میں سوار شہر کا نظارہ کرتے چلے جارہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ لکھاری، بول اور قاری سن رہاہے لیکن دیکھ دونوں رہے ہیں۔
        کتاب کا مطالعہ ہمیں بھی اپنے ساتھ ساتھ یہ بتاتاہے کہ بہاولپور کی وجہ شہرت کیاہے، اس کی عظمت کے بلندمینار کیا ہیں اور اس شہر سے ہماری وابستگی دل لگی کے اسباب کیا ہوسکتے ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی، صادق پبلک سکول وکالج،وکٹوریہ ہسپتال، فرید گیٹ، اندرون شہر، مرکزی لائبریری اور میوزیم، فوارہ چوک، اور اس طرح کے دیگر مقامات کی سیاحت تو اس کتاب کا حصہ ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ مظہراقبال مظہر نے کشمیر اور بہاولپور میں مماثلت یا عدم مماثلت سمیت دیگر موضوعات کو بھی زیربحث لانے کی سعی کی ہے۔ انھوں نے تانگے کی سواری کو اس قدر خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے، کہ دل بے اختیار اس کے لیے مچلنے لگا ہے۔مصنف نے ادبی رنگ اوڑھتے ہوئے عام قاری کی دلچسپی کا سامان ایک تسلسل کے ساتھ بہم پہنچایاہے۔ ایک مقام پر وہ کشمیری ناک کا بھی ذکر کرتے ہیں جو پڑھے اور پھر سراہے جانے کے قابل ہے۔ جس طرح وہ بلبل چمنستانی اور شہباز ِ کوہستان کی بات کرتے ہیں، تو اس سے واضح ہوتاہے کہ فاضل مصنف ایک سلجھے ہوئے ادیب ہیں، جنھوں نے لکھنے سے زیادہ پڑھنے میں وقت صرف کیا ہے اور اس خوبی نے ان کی مہارت اور لیاقت کو دوچند کردیاہے۔ معمولی بات کو بڑی خوبی اور سلیقہ مندی کے ساتھ بیان کرنے کا ہنر صرف ایسا فرد ہی رکھتاہے جو مظہراقبال مظہر کی اس تخلیق میں جابجا دکھائی دیتاہے۔ پیش لفظ میں بھی جس خوبصورتی اور رعنائی کے ساتھ الفاظ کے موتی پروئے گئے ہیں، ان کی آب وتاب کے پیچھے اسی ہنرمندی کاماہتاب کارفرماہے، جو ایک مشکل کام کی سیاہ شب کو اپنی کاریگری کے اعلیٰ فن کے موجب نکھری دھوپ سے اجلے دن کے روپ میں پیش کردیتاہے۔


        سفرنامے کے آخری حصے میں دوافسانے دل مندر اور ایک بوند پانی بھی شامل ہیں۔ یہ دونوں افسانے سرائیکی رنگ وروپ لیے ہوئے ہیں اور یوں محسوس ہوتاہے جیسے سرائیکی وسیب ہی کے کسی فرد نے انھیں سرائیکی سے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ازخود مظہراقبال مظہر کے ذہن نارسا کا نتیجہ ہیں جنھوں نے سرائیکی وسیب کے سفرنامے کے بعد اسی وسیب کی کوکھ سے افسانوں کی تخلیق بھی عمل میں لائی ہے۔ دراصل یہ پوری کتاب  ہی خوبصورت افسانوں کا ایک حسین مرقع ہے۔ مصنف نے اگرچہ افسانوی رنگ وروپ اختیار کررکھاہے، لیکن بوجہ انھیں افسانوی اختتامیہ کا عکس نہیں دیا۔ وگرنہ یہ سفرنامے کے بجائے افسانوی مجموعہ کہلاتا لیکن شاید تخیل سے زیادہ حقائق کو مدنظررکھتے ہوئے اسے ترتیب دیاگیاہے تاکہ قاری تصوراتی دنیا کے بجائے حقیقی دنیا میں ہی بہاولپور کی سیاحت اور اس کی تاریخ سے لطف اندوز ہوسکے۔ پہلا افسانہ دل مندر سسی پنوں کی جدید داستان پیش کرتاہے جس میں محبت کاانداز پرانا ہے لیکن اس کا اظہاریہ نیا اور جوایک جانب سسی پنوں کی محبت پرمبنی ہے تو دوسری جانب ماں کی بے مثال محبت کا آہنگ بھی لیے ہوئے ہے۔ دوسرے افسانے میں تھر کے چہاراطرف پھیلی ازلی محرومیوں کا دل خراش تذکرہ شامل ہے۔
        بہاولپور میں اجنبی کی آخری سطریں پڑھنے کے بعد یہ شہر ہمارے لیے اور ہم اس شہر کے لیے اجنبی نہیں رہتے۔ قارئین میں شامل کوئی بھی مسافر، سیاح اور طالب علم اس شہر کے پلیٹ فارم پر اترتے ہوئے سیدھا ہوٹل جاکر اپناسامان رکھنے کے بعد شہر کی سیاحت کے لیے نکل سکتا ہے۔ وہ خود تانگے کے کوچوان یا رکشے کے ڈرائیورکو بتاسکتاہے کہ بھئی فلاں مقام پر لے چلو، اس کی اس نوعیت کی تاریخی اہمیت اور حیثیت ہے اور پھر وہاں سے فراغت کے بعد وہ اسی ڈرائیور سے یہ بھی کہہ سکتاہے کہ بھئی! فلاں بازار میں لے چلو، وہاں کھانے کی فلاں ڈش بڑی لذیز ملتی ہے۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ دل میں یہ امنگ بھی جاگتی ہے کہ ہم بھی ٹرین پکڑیں اور بہاولپور جااتریں اور جب پلٹیں، تو نت نئے مناظر آنکھوں میں بسے ہوں اور پھر یہی مناظر زندگی بھر ہمارا توشہ رہیں۔
٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact