Monday, May 27
Shadow

قانتہ رابعہ کی “دل پیار کی بستی”۔ تاثرات: ارشد ابرار ارش

تاثرات: ارشد ابرار ارش

لفظ ہر کسی پر مہربان نہیں ہوتے ۔ کہانیاں ہر ایک پر تھان کی طرح نہیں کھلتیں ۔
خیال کی مچھلیاں مشاہدے کے جال سے آر پار ہو جاتی ہیں اگر قلم کار زمانہ شناس نہ ہو ، ماہر نباض نہ ہو تو۔
اور قانتہ رابعہ جی کی زمانہ شناسی کا علم مجھے اُن کی کتاب “ دل پیار کی بستی “ سے ہوا ۔
یہ چھوٹی سی کتاب ، کہانیوں سے بھری پڑی ہے اور اُن  تمام کہانیوں کا محور و مرکز ہمارا معاشرتی و سماجی نظام ہے ۔
اپنی کتاب میں انہوں نے معاشرت ، خاندانی نظام ، عائلی زندگی اور رشتوں کے پُرپیچ تضادات،  انفرادی اور عمومی رویوں میں رچ بس چکی کجی فہمی ، عدم برداشت ،
خود سے کمتر کی تحقیر  و تذلیل ، ماحولیاتی آلودگی  اور انسانی اخلاقی ابتری جیسے بیشتر موضوعات کو قلمبند کیا ہے
یہ تمام کہانیاں ہر طبقہ فکر کیلیے اپنے اندر اخلاقی اور تربیتی سبق سموۓ ہوۓ ہیں ۔
قانتہ جی بیان کی ماہر ہیں ، شاٸستگی ان کی نثر کا اولین تاثر ہے۔ استعاروں اور ضرب الامثال سے مزین جملے ان کی کہانیوں کے حسن کو چار چاند لگاتے ہیں ۔ کسی بھی خیال کو کہانی کے قالب میں ڈھالنا وہ بخوبی جانتی ہیں۔
آج کے اس دورِ پر فتن میں جو قلمکار اخلاقی و معاشرتی اصلاح کا عَلم اور قلم تھام کر لکھ رہے ہیں انہیں سراہنا ضروری ہے ۔
 نسل نو کی تربیت کیلیے ایسی کہانیاں اور قلمکار
لازم و ملزوم ہیں کہ جہاں سوشل میڈیائی  دور میں قدم قدم پر اب نو خیز ذہنوں کے بھٹکنے کا سامان موجود ہے وہاں کچھ لوگ ہیں جو ان کیلیے رہبر و رہنما ہیں ۔
ان کی حوصلہ افزائی  اس لیے بھی ضروری ہے اپنے تجربات اور افکار سے اطفال کیلیے لکھی گئی یہ کہانیاں۔۔۔ عملی زندگی کے پرخار و پرپیچ راستوں کیلیے مشعل راہ ہیں
 کیا آپ یقین کریں گے کہ اس سے قبل قانتہ جی اپنے کالموں کی 2 کتابیں ، افسانوں کی 14 کتابیں ، ادب اطفال کیلیے 18 کتابیں اور ایک سفرنامہ حج لکھ کر ایک ایسا سنگ میل عبور کر چکی ہیں جہاں تک پہنچنے کیلیے ایک عمر کی ریاضت درکار ہوتی ہے ۔
جب آپ دنیا کی کسی بھی زبان و ادب کیلیے اتنا لکھ لیتے ہیں تو یہ توشہ آپ کی زندگی بھر کیلیے کافی ہوتا ہے ۔
 ایک نسل کیلیے آپ کا نام فخریہ استعارہ اور پہچان بن جاتا ہے مگر کیا ہے یہاں گمنامی مقدر ہے ۔
اگرچہ یہ ادبی سرمایہ اب انہیں ہمیشہ زندہ رکھنے کیلیے کافی  ہے لیکن وہ مسلسل لکھ رہی ہیں اور قلم کی مزدوری تاحال جاری و ساری رکھے ہوۓ ہیں  اور آئندہ ہ کچھ عرصہ میں ان کی نئی  کتابیں بھی پڑھنے کو ملنے والی ہیں۔
پریس فار پیس پبلیکیشنز ادارے سے شائع ہوئی  اس کتاب کی طباعت و اشاعت نہایت دیدہ زیب ، نفیس اور شاندار ہے ۔ یہ ادارہ کتابوں کی دنیا میں اب اپنا ایک نام و مقام حاصل کر چکا ہے اور اب کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا۔
قانتہ جی مبارکباد قبول کیجیے اور دعا ہے کہ آپ کا زرخیز ذہن یونہی تاعمر قرطاس پر اخلاقی و اصلاحی کہانیاں بکھیرتا رہے ۔۔۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact