تحریر:آرسی رؤف         

چار جنوری سن اٹھارہ سو نو کو  فرانسیسی گھرانے میں ایک بچے نے جنم لیا جس کانام لوئس بریل رکھا گیا۔بچہ ہر لحاظ سے تنومند تھا۔ اس کا باپ گھوڑوں کی زین سلائی کرنے کا کام کرتا تھا ۔تین سال کی عمر میں اپنے والد کے ٹول باکس سے چمڑے کی سلائی کرنے والے سُوئے کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس نے وہ سُوا اپنی آنکھ میں مار لیا۔جس کی بدولت اس کی آنکھ کی بینائی زائل ہوگئی۔شومئی قسمت اگلے تین ماہ کے اندر دوسری آنکھ تک انفیکشن پھیل گیا اور  سوزش  کا اثر دوسری آنکھ کو بھی متاثر کر گیا اب لوئس بریل  وہ ننھا سا بچہ، اپنی دونوں  ہی آنکھوں سے محروم ہوچکا تھا۔

عزم و ہمت کی مثال یہ بچہ جسے دنیا آج بریل سسٹم کے بانی کے نام  سے جانتی ہے ۔اس نے صرف گیارہ برس کی عمر میں  بریل سسٹم پر کام شروع کر دیا۔اس وقت تک نابینا افراد کی تعلیم کے حصول کے لئے زیادہ مواقع میسر نہیں تھے۔ لیکن لوئس بریل اپنی ذہانت اور مستقل مزاجی کے باعث فرانس انسٹیٹیوٹ فار بلائنڈ  یوتھ  تک رسائی اور وظیفہ کے حصول میں کامیاب ہو گیا۔

 ۔بریل ابھی زیر تعلیم ہی تھا کہ اس نے اعداد و حروف کے ایسے علامتی  نظام پر کام کرنا شروع کر دیا جس کے تحت بآسانی کسی بھی تحریر  کو پڑھا جا سکے اور لکھنے پڑھنے کا عمل آسان ہو جائے۔اس سے پہلے باربیئر نامی شخص اس پر کام کر چکا تھا۔باربیئر فرانسیسی  شخص تھا جو کہ   نپولین بونا پارٹ کی فوج کا حصہ تھا اس نے رات کے وقت لیمپ روشن کرنے کے نتیجے میں  مخالفین کے متوقع حملوں سے بچنے  کے لئے  ایسےنظام کو متعارف کروایا جس کی بدولت رات کے اندھیرے میں بھی پیغامات وصول کئے جا سکتے تھے۔

 بریل نے اسے مزید موثر بنا دیا جس کے تحت اس کا دائرہ کار موسیقی اور باقی علوم کے حصول کے لئے وسیع تر  ہو گیا۔

اٹھارہ سو چوبیس میں جب بریل  نے اپنا یہ کار نمایاں پیش کیا وہ صرف  پندرہ سال کا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ چار جنوری یعنی لوئس کی پیدائش کے دن کو  عالمی یومِ بریل کے طور پر  منایا جاتا ہے. سن دو ہزار انیس  سے  ہر سال اس دن کے منانے کا مقصد نابینا افراد کو بریل سسٹم کے استعمال، اس کی اہمیت اور نابینا افراد کے حقوق سے  متعلق مکمل  آگاہی فراہم کرنا ہے۔

اب یہ بریل سسٹم ہے کیا۔ بریل مشین دراصل ہاتھوں کے لمس کے ذریعے، اعداد و حروف کے لئے، چھے چھے ابھرے ہوئے  نقطوں کی صورت میں مختلف علامتوں کا استعمال کرتے ہوئے نابینا افراد کو لکھنا،پڑھنا ، ریاضی،سائنس،حتی کہ موسیقی سکھانے کے لئے بھی مدد فراہم کرتی ہے۔ گویا ایک طرح سے بریل نقطوں پر مشتمل وہ نظام  ہے جس کی بدولت نابینا افراد اپنے ہاتھوں کے لمس سے بصارت کا کام لیتے ہوئے   مواد  کا مطالعہ کرتے ہیں جیسا کہ  عام افراد اپنی آنکھوں کا۔

 ان کتب کو نابینا افراد کےلئے مخصوص بصری رسم الخط میں چھاپا جاتا ہے۔

نابینا،افراد اپنا ایک یا دونوں ہاتھوں  کو ہر سطر پر بائیں سے دائیں گھماتے ہوئے مطالعہ کرتے ہیں۔دونوں ہی ہاتھوں کی مدد سے مطالعہ کا یہ عمل جاری رہتا ہے  البتہ انگشت شہادت عمومی طور پر زیادہ متحرک رہتی ہے۔مطالعہ کے دوران پڑھنے کی اوسط رفتار ایک سو پچیس الفاظ فی منٹ ہوتی ہےجو کہ دو سو الفاظ فی منٹ کی حد کو بھی چھو سکتی ہے۔گویا بریل حروف تہجی کا استعمال کرتے ہوئے نابینا افراد تحریر شدہ الفاظ کا بآسانی مطالعہ اور پرکھ کر سکتے ہیں۔تحریر کے متن کے  الفاظ کے ہجے، رموز اوقاف،مواد کی مختلف پیروں میں تقسیم اور حاشیوں سے بآسانی   آگاہ ہو سکتے ہیں۔گویا کسی بھی شعبہ زندگی سے متعلق کا علم کا حصول ہو، کاروباری لکھت پڑھت یا فارغ اوقات کے مشاغل بریل سسٹم کی بدولت سب ممکن ہے۔

انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق بھی بریل کو نابینا افراد کے ایک دوسرے کے ساتھ میل جول، اظہار رائے کی آزادی اور حصول علم کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔

کووڈ کی لہر کے دوران بصارت سے محروم افراد کے لئے بریل کی اہمیت اور بھی بڑھ گئ

۔ایتھوپیا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر (اور ایچ سی ایچ آر) نے پیغامات کی فراوانی کے لئے بریل ورژن کو بہتر بنانے پر زور دیا۔یونیسف نے معلومات اورآگاہی پر مبنی  نوٹ جن  کثیر النوع زبانوں میں جاری کئے۔ان میں نابینا افراد کے لئے بآسانی رسائی کے طریقہ کار کے تحت  بریل کو مدنظر رکھا گیا۔

اس نظام کی کامیابی کا انحصار اسی بات پر ہے کہ اسے ہاتھوں کی پوروں کے لئے موزوں علامتی نظام کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔

بریل کے ساتھی طلبہ نے اس سسٹم کا خیر مقدم کیا اور اس کا استعمال فوری طور پر شروع کر دیا لیکن وسیع پیمانے پر اس کو اتنی پذیرائی فوری طور پر نہ ملی۔کہیں اٹھارہ سو چون یعنی لوئس کی وفات کے  دو سال بعد  پیرس میں اس سسٹم کو باقاعدہ دفتری حیثیت دی گئی۔ انیس سو بتیس میں انگریزی زبان بولنے والوں کے لئے عالمگیر بریل کوڈ  کو اس وقت دفتری حیثیت سے اختیار کرلیا گیا ،جب برطانیہ اور امریکہ کی نابینا افراد کی نمائندہ ایجنسیوں نے لندن میں منعقدہ اجلاس میں ایک معیاری انگریزی بریل سسٹم پر اتفاق کیا۔

انیس سو باون میں ماہرین سسٹم میں مزید بہتری لانے کے لئے غوروفکر کرنے کے لئے دوبارہ لندن میں یکجا ہوئے۔

ہاتھ سے بریل لکھنے کے لئے ایک  سلیٹ کا استعمال کیا جاتا ہے جو دو دھاتی پلیٹوں پرمشتمل ہوتی ہے جن کے درمیان ایک کاغذ کو رکھے جانے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔کچھ سلیٹوں ک نیچے کاغذ رکھنے کے لئے  لکڑی سے بنی تختی سی موجود ہوتی ہے۔اوپر کی دو دھاتی پلیٹیں اور لکڑی کی معاون پلیٹ میں ایک کھڑکی سی بنی ہوتی ہے۔نیچے کی پلیٹ میں بریل نقطوں  کی طرز پر چھے خفیف گڑہے ہوتے ہیں۔ کاغذ پر گڑھوں کی سمت دباؤ ڈالنے کے لئے سٹائلس کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اس پر نقطے ابھر آئیں۔

لکھتے وقت دائیں سے بائیں لکھا جاتا ہے تاکہ جب اس الٹایا جائے تو اسے بائیں سے دائیں پڑھا جا سکے۔

 اس 

کے لئے ایک مخصوص مشین کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ پہلی بریل تحریری مشین فرینک- ایچ ہال نے اٹھارہ سو بانوے میں ایجاد کی ۔آج کل جو برقی مشین استعمال ہو رہی ہے وہ بالکل برقی ٹائپ رائٹر کی مانند ہی ہے.

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف بریل کوڈ جس میں  لٹریری بریل کوڈ، نیمَتھ کوڈ(جس کے تحت ریاضی اور سائنس کی تعلیم ممکن ہوئی)،کچھ مخصوص کوڈ جن کے تحت میوزک، شارٹ ہینڈ وغیرہ سیکھا جا سکتا ہے متعارف کروائے گئے ہیں جو بصارت سے محروم افراد کے لئے بہتر زندگی کی نوید ہیں،تاہم  آنجہانی لوئس بریل کا پیش کردہ سسٹم تاحال تمام دنیا میں اسی طرح  استعمال ہو رہا  ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact