Sunday, May 26
Shadow

ریز گاری کا دوسرا پڑاؤ، تحریر: ارشدابرار ارش

تحریر: ارشد ابرار ارش
لکھتے ہوۓ کوئی قلم کار اپنی کہانی کا مقدر نہیں جانتا بالکل جیسے آپ اور میں اپنے آئندہ کل بلکہ اگلے پل سے بھی بے خبر ہیں ۔
کوئی کہانی کار نہیں جانتا کہ قاری اُس کے کرداروں کو پلکوں پر بٹھاۓ گا یا راندہ درگاہ ٹھہراۓ گا ۔
پا کر بھی بے توجہی کی موت مر جاۓ گی یا پھر اُس کم گو شخص کی مانند زندہ رہے گی جسے بھری محفل میں بھی شمار نہیں کیا جاتا ۔ دورانِ اشاعت میرا خیال تھا کہ “ریزگاری” اپنا کتابی قالب

پا کر بھی بے توجہی کی موت مر جاۓ گی یا پھر اُس کم گو شخص کی مانند زندہ رہے گی جسے بھری محفل میں بھی شمار نہیں کیا جاتا ۔
 فلم یا ڈرامے کے اُن اضافی کردارں کی طرح جو مرکزی اداکاروں کی کہانی مکمل کرنے کیلیے دو چار لمحوں کیلیے سکرین پر نمودار ہو کر ہمیشہ کیلیے پسِ پردہ چلے جاتے ہیں ، میری” ریزگاری” بھی چار چھ لوگوں کی توجہ سمیٹے گی ،  ہر نوآموز قلمکار کی طرح دعاٶں ، نیک تمناٶں اور مبارکبادوں کے پیغامات سے میری جھولی لبالب بھر دے گی اور  بس دیمک کا رزق بڑھانے کے لیے گھر کے سٹور میں کسی خالی کونے پر قابض ہو جاۓ گی  ۔
بھلا ندی کنارے بیٹھے بچے کے ریت محل کی زندگی کتنی کوئی  طویل ہو سکتی ہے ؟
چار چھ ساعتیں اور بس ۔
لیکن نہیں ۔۔۔۔ “ ریزگاری “نے میری ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔  میرے سان گمان سے بڑھ کر مجھے حیران کر دیا ۔ 
میں اب کیونکر تسلیم کروں کہ یہ کتابوں  کی آخری صدی ہے ۔۔۔ ؟
جبکہ صرف ڈیڑھ ماہ کی قلیل مدت میں “ریزگاری” کا دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہو کر میرے ہاتھوں کی حدت بڑھا رہا ہے ۔
کتاب پڑھنے والے ہر انسان کا شکریہ
کتابوں کو مان دینے والے ہر انسان پر دل و جان سے فدا ۔

“ریزگاری” کا یہ دوسرا پڑاؤ آپ تمام احباب کے نام جنہوں نے مجھے اور میری” ریزگاری “کا مان رکھا ، میرے نام پر اور لفظوں پر اعتبار کیا ۔
اسی محبت کا بدل یہ ہے کہ اب “ ریزگاری “کے دوسرے ایڈیشن میں اُن احباب کے لیے آسانی پیدا کر رہا ہوں جو کتاب کے شائق ہیں مگر تنگ دامنی آڑے ہے ۔
اب میری ریزگاری آپ کو 50 فی صد  یعنی صرف 600 روپے میں دستیاب ہوگی ۔۔۔ ڈاک خرچ سمیت 800 روپے
شکیل احمد چوہان کہتے تھے کہ قیمت تو صرف صفحات کی ہوتی ہے ورنہ تو ہر کتاب انمول ہوتی ہے ۔
بالکل درست کہتے ہیں ۔۔۔ کسی قلمکار کیلیے آدھی راتوں کو جاگ جاگ کر ضائع کی گئی بینائی ، ذہنی تھکاوٹ یا لکھتے ہوۓ انگلیوں کی اکڑاہٹ کا مول تو کچھ ہو ہی نہیں سکتا ۔
جینیٹ ونٹرسن نے کہا تھا
” کتابیں اور دروازے ایک ہی چیز ہیں آپ انہیں کھولتے ہیں اور دوسری دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں “
میں بھی ایک بار پھر وہی کہوں گا جو اکثر کہتا ہوں:
“ریزگاری “میری ، آپ کی اور ہم سب کی دنیا ہے جہاں ان گنت انسان اپنی ہی ذات کا عکس اٹھاۓ اپنی پہچان کا  نشان ڈھونڈ رہے ہیں ۔
 اس ڈھائی سو صفحاتی کائنات کا در کھولیے کہ ایک دنیا آپ کی منتظر ہے “
کتاب آرڈر کرنے کیلیے دیے گئے نمبر پر واٹس ایپ  کر سکتے ہیں
0092340 7362445

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact