Monday, May 27
Shadow

Tag: بلوچستان

کوئٹہ کتاب میلے کی روداد، عالیہ بٹ کے قلم سے

آرٹیکل
یقیناً آپ سب کو کوئٹہ میں منعقد ہونے والے میلے کی روداد کا انتظار ہو گا تو ذرا تھوڑا سا اور حوصلہ۔ ۔۔ تین دنوں کی کمر توڑ تھکن اتر لینے دیجیے ۔ تھکن تو ابھی بھی باقی ہے ۔ مگرمزید انتظار کی زحمت نہیں دوں گی ،  تو پڑھیے! پریس فار پیس کا مشن ہی بھلائی اور معاشرے میں گرتے ہوئے لوگوں کو سہارا دینا اور انہیں ایک روشن مستقبل دلانا ہے۔ میں دین و ادب کو قائم رکھنے والی شخصیات کی بہت قدر کرتی ہوں، میری نظر میں وہ نایاب گوہر اور روشن ستارے ہیں اور پریس فار پیس کے تمام کارکن  بھی روشن ستاروں کی مانند ہیں جو پریس فار پیس کے آسمان پہ جگمگا رہے ہیں، جنہوں نے کتابوں کی دنیا بنانے اور بسانے کی ٹھانی ہوئی ہے۔ تو جناب!آخر وہ دن آ ہی گیا۔ میں عالیہ بٹ پریس فار پیس کے پلیٹ فارم پر بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کوئٹہ میں منعقد ہونے والے کتب میلے میں...
زیارت کا سفر / حمیراعلیم

زیارت کا سفر / حمیراعلیم

آرٹیکل
حمیراعلیم  جب میری شادی ہوئی تو میں جاب کر رہی تھی اس لیے دو ماہ کی چھٹی لے لی۔لیکن میاں کے آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے کی وجہ سے صرف دو دن کی چھٹی ملی۔اب میں گھر پہ اپنے سسرال کے ساتھ ہوتی اور میاں صاحب آفس میں ۔اسی دوران میری نند نے زیارت جانے کا پروگرام بنایا۔ہر سال جب ان کے بچے چھٹیوں میں ان کےگھر کوئٹہ میں اکھٹے ہوتے ہیں تو وہ لوگ زیارت ضرور جاتے ہیں ۔ انہوں نے مجھے اور میرے شوہر کو بھی چلنے کا کہا۔مگر جون کے آخری دنوں میں آڈٹ والوں کی سختی آئی ہوئی ہوتی ہے اور کبھی کبھار تو رات کے 12 بجے واپسی ہوتی ہے۔اس لئے انہیں چھٹی نہ ملی۔ لیکن مجھے بھیج دیا کہ تم گھر پر بور ہوتی ہو گی جاؤ ان کے ساتھ تھوڑا گھوم پھر آو۔میں،  جیٹھانی اور ان کا بیٹا آپی کی فیملی کےساتھ زیارت جانے کے لیے تیار ہو گئے۔      جب میں نے ان سے پوچھا" زیارت کیسا ہے ؟" تو سب نے بول...
بلوچستان : ترقی میں پیچھے اور مروت میں آگے / کہانی کار : ابرار گردیزی

بلوچستان : ترقی میں پیچھے اور مروت میں آگے / کہانی کار : ابرار گردیزی

تصویر کہانی
کہانی کار و تصویر : ابرار گردیزی  کوئٹہ قائد اعظم کے پاکستان کا حقیقی عکس.... سچے , محب و وسیع القب پاکستانیوں کا شہر...ایک ہفتے کے قیام میں رکشے والوں ،ریڑھی بانوں، ہوٹل ویٹرز، دکانداروں،اعلیٰ و ادنیٰ پولیس و دیگر آفیسرز،یڈیکل کالج کے طلبہ وطالبات اور ڈاکٹرزسے ملاقات رہی-حسن خلق میں یہاں کے محمود وایاز ایک صف میں پائے , معاملات و معمولات معاشرت میں ملنسار, ہمدرد, کھرے اور نہایت درجے کے مدد گارو مہمان نواز-غیر مقامی خریدارکی آزاد کشمیر, وفاقی دارالحکومت, پنڈی, پشاور, کراچی تک جیبیں کترنے کا رواج عام ہے.-کوئٹہ میں ستر اسی افراد سے معاملات درپیش آئے..کسی ایک نے ایک پیسہ ناجائز لینے کی کوشش نہیں کی -میٹرس والے سے پوچھا:پرنس روڈ کدھر ہے؟ اس نے بندہ ساتھ بھیج دیا-یوٹیلٹی سٹور والے کے پاس مطلوبہ شے نہ تھی, اس نے منگوا کے ہوٹل بھیجوائی -ایک راہ گیر سے پوچھا ڈبل روڈ کدھر ہے؟ تمام تر تفصیل...
×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact