ڈاکٹر حامد حسن

میں نہیں جانتا تھا کہ میڈیکل سائنس اور پھر ہسپتال کی پیشہ ورانہ زندگی کی گو نا گوں مصروفیات میں اپنے شوق کی تکمیل مجھے ایسے موڑ پر لے آئے گی کہ میں مختلف اصنافِ ادب چھانتا پھروں گا۔ کہاں وہ پرائمری اور سیکنڈری سکول کی اردو میں درخواست، خطوط، کہانی و مضمون لکھنا اور کہاں نظم و غزل کے اشعار کی تشریحات میں صفحات سیاہ کرنا۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ یہ سب طبع زاد کرنے کو ملتا۔ لیکن میٹرک تک یہی کچھ رہا کہ اساتذہ یہ سب لکھ کر حوالے کرتے یا ہمیں ہی کاپی پر لکھوا دیا جاتا۔ جہاں اور جس جگہ استاد کا بتایا گیا ایک لفظ اوپر نیچے ہوا وہاں نمبر کٹ گئے۔
پھر ایف ایس سی میں خود سے تشریحات کرنے کا موقع ملا۔ وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ تشریح چاہے اشعار کی ہو یا کسی پیراگراف کی، اشعار کے بغیر ادھوری ہے اور نمبر کم ملیں گے۔ میرے لیے یہ بہت مشکل تھا۔ کیونکہ مجھے اشعار یاد ہی کہاں ہوتے تھے۔ اس لیے لکھنے لکھانے میں رکاوٹ ہی رکاوٹ رہی۔ اس کے برعکس، پڑھنے کا سلسلہ اردو الفاظ کو سمجھنے کے ساتھ ہی شروع ہوا اور ہنوز جاری ہے۔ اسی شوق نے آج نہج پر پہنچا دیا کہ میں افسانے کے لوازمات ڈھونڈنے کے چکر میں انشائیہ، کیفیہ اور نثر پارہ جیسی نئی چیزوں سے واقف ہو رہا ہوں۔
جہاں تک مجھے سمجھ آئی وہ یہ ہے کہ کہانی زندگی کا عکس ہوتی جو الفاظ کی صورت میں صفحہ قرطاس پر نمودار ہوتی ہے اور حقیقی زندگی کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ جبکہ افسانہ زندگی کے کسی ایک پہلو کو احاطہ کرتا ہے۔ بنیادی لوازمات دونوں کے ایک ہی ہیں۔ مرکزی خیال، پلاٹ، کردار، مکالمے، منظر نگاری اور کہانی پن۔ پلاٹ میں بھی وہی چیزیں انکشاف، کشمکش، عروج، زوال اور نتیجہ دونوں طرف موجود ہیں۔ داستانوں کے بعد ایک دور تھا کہ جب کہانی کو عروج حاصل تھا تو بد ازاں افسانے کا دور آیا۔
لیکن ادبِ جدید میں افسانے کو مختصر کر کے، صندوق اور صندوقچے کی طرز پر افسانچہ کر دیا گیا۔ لیکن شاید دونوں میں کبھی فرق واضح نہیں کیا گیا۔ یا کم از کم حدود وضع نہیں کی گئیں کہ کس مقدار سے کم ہو گا تو افسانچہ اور افسانہ کہاں جا کر بنے گا۔ یہاں ایک بات واضح کر دوں کہ میں بطور قاری اس چیستان میں پھنس گیا ہوں۔ ادبا اور اساتذہ سے گزارش ہے کہ وہ میری اس الجھن کو سمجھیں اور میری رہنمائی فرمائیں۔ مختصر افسانے کی مد میں ابتداً سعادت حسن منٹو کے مختصر افسانے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ انھیں طوالت و اختصار سے ہٹ کر ”مختصر افسانے“ ہی کہا گیا ہے، افسانچے نہیں کہا گیا۔ پھر افسانچہ کہاں سے کہاں تک ہے۔ مزید یہ کہ جو تیس لفظی، پچاس لفظی اور سو لفظی نثر پارے سامنے آ رہے ہیں انھیں کس قانون کے تحت افسانچے کے ذیل میں ڈالا جا رہا ہے؟ یا کیا یہ ضروری ہےکہ پچاس سے ڈیڑھ یا دو سو لفظی افسانہ ہی ’افسانچہ‘ کہلائے گا۔
یہاں مجھے ایک اور صنف یاد آرہی ہے جسے اس کے موجد یا دریافت کنندہ مائکرو فکشن یا مائکروف کہتے ہیں۔ مائکروف افسانے کی وہ قسم ہے جو اردو کی تمام اصناف کی طرح انگریزی یا مغربی ادب سے ہی اردو ادب میں وارد ہوئی ہے۔ لیکن اس کی نہ صرف حدود و قیود وضع کر لی گئی ہیں بلکہ اس صنفِ ادب پر اعلیٰ پیمانے پر کام بھی خوب ہو رہا ہے۔ افسانے کی وہ قسم جو کم سے کم تین سو الفاظ سے چھے سو الفاظ کی قید میں ہو اور جس میں افسانے کے تمام لوازمات بدرجہ اتم موجود ہوں مائکرو فکشن یا مائکروف کہلاتی ہے۔ اگر اس کی اردو وضع کی جائے تو اسے افسانچے سے بھی چھوٹی صنف یعنی ’افساں پارہ‘ (نثر پارہ یا سخن پارہ کی طرز پر) کہا جائے گا۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب افسانچے کو ہزار سے پندرہ سو اور افسانے کو دو ہزار سے زائد الفاظ تک نامزد کر دیا جائے۔ اگر ایسا ہو جائے تو جدید تیس لفظی، پچاس لفظی اور سو لفظی وغیرہ رہ جاتے ہیں، جنھیں ’صد لفظی‘ یا ’منظر پارہ‘ یا اسی طرح کا کچھ نام دیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اتنے کم الفاظ میں کم از کم افسانے کے ایک دو لوازمات ہی سمو سکتے ہیں، پورے لوازمات کو استعمال میں لانا ممکن نہیں ہے۔ بس ایک رپورتاژ جس کا اختتام انکشاف پر ہو رہا ہے، ’منظر پارہ‘ نہیں تو کیا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact