Friday, May 24
Shadow

تیسرا (افسانہ )|تحریر: رفعت رفیق

تحریر: رفعت رفیق

اس جدید طرز کی آبادی کے عین وسط میں بنائے گئے اس خوبصورت  پارک میں روزانہ شام کو چہل قدمی کرنا ایک عرصے سے میرا معمول ہے۔شام کا وقت،غروب ہوتا  ہوا سورج،گھونسلوں کو لوٹتے پرندے،آسمان پہ پھیلی شفق  ،یہ سب چیزیں مجھے اپنی اور کھینچتی  ہیں اور ایک نامعلوم سی اداسی کی کیفیت  مجھے اپنی روح میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔

سمینٹ اور کنکریٹ  سے انسانوں کے اپنے لئے بنائے بندی خانوں میں میرا دم گھٹتا ہے  ۔اور میں سانس لینے کوبے ساختہ فطرت کی قربت میں کھنچا چلا آتا ہوں۔زندگی کی ہمہ ہمی  سے چرا کر میں چند لمحے اپنے ساتھ گزارتاہوں اور قطرہ قطرہ سکون اپنے اندر اترتا محسوس کرتا ہوں۔کائنات میں پھیلے عمیق سکوت  کی تال پر میری روح محو رقص ہوتی ہے۔یوں اگلے دن کارزار حیات میں اترنے کے لئے تازہ دم ہوجاتا ہوں۔

لیکن آج طبعیت کچھ مضمحل سی ہے۔اس لئے تھوڑی دیر چلنے کے بعد میں پرسکون گوشے میں پڑے بینچ کی اور بڑھ گیا۔اس پارک میں یہ میرا من پسند گوشہ ہے۔لیکن بینچ آج خالی نہیں تھا۔ایک نوجوان عمر لگ بھگ بیس بائیس   سال اپنے خیالات میں منہمک بیٹھا تھا۔میں نے قریب جاکے سلام علیکم کہا۔جواب ندارد۔۔۔میں نے بینچ پہ بیٹھتے ہوئے نرمی سے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔تو وہ  چونکا جیسے خواب سے جاگ اٹھا ہو۔خالی خالی نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا۔

میں نے ہلکی مسکراہٹ  کے ساتھ دوبارہ اس پہ سلامتی بھیجی جس کا جواب نہایت سنجیدگی سے ملا۔بڑھی شیو،ملگجا لباس آنکھوں کے نیچے ہلکے کئی راتوں کی بے خوابی کی چغلی کھا رہے تھے۔صدیوں کی تھکن اور رائیگاں مسافتوں کی دھول تھی اس کے چہرے پہ۔میرے دل میں ہمدردی کی ایک لہر اٹھی۔میرے بیٹے کی ہی  عمر کا تھا وہ۔۔۔اس کی نظر میری جانب اٹھی لیکن بالکل بے تاثر نظر۔دیکھ کر نہ دیکھنے والی نظر۔

بےساختہ میں نے اس کے کندھے کو سہلایا ،وہ جیسے اپنے آپ میں لوٹا اتنی سی ہمدردی نے بھی اس کے لئے نشتر کا کام کیا۔وہ میرے کندھے سے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگا۔بنا کوئی سوال کئے میں نے اپنے بازو اس کے گرد حمائل کردئیے۔تو وہ خود ہی بتانے لگا۔۔وہ مجھے چھوڑ رہی ہے۔ایک تیسرے شخص کے لئے ،مجھے چھوڑ کے جارہی ہے۔

رونے کے درمیان اس نے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اپنی  بپتا سنائی۔۔کچھ دیر رونے کے بعد اس کا من کچھ ہلکا ہوا تو جیسے شرمندگی نے اسے گھیر لیا۔کسی اجنبی کے سامنے رونے پہ نادم ہوکے اس نے نظریں چرائیں۔ ٹیک اٹ ایزی ینگ مین۔میں نے اسے تسلی دی۔۔میں نعیم مشہدی ہوں۔تم؟؟؟ میرا نام حمزہ ہے۔اوکے  تو حمزہ آو کہیں بیٹھ کے اچھی سی کافی پیتے ہیں۔بلکہ یوں کرتے ہیں کہ میرے گھر چلتے ہیں۔

سکون سے بیٹھ کے گپ شپ کرتے ہیں۔میں بھی فارغ ہوں۔وہ ایک معمول کی طرح خاموشی سے میرے پیچھے چل پڑا۔ملازم کو دو اچھی سی کافی تیار کرنے کا کہہ کر ہم لان میں پڑی کرسیوں پر آبیٹھے۔۔پورے چاند کی رات تھی۔دودھیا چاندنی کا فسوں چاروں اور پھیلا تھا لیکن میرا مہمان ہر چیز سے بے نیاز اپنے خیالوں میں گم تھا۔۔۔

میں نے اور نیلم نے یہ گھر بہت شوق سے بنوایا تھا۔

نیلم؟؟؟اس نے  چونک کر بے ساختہ پوچھا

میری بیگم نیلم۔۔۔میں نے جواب دیا

اوہ۔۔وہ پھر سے خاموشی کے کنویں میں اتر گیا۔۔اور میں خاموشی سے اس کا جائزہ لینے لگا۔۔کچھ ہی دیر میں ملازم کافی تیار کرکے لے آیا۔۔میری   اور نیلم کی پسند کی شادی تھی۔اس نے چونک کے میری طرف دیکھا۔۔۔بہت سی مخالفتیں مول لے ہم نے شادی کی تھی۔۔لیکن چھ ماہ صرف چھ ماہ میں ،ہمیں اندازہ ہوگیا کہ کس قدر غلط فیصلہ کیا تھا ہم نے۔

اب اس کی آنکھوں دلچسپی کی چمک نظر آنے لگی ۔۔محبت کا رنگ بہت جلد اتر گیا  یا شاید ہماری اپنی اصلیت عیاں ہوگئی تھی۔شروع میں بےزاری پھر روز روز  کی دانتا کل کل ۔بظاہر کوئی  ایسی بڑی وجہ نہیں تھی۔لیکن دراصل ہماری توقعات بہت بڑی تھیں ۔اپنے گھر میں میں نے اپنی ماں کو دیکھا تھا  سو میرے سامنے میری ماں کا ماڈل تھا۔۔سارا وقت گھر داری کے دھندوں میں الجھی ہوئی ،اپنے آپ سے یکسر لاپرواہ،سادہ سا لباس ۔گھر پہ اباجان کا رعب تھا خود ہماری ماں ہرکام اباجی کی اجازت سے کرنے کی عادی تھیں شاید قدرتی طور پر یا ماں  کی نرمی نےاباجی کو انتہائی نازک مزاج بنادیا تھا ،ذرا سی خلاف  مزاج بات ہوئی  نہیں اور ابا کا پارہ ساتویں آسمان پہ پہنچا نہیں ۔اس پہ مستزاد طلاق کی دھمکی۔۔اس وقت یہ سب کچھ مجھے بہت برا لگتا۔اماں کی  آنکھیں ہروقت نم رہتیں ۔۔میں سوچتا کہ ابا کا رویہ کس قدر منفی ہے اور اذیت رساں بھی۔۔۔یہی سب کچھ دیکھتے  ہم عمر کی سیڑھیاں چڑھتے گئے۔۔۔لیکن ان گزرتے سالوں میں،میرا ابا کے ساتھ انسیت کا  یا دوستانہ تعلق قائم نہ ہوسکا۔۔۔وہ ہمارے لئے ایک ایسا وجود ضرور تھے جو بن کہے ہماری ضروریات پوری کردیتے  لیکن انکا  خوف ان سے قربت میں مانع رہا۔۔۔اس وقت لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا کہ ابا کے جس رویے کو میں برا سمجھ رہا ہوں وہی رویہ آہستہ آہستہ میرے اندر بھی پروان چڑھ رہا ہے۔۔میں بھی عورت کو بے دام غلام کے زاویے سے دیکھنے لگا تھا۔

لیکن نیلی نئے دور کی تعلیم یافتہ لڑکی تھی۔۔جو اپنے حقوق سے بخوبی واقف تھی۔۔بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ کمپرومائز کرنا یا ایثار جیسے لفظوں سے بالکل واقف نہ تھی۔۔۔تو یوں سمجھو کہ انا کی جنگ تھی جس میں ہم دونوں مقدور بھر ایندھن ڈالتے رہتے ۔۔۔ سالوں ہمارا یہی معمول رہا۔۔۔ایک دوسرے سے بیزار اپنی اپنی انا کے اسیر۔۔۔لیکن  حیرت کی بات یہ تھی الگ ہونے کا نہ اس نے کہا نہ مجھے خیال آیا۔۔۔ایک ٹھنڈی سانس میرے بھر کےمیں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ چہرے پہ بچوں سی معصومیت لئے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا 

 پھر کیا ہوا ؟؟؟وہ بے صبری سے بولا

یونہی شادی کودس سال گزرگئے۔پھر ایک دن ،نیلی  کی بہن بہنوئی اور بہنوئی کا بھائی ہمارے ہاں  آئے انھیں امریکن ایمبیسی میں کچھ کام تھا تو وہ ہمارے ہاں ٹھہرے ۔سالوں بعد ہمارے ہاں کوئی مہمان آیا تھا۔۔۔نیلی  کا تو جیسے سوکھے دھانوں پانی پڑگیا ہویا بن بادل برسات ہوگئی والا معاملہ تھا۔۔۔لیکن میں اپنا بتاؤں تو  میں مکمل طورپر لاتعلق سا تھا۔۔

وہ ان کے لئےمزے مزے کھانے تیار کرتی۔۔اس کے ساتھ ساتھ ان کے گھومنے پھرنے کے پروگرام بنتے۔۔تاش کی بازیاں لگتیں۔۔۔بیت بازی کے مقابلے  ہوتے ۔۔انتا کشری کے مقابلے ہوتے۔۔میں خاموشی سے سب کچھ دیکھتا رہا۔۔انہوں نے کئی بار مجھے اپنے ساتھ شامل کرنا چاہا لیکن میری سرد مہری دیکھ کر خاموش ہوگئے۔شادی کے شروع کے دنوں کے بعد میں نیلی کو اتنا خوش دیکھ رہا تھا۔۔اس کے چہرے کی شادابی لوٹ آئی تھی۔۔۔میری بے توجہی نے اسے جیسے مرجھا کے رکھ دیا تھا۔

میں  پہلے تو حیران ہو ہوکے اسے دیکھتا رہا کہ نیلی اتنی خوبصورت ہے۔۔۔لڑائی جھگڑوں انا اور نفرت کی آگ نے ہمار ےچہرے ہمارے نقوش مسخ کرکے رکھ دئے تھے۔اب جیسے ہی اسے اپنوں کی محبت توجہ اور ساتھ میسر آیا اس کے چہرے سے روشنی سی پھوٹنے لگی۔۔۔لیکن میری حیرت رفتہ رفتہ غصے اور پھر حسد میں تبدیل ہونے لگی۔۔وہ چند روز کے کئی کے لئے آئے تھے لیکن مجھے ایک ایک لمحہ ایک ایک پل صدیوں پہ محیط لگ رہا ہتھا۔۔دن گزر نہیں رہے تھے گھسٹ رہے تھے۔۔طاہرہاں طاہر یہی نام تھا اس کی بہن کے دیور کا جو ان کے ساتھ ہمارے گھر آیا ہوا تھا۔۔میرے اندر شک کا ناگ پھنکارنے لگا ۔۔مجھے لگا کہ نیلی کے چہرے کی ساری شادابی اسی طاہر کی مرہون منت ہے۔۔۔نیلی کا چہرہ جیسے جیسے کھلنے لگا میرا منہ  ویسے ویسے اترنے لگا۔۔۔ان کی موجودگی میں گھر سے غائب رہنے لگا سگریٹ   پہ سیگریٹ پھونکنے لگا اور جب جب گھر آتا ،جان بوجھ کے ایسے کام کرتا جس سے نیلی کی اہانت اور سبکی ہو۔اپنے اندر کی ساری کڑھن اور جلن میں نیلی پہ انڈیل نے لگا۔۔۔ایک دن تو حد ہوگئی میں نے غصے میں اس پہ ہاتھ اٹھا لیا یہیں اس کی بس ہوگئی۔۔۔جو فیصلہ ہم برسوں نہ کرسکے وہ اس نے لمحوں میں کرلیا۔۔یعنی دائمی جدائی کا فیصلہ۔۔۔بظاہر میں اکڑا رہا لیکن اندر ہی اندر مجھے پسشمانی اور ندامت نے گھیر لیا۔۔۔لیکن میری انا تھی کہ مجھے  میری اپنی غلطی کےاعتراف کرنے میں مانع تھی۔

نیلی گھر سے جارہی تھی مجھے لگتا تھا میری جان میرے وجود کو چھوڑے جارہی ہے۔۔مجھے  محبت کا تو پتا نہیں لیکن اس کے ساتھ کی عادت ہوگئی تھی  اور میرے عزیز !عادت  محبت سے کہیں بڑھ کے جان لیوا ہے۔۔اسی کشمکش کے نتیجے میں میرا نروس بریک ڈاؤن ہوگیا۔۔۔کئی دنوں بعد میں ہوش میں آیا تو دیکھا نیلی میرے بیڈ کی پٹی پہ سر رکھے سو رہی تھی۔اور علیحدگی والا معاملہ وقتی طور پر ٹل گیا ۔۔۔بیمار میں ہوا تھا لیکن شادابی اس کی نچڑ گئی۔۔۔تب میں اپنی نظروں میں بہت چھوٹا ہوگیا ۔۔ناراضی کے باوجود جس طرح ا س نے میرا خیال رکھا تو میں تو اس سے آنکھیں چار کرنے کے بھی قابل نہ رہا ۔۔۔تب میں نے تہیہ کیا کہ قدرت نے تلافی کا جو موقعہ مجھے دیا ہے میں اسے ضائع نہیں جانے دوں گا۔۔قصہ مختصر ہم دونوں کو احساس ہوگیا کہ انا کے قلعے کی دیواریں کبھی اتنی بلند نہیں کرنی چاہیں کہ اپنایت کی ہوا  کا گزر محال ہوجائے۔۔۔اور ہاں میں طاہر کو اپنا محسن مانتا ہوں اس کی آمد نے مجھے  اس نیلی سے ملادیا  جسے میں انا اور نفرت کی دیوار کے پیچھے چھوڑ آیا تھا۔۔۔یہ نہیں کہ اس کے بعد ہماری زندگی پرفیکٹ ہوگئی۔۔ہم کبھی لڑے نہیں جھگڑے نہیں۔

لیکن ہاں ہم نے سمجھ لیا کہ زندگی اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے ایک دوسرے کو جگہ دینے کا نام ہے۔۔۔اسی اختلاف  سے زندگی میں خوبصورتی بھی ہے۔ورنہ یکسانیت تو   بےرنگی اور بدمزگی کا باعث ہے۔۔تو نوجوان غور سے دیکھو یہی تیسرا بعض اوقات  ہمیں خود سے ملا دینے کے لئے آتا ہے۔۔بعض اوقات  ہمیں ان رشتوں ،ان خوبصورتیوں سے ملانے کے لئے آتا ہے جنہیں ہم اپنی  انا اپنی مصروفیات یا کسی بھی وجہ سے پسِ پشت ڈال چکے ہوتے ہیں۔میرا تو یہ بھی ماننا ہے کہ ہماری زندگی میں جوکچھ بھی  ہوتا ہے یا   جوکچھ بھی  ہمیں پیش آتا ہے اس کے پیچھے قدرت کا کوئی مقصد پوشیدہ ہوتا ہےجس میں ہماری منفعت چھپی ہوتی ہے بالکل اسی طرح جیسے ڈاکٹر کی دوائیاں ہمارے لئے ناگوار ہوتی ہیں لیکن ہم جانتے ہیں ان میں ہمارا فائدہ ہوتا ہے اس لئے ہم خاموشی سے نگل جاتے ہیں۔۔۔۔تو نوجوان تم بھی غور سے دیکھو اصل چیز حصول نہیں بلکہ اس چیز کی قدروقیمت کو سمجھنا ہوتا ہے۔۔پہلی بار میں نے اس کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ ابھرتے دیکھی۔۔مجھے امید ہوئی کہ اب اسی مسکراہٹ کی روشنی میں وہ رستے تلاش کرلے گا اور ہاں میں خود کو تھپکی دینا نہیں بھولا کیونکہ نیلی     پیلی  لال یا ہری  تو چھوڑ میری تو کوئی بھی بیگم نہیں کہ اپنوں کے راہوں کے کانٹے چنتے اتنی مہلت ہی نہیں ملی کہ اپنے لئے سوچتا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact