Monday, May 27
Shadow

Tag: پروفیسر محمد ایاز کیانی

تبصرہ نگار مظہراقبال مظہر| نام کتاب| تماشائے اہلِ کرم

تبصرہ نگار مظہراقبال مظہر| نام کتاب| تماشائے اہلِ کرم

تبصرے
 تبصرہ نگار  : مظہر اقبال مظہر   پروفیسر محمد ایاز کیانی کی تصنیف "تماشائے اہلِ کرم " میرے سامنے ہے۔طباعت ، املاء اور پروف کی غلطیوں سے مبرَّا یہ دیدہ زیب کتاب پریس فار پیس فاؤنڈیشن (یو ُکے) نے شائع کی ہے۔  رنگین ٹائٹل پر تاریخی عمارات کے عقب میں ہرے بھر ے کھیت اور برف پوش چوٹیاں  قاری کے تخیل کو اندرونی صفحات کھولنے پر مجبور کردیتی ہیں۔  کتاب  کا پہلا صفحہ ایسے منظرکی تصویر کشی کر رہا ہے جس  میں ایک سیدھی دو رُویہ سڑک کا داہنی حصہ خالی ہے جب کہ   بائیں جانب "محمد ایاز کیانی" کے الفاظ تحریر ہیں ۔ گرد سے اٹے اوردائیں بائیں  لڑھکتے ہوئے  پتھروں اور خود رو جھاڑیوں  کے بیچ میں سے گزرتی ہوئی یہ سڑک دُور کہیں پانیوں، پہاڑوں اور بادلوں میں یُوں گم ہو رہی ہے  جیسے کوئی مسافر ان دیکھے راستوں پر چلتا اور اگلی منزلوں کے نشان ڈھونڈتا  ہوا سفر میں گم ہو جائے۔ ٹھنڈے  ...
ہندو کش کے دامن میں۔۔۔جاوید کا ایک اور دلکش سفر نامہ۔تبصرہ / پروفیسر محمد ایاز کیانی

ہندو کش کے دامن میں۔۔۔جاوید کا ایک اور دلکش سفر نامہ۔تبصرہ / پروفیسر محمد ایاز کیانی

تبصرے
۔۔تبصرہ : پروفیسر محمد ایاز کیانیمعروف ادیب اور متعدد سفر ناموں کے خالق مستنصر حسین تارڑ نے سفر نامے کے بارے میں لکھا ہے کہ"سفر نامہ ایسی آوارہ صنف ہے جسے محض قادر الکلامی اور زبان دانی سے نہیں لکھا جا سکتاجب تک لکھنے والےکے اندر جنون جہاں گردی نہ ہو حیرت کی کائنات نہ ہو اور طبع میں خانہ بدوشی اور آورگی نہ ہو"-ایک دور تھا کہ معاشرے کے دو طبقات پڑھنے پڑھانے سے دلچسپی رکھتے تھےایک استاد اور دوسرا مولوی۔مگر یہ گئے دنوں کی بات ہے اب استادپڑھتا ہے اور نہ ہی مولوی۔اس صورتحال میں تعلیمی ادارے اور منبر و محراب دونوں ہی بے روح ہو چکے ہیں۔علمی تشنگی استاد دور کر سکتاہے نہ منبر و محراب کے وارث۔کچھ عرصہ پہلے تک ایک دینی جماعت کے لوگ پڑھنے لکھنے سے کافی رغبت رکھتے تھے۔سٹڈی سرکلز ہوتے مختلف موضوعات کی باریکیوں پر کھل کر بحث ہوتی اس طرح گنجلک مسئلوں کی باریکیاں کھل کر روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی تھیں۔ل...
انٹرمیڈیٹ کے حالیہ نتائج ۔۔۔ ۔۔۔۔۔تحریر۔۔پروفیسر محمد ایاز کیانی

انٹرمیڈیٹ کے حالیہ نتائج ۔۔۔ ۔۔۔۔۔تحریر۔۔پروفیسر محمد ایاز کیانی

آرٹیکل
۔تحریر۔۔پروفیسر محمد ایاز کیانیکرونا کے جان لیوا موذی مرض کی وجہ سے جہاں دنیا بھر کی معیشت بری طرح سے متاثر ہوئی وہاں پر ہر شعبہء زندگی اس کی تباہ کاریوں کی زد میں رہا ۔۔۔۔ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 45 لاکھ لوگ دنیا بھر میں اس مرض کی وجہ سے لقمہء اجل بنے۔۔ لاکھوں لوگ بےروزگار ہوئے ،پاکستان میں اگرچہ جانی نقصان کم  ہوا مگر کاروباری سرگرمیوں کے تعطل اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کی بندش کی وجہ سے ہماری معاشی حالت( جو عموماً ہر دور میں وینٹی لیٹر پر  ہوتی ہے )پر شدید منفی اثرات مرتب ہوئے۔۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی قرضے بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔۔ مہنگائی اور ڈالر اپنی برتری کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ چکے ہیں ۔۔اس ساری صورت حال میں عام آدمی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اور اس کے  لیے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا ہر گزرتے دن کے ساتھ  دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔۔مگر اس وبا کی وج...
پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تقسیم انعامات کی تقریب رپورٹ  پروفیسر محمد ایاز کیانی

پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تقسیم انعامات کی تقریب رپورٹ پروفیسر محمد ایاز کیانی

ہماری سرگرمیاں
‎ پروفیسر محمد ایاز کیانی ‎پریس فار پیس  فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام آزاد کشمیر کے ضلع باغ کی یونین کونسل ناڑ شیر علی خان کے مرکزی مقام "لوہار بیلہ" کے مقام پر ایک پروقار تقریب" تقسیم انعامات" کا انعقاد کیا گیا.اس تنظیم کا قیام 1999 میں مظفرآباد کے مقام پر عمل میں آیا۔اس   پہلے اس تنظیم کا دائرہ کار محدود تھا مگر 2005 کے زلزلے میں میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر  میں تاریخ کا بدترین ذلزلہ آیا۔اس سانحے میں لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنے اور کئی لاکھ لوگ معذور اور بے گھر ہو گئے ایک بدترین انسانی المیے نے جنم لیا یہاں تک کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو کہنا پڑا  کہ "میں قبرستان کا وزیراعظم  ہو ں"۔ ‎اس موقع پر جہاں اہلیان  پاکستان نے اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے ایثار و قربانی کی تابندہ مثالیں قائم کیں وہیں پر کوٹلی، میرپور اور اورسیز پاکستانیوں نے بھی اپنے بھ...
نئی منزلوں کی راہی- مائدہ شفیق

نئی منزلوں کی راہی- مائدہ شفیق

تبصرے
پروفیسر محمد ایاز کیانی ‎بھلے وقتوں کی بات ہے لوگ مطالعہ کے شوقین ہوا کرتے تھے‎ علمی نشستیں ہوا کرتیں تھیں مثبت پیرائے میں تبادلہ خیالات ہوتا سٹڈی سرکل ہوتےاور موضوع کی باریکیوں کو کھنگالا جاتا ایک ایک نکتے پر بحث ہوتی۔یوں سیکھنے سکھانے کی ترغیب ہوتی۔لوگ کتابیں پڑھتے اور پڑھی گئی کتابوں پر مکالمہ ہوتا۔مگر پھر آہستہ آہستہ یہ رجحان زوال کا شکار ہو نا شروع ہوگیا لائبریریوں کی اہمیت و افادیت مادیت کی نظر ہوتی گئی اب کسی بھی پروفیسر ،استاد سے پوچھیے  بھئی کتابیں پڑھتے ہو تو بڑی بے اعتنائی سے جواب دے گا ان کاموں کے لئے ٹائم کس کے پاس ہے۔بحث کے موضوعات عموماً سیاست کے گرد گھومتے ہیں اور رات کو دیکھے گئے ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھے افلاطونوں کو بطور سند پیش کیا جاتا ہے۔حالانکہ ایک عامی بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ وطن عزیز میں ٹی وی سکرین پر بیٹھے اکثر اینکر حضرات اپنے اپنے مخصوص ایجنڈوں ...
اکرم سہیل کی کتاب شعور عصر کے بارے میں پروفیسر ایاز کیانی کا تبصرہ

اکرم سہیل کی کتاب شعور عصر کے بارے میں پروفیسر ایاز کیانی کا تبصرہ

تبصرے
کتاب :شعور عصرمصنف : اکرم سہیلتبصر ہ نگار : پروفیسر محمد ایاز کیانیقدرت اللہ شہاب اگر "شہاب نامہ" نہ لکھتے تو شاید وہ بھی بیشتر دیگر بیوروکریٹس کی طرح گوشہء گمنامی میں ہی رہتےاور لاکھوں کی تعداد میں لوگ انھیں مستند حوالے کے طور پر نہ جان رہے ہوتے۔مشتاق یوسفی پیشے کے طور پر ایک بنکار تھے مگر آج لوگ انھیں ایک بنکار کے طور پر نہیں مگر ایک عظیم مزاج نگار کے طور پر جانتے ہیں۔۔اکرم سہیل آزاد کشمیر کے ایک معروف بیوروکریٹ ہیں۔اپنی ملازمت کے دوران مختلف محکموں میں خدمات سر انجام دیتےرہے۔وزیراعظم کے ساتھ بطور پرنسپل سیکرٹری بھی کام کیا۔۔آج کل پبلک سروس کمیشن کے ساتھ بطور ممبر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔وطن عزیز میں عسکری آفیسران اور بیورو کیٹس جنھیں ملٹری اور سول اسٹیبلشمنٹ کے ناموں سے جاناجاتاہے کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتے اور ملک کی خدمت کے لئے تازیست "دستیاب" ہوتے ہیں۔۔۔۔(خیر یہ تو جملہ معترضہ تھ...
“عظیم ہمالیہ کے حضور” مصنّف : جاوید خان

“عظیم ہمالیہ کے حضور” مصنّف : جاوید خان

تبصرے
تبصرہ کتاب و تعارف مصنّف : پروفیسر محمد ایاز کیانی جاوید خان سے میرا کافی دیرینہ تعلق ہے ۔ مگر اس سے قبل یہ ملاقاتیں بے ترتیب تھیں ۔ ان میں قدرے باقاعدگی 2015 کے بعد آئی ۔ جب میرا اسلامیہ کالج کھڑک آنا جانا شروع ہوا۔ جہاں میری بیٹی زیر تعلیم تھی۔ آج سے تین سال قبل پاک چائنا فرینڈشپ  سینٹر اسلام آباد میں کتاب میلہ شروع ہوا تو جاوید خان کا فون آیا کہ اس بک فئیر میں چلنا چاہیے۔ ان کی تحریک پر میرا بھی پروگرام بن گیا ۔جاوید اسوقت ریڈفانڈیشن کالج میں پڑھاتے تھے۔ پروفیسر محمد ایاز کیانی کتابوں کی خریداری کے بعد جب ہم ایکسپوسینٹرسے باہر آئےتو جاوید خان کے ہاتھ میں کتابوں کے دوبھاری بھرکم کتابوں کے شاپرتھے۔ راستے میں زیادہ تفصیل سے بات چیت کاموقع ملا۔ جاوید نے بتایا کہ اسے مطالعےکا بہت شوق ہے۔ مگر وسائل ہمیشہ آڑے آتے ہیں۔ اس دوران یہ دلچسپ اور حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ جا...
×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact