Friday, May 24
Shadow

اظہارِ محبت تحریر: یاسر خان بلوچ

تحریر: یاسر خان بلوچ

میری زندگی مجھے تم سے محبت ہے اور یہ محبت کسی خاص وجہ کی محتاج نہیں یہ محتاج نہیں ہے کہ تمہاری آنکھیں اچھی ہوں یا تمہارے بال لمبے ہوں نہیں یہ کسی وجہ کی محتاج نہیں بلکہ یہ تو قیام رکوع ، سجدے کے صدقے اور تہجد کے صدقے اور ان تاک راتوں میں قیام اور “حسبنااللہ و نعم الوکیل” کے ذکر اور تسبیح کے صدقے پہ ہے اور بڑھتی جا رہی ہے ۔

      اگرچہ میں نے محبت کا چہرہ نہیں دیکھا میں نے تمہیں دیکھا ہے محبت کی کوئی صورت ہوتی تو بلکل تمہارے جیسے ہوتی اگر محبت بول سکتی تو اس کا لہجہ تمہاری طرح کا ہوتا کیونکہ کہ میری جان تم وہ ہو جس کا کوئی مول نہیں ۔

      مجھے تم سے محبت ہے کیوں یہ پیار نہیں کیونکہ میری زندگی پیار تو ہر کسی سے ہو سکتا ہے کسی کے لفظوں سے، زرد پتوں سے ، جنگلوں سے ، لمبی سڑک سے، جھیل کے کنارے پڑے کسی بڑے پتھر سے اسلیئے مجھے آپ سے صرف محبت ہے۔ محبت ہر کوئی ہر کسی سے نہیں کر سکتا محبت بس ایک سے ہوتی ہے اسی سے شروع اسی پر ختم ۔

      محبت کا رشتہ ایک معصوم پرندے کی طرح ہوتا ہے اگر اسے سختی سے پکڑا جائے تو مر جاتا ہے اگر نرمی سے پکڑا جائے تو اڑ جاتا ہے لیکن اگر محبت سے پکڑا جائے تو ساری عمر ساتھ نبھائے گا ۔

      محبت میں سختی اور باؤنڈری نہیں ہونی چاہیئے اگر دلوں کی باؤنڈری کر کے محبت کی حفاظت کی جائے تو یہ محبت کو خود ہی محدود کرنا ہے محبت کو تو سمندر کی طرح ہونا چاہیئے جس کی نہ حد ہو، نہ گہرائی ہو، اور نہ ہی مقدار کا تعین کیا سکتا ہو۔ اتنا ضرور ہے کہ جب سے میں نے تم سے محبت کی ہے اپنے دل پر ہمیشہ کیلئے تالے لگا لیئے ہیں اور یہ اسلیئے نہیں کے تم نے کوئی حد رکھی ہو بلکہ مجھے اب کسی اور سے نہیں چاہیئے ۔

      میں اپنی اس محبت کیلئے تمہاری انگلیوں میں ہیرے کی انگوٹھی نہیں سجا سکتا البتہ میں نے اپنے ہاتھ کی انگلی میں ایک تمہارے نام کی انگوٹھی ڈال رکھی ہے جسے روز چومتا ہوں۔ میرے دل میں بس ایک آس ہے کہ جب تم آؤ تو تمہارے ماتھے پر میری محبت کا ٹیکا چاند کو رشک کرنے پر مجبور کر دے ۔

      لوگ کہتے ہیں کہ محبت دکھ دیتی ہے لیکن میں نہیں مانتا محبت دکھ نہیں دیتی لوگ دکھ دیتے ہیں لوگوں کی جھوٹی اپنائیں دکھ دیتی ہیں لوگوں کے تلخ رویئے دکھ دیتے ہیں۔ لوگوں کو اپنے رویئے درست کرنے چاہئیں ۔ محبت تو ازل سے خوبصورت ہے ۔

      سنوں جاناں!! کھونا اور پانا محبت نہیں ہوتا بلکہ محبت تو ادب ہے، لحاظ ہے، ایک دوسرے کی پکار پر لبیک ہونا ہے یہ تو ایک احساس ہے جس سے ہو جائے بس وہی خاص ہے۔

      آخر میں میری جان صبر سے کبھی بھی نہ اکتا جانا کبھی ہار نہ مان لینا کیونکہ اگر اللہ چاہے تو پلک جھپکنے میں تمہاری خواہش پوری کر دیتا ہے ۔اس سے تمہاری امید اور فکر پوشیدہ نہیں وہ آپکی حالت کو ٹھیک کرنے سے عاجز نہیں ہو سکتا وہ آپکا امتحان لے رہا ہو اللہ بار بار دعا مانگنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact