تحریر: نقی اشرف

تبلیغی جماعت کے بارے میں میرا تاثر  ہمیشہ سے یہ رہا کہ یہ ترکِ دنیا یا با الفاظِ دیگر رہبانیت کا درس دینے والے لوگ ہیں مگر جب کبھی میں قمر رحیم جیسے لوگوں کو دیکھتا ہوں، اُن کی سرگرمیاں ملاحظہ کرتا ہوں تو کچھ دیر کے لیے سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ کیا میں اپنے تاثر کو کلی طور پر درست کہنے میں حق بجانب ہوں یا یہ جُزوی طور پر ہی درست ہے؟  قمر رحیم کو کیڑا ہے، ٹِک کر بیٹھنے والے نہیں ہیں۔ صورتِ حال جیسی بھی ہو، دل برداشتہ ہونے والے نہیں ہیں، ہاں کبھی قلم برداشتہ نظر آتے ہیں اور کبھی میدانِ عمل میں جادہ و پیماں۔ جن کاموں پر یہ نکلے ہوتے ہیں اُن میں خال خال ہی کسی کا  ساتھ میسر ہوتا ہے مگر ان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ انھیں افراز خان جیسا یارِ غار ہم پیالہ و نوالا ہے۔ یہ گزشتہ سال ہی کی بات ہے میں نے سوشل میڈیا پر دیکھا کہ یہ دونوں راولاکوٹ کے سیاحتی مقام گورو دوارہ سے کچرا چُن رہے ہیں ، پھر دیکھا ایک مہمان کو چڑیا گھر دکھانے چھوٹا گلہ  لے گئے اور اُسے ساتھ لے کر چڑیا گھر کے احاطے کی صفائی کررہے ہیں، پھر میڈیکل کالج کے پاس کچرا اُٹھاتے پائے گئے اور  دیگر نوجوانوں کے ساتھ دیوان بازار میں بھی میرے جیسے لوگوں کے کرتوتوں کو ٹھکانے لگایا۔ پھر کیا تھا، میں نے ہی نہیں شہر کے شہر نے دیکھا کہ ان کی تبلیغ یا ترغیب رنگ لے آئی۔ دیکھنے میں آیا کہ رسم جو اُن سے چلی تھی وہ باعثِ تقلید بنتے ہوئے کھڑک تک جا پہنچی۔  کھڑک سے درجنوں اصحاب عزیمت بروئے کار آئے اور اُنھوں نے ایک ہی دن میں کیراکی کے پُل سے نالے کی صفائی شروع کی اور  نالے سے شاپرز، پمپرز اور دیگر کچرا صاف کرتے کرتے دُور تک جا نکلے۔  میں  محب شیراز، شہزاد انور اور چند ہی دیگر لوگوں کو جانتا ہوں، ان سب لوگوں کے نام  اگر مجھے معلوم ہوتے تو طوالت تحریر کے باعث  میری تحریر کا حصہ نہ بھی بنتے تو میرے دل پر ضرور نقش ہوجاتے۔ مجھے کہنے دیجئیے کہ  صفائی کی یہ مہم اب رُکنے والی نہیں ہے کہ بات کھڑک سے صورتِ قافلہ آگے چلی ہے۔ مجھے اُمید ہے یہ مہم اب گاؤں گاؤں پہنچے گی۔ اس مہم میں ہر فرد کی زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ شرکت لازمی ہے، اُس سے صفائی تو ہوگی ہی مگر وہی فرد جب کہیں کچرا پھینکے کا ارادہ کرے گا تو اُس کے دل میں احساس جاگے گا اور  غالب امکان ہے کہ وہ اپنے ارادے سے باز رہے گا۔ ہم اکثر اس بات کا ماتم کرتے رہتے ہیں کہ بلدیہ صفائی نہیں کرتی، فلاں ترقیاتی ادارے کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے کچرے کے انبار ہیں۔

 اس میں دو رائے نہیں ہیں کہ ہمارے ہاں ان اداروں کی کارکردگی برائے نام ہے مگر ہم کبھی اس بارے میں نہیں سوچتے کہ اگر ہم لاکھوں لوگ جہاں جی چاہے وہاں کچرا پھینکتے رہیں گے تو  یہ ادارے سینکڑوں لوگوں کو بھی صفائی پر معمور کردیں، شہر کے صاف ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر  نہیں ہوسکتا۔ میں دو دہائیوں سے بلجیئم میں رہتا ہوں، جب بھی وطن جاتا ہوں تو واپس پہنچنے پر پہلا احساس صفائی کا ہوتا ہے۔ کیا آپ کے خیال میں یہاں صفائی کرنے والے سیکڑوں یا ہزاروں کی تعداد میں تعینات ہیں، نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ہمارے رولاکوٹ جتنے شہر میں ممکن ہے یہاں بھی اُتنے ہی لوگ اس کام کے لیے مختص ہوں گے،ہاں اُن کے پاس انفراسٹریکچر بہت اچھا ہے مگر یہاں صفائی کا اصل راز شہریوں کا احساسَ ذمہ داری ہے۔ سکولوں میں بچوں کو یہ باتیں سکھایا جانا نصاب کا حصہ ہے۔ کچرا پھینکنے پر شہریوں کو جُرمانے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ سڑک ،فٹ پاتھ اور کسی بھی پبلک پلیس پر آپ سیگریٹ پی کر ٹکڑا نہیں پھینک سکتے،تُھوک تک نہیں سکتے، ایسا کرتے ہوئے اگر آپ اتھارٹیز کی نظروں میں آجائیں تو جُرمانے سے کسی صورت نہیں بچ سکتے۔ مگر  ان تعزیرات  اور سختیوں سے پہلے ریاست نے کچرے کے لیے ایک سسٹم بنا رکھا ہے۔

ہر شہر کی بلدیہ نے اپنے مونو گرام والے تھیلے بنوا رکھے ہیں جو بلدیہ کے دفتر سمیت ہر چھوٹے بڑے سٹور پر برائے فروخت ہوتے ہیں۔  پلاسٹک سمیت ری سائیکل ہونے والی ہر چیز کے لیے الگ الگ تھیلے ہیں اور گل سڑ کر ختم ہوجانے والے کچرے کے لیے الگ تھیلے ہیں۔ آپ ایک تھیلے کی چیز دوسرے میں نہیں ڈال سکتے،اگر ایسا کرتے ہوئے آپ پکڑے جائیں تو جُرمانہ بھرنا پڑتا ہے۔ ہر گھر اور ہر دکان ہفتے کے کسی مخصوص دن گھر یا دکان کے باہر اپنے تھیلے رکھتے ہیں جو بلدیہ کی گاڑی اُٹھاتی جاتی ہے۔  ہر گھر اور دکان کو کچرے کا ماہانہ بل لازم ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں ایک بات میں وطن مالوف کے باسیوں کو لازم گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا بھر میں قیمت ادا کیے بغیر سہولت کا تصور کہیں بھی نہیں ہے۔ سہولت کی قیمت لازماََ چکانی پڑتی ہے۔ اگر آپ کو کوئی سہولت درکار ہے تو وہ مفت میں ملنے کا تصور  ذہن سے کھرچ کر نکال لیجیئے۔

ترقی یافتہ ملکوں میں کچرے کو ری سائیکل اور تلف کرنے کے لیے پرسسنگ پلانٹس لگائے جاتے ہیں مگر ہمارے جیسے غریب ملک میں یہ سب کہاں ممکن ہے۔ جو اقدامات ممکن ہیں اُن کے بارے میں ضرور سوچا جانا چاہیے۔ خیر سے نعیم خان میونسپل کارپوریشن کے منتخب میئر ہیں۔ وہ ایک دیرینہ سیاسی کارکن ہیں، مجھے سمیت سب عوام کو اُن سے بڑی اُمیدیں وابستہ ہیں۔ یہ بدقسمتی ہے کہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور فنڈز نہ مل سکے مگر ہر کام کے لیے بھاری فنڈز درکار نہیں ہوتے۔کچھ کام دماغ لڑانے سے بھی ہوسکتے ہیں اور میری ناقص رائے میں اگر بلدیہ بروئے کار آئے تو مقامی سطح پر کچرے کا مسئلہ کچھ نہ کچھ حد تک ضرور حل ہوسکتا ہے۔

نقی اشرف

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact