Friday, May 24
Shadow

مہوش اسد شیخ کی  تصنیف ” آئینے کے پار”، تبصرہ نگار : مجید احمد جائی

تبصرہ نگار : مجید احمد جائی

لکھاری اور قاری ایک دوسرے سے جڑے ضرور ہوتے ہیں لیکن دونوں کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔لکھاری اپنے تخیل و مشاہدات سے قلم فرسائی کرتا ہے اور قاری اپنی ذہنی استطاعت سے اسے قبول کرتا ہے ۔لکھاری ایک ہوتا ہے لیکن قاری کئی ،ہر قاری کی اپنی رائے ہوتی ہے جس کا اسے حق بھی ہوتا ہے ۔دل چسپ بات یہ ہے کہ دونوں کتاب سے جڑے ہیں اور یہی معاشرے کے عظیم لوگ ہیں۔

ہوئے ہم مرکے جو رسوا،ہوئے کیوں نہ غرق ِدریا

نہ کبھی جنازہ ہوتانہ کہیں مزار ہوتا

مرزا اسد اللہ خاں غالب کو جب جب پڑھتا ہوں تودل اور دماغ کے کئی در واہوتے ہیں ۔سوچوں کی یلغار میں ڈوب جاتا ہوں ۔شعور کی بلندیوں کو چھونے والے یہ لوگ کس طرح آنے والے وقت کے بارے میں بیان کر دیتے تھے ۔شاعری ہو یا نثر اپنے آپ سے ہم کلام ہونے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ لکھاری خود کلامی کریں یا خود کے احساسات و جذبات جب صفحہ قرطاس پرلے آتے ہیں تو کئی بے چین روحوں کو سکون مل جاتا ہے ۔جس طرح ہم دکھوں ،تکلیفوں اور مشکلات سے نبرد آزما ہوتے ہیں ہم جیسے بہت سے ایسے ہوتے ہیں لیکن وہ ہمارے طرح جی نہیں پاتے ۔اپنی دُکھوں کے دُکھ نہیں بانٹ پاتے ہیں اسی لیے پاگل ہو جاتے ہیں ۔زندگی سے بے زار ہو کر اللہ تعالیٰ کی پیاری نعمت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔”آئینے کے پار“لکھاری کی خودکلامی ہے یا وہ احساسات و جذبات ہیں جن کو قرطاس کے حوالے کیا گیا ہے ۔جس سے قاری اپنی نگری بسالیتا ہے اور اس کے بھی یہی احساسات وخیالات ہوتے ہیں ۔وہ خوش ہوتا ہے میں نہیں ،کسی نے تو میرے دل کی باتیں قرطاس کے حوالے تو کیں۔

”آئینے کے پار“مہوش اسد شیخ کی تیسری کتاب ہے ۔اس کتاب میں سب رنگ افسانے ہیں ۔مہوش اسد شیخ نے بہت جلد شہرت کا وہ مقام پا لیا جس کے لیے لوگ سالوں جدوجہد کرتے ہیں لیکن اس مقام تک نہیں پہنچ پاتے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی خاص عطا ہے ۔مہوش اسد شیخ کا قلم نڈر اور بے باک ہے ۔سادہ انداز میں جب طنز کے نشتر لگاتا ہے تو زخم تو نظر نہیں آتے لیکن روح کی چیخوں کی صدائیں،جن کی بازگشت دور تک سنائی دیتی ہے ۔

میں ،مہوش اسد شیخ کو تب سے جانتا ہوں جب مشی شیخ تھیں لیکن جب میں ”سچی کہانیاں “کراچی میں ناقابل فراموش سلسلہ کا انچارج تھا تو یہ بہترین افسانہ نگار دریافت ہوئیں ۔مجھے خوشی ہوتی ہے جب کوئی جنون کی حد تک قلم سے پیار کرتا ہے اور اسے یہ بھی احساس رہتا ہے کہ اپنے لکھے کا حساب بھی دینا پڑے گا۔

”آئینے کے پار“سب رنگ افسانوی مجموعہ ہی نہیں ایک کامیاب ادیبہ کا معاشرے پر زوردار طمانچہ بھی ہے۔جو اس نے اپنے قلم کی مارسے روح تک کو گھائل کیا ہے ۔ان کے افسانے پڑھ کر مرزا غالب پھر یاد آجاتے ہیں :

ابن مریم ہوا کرے کوئی

میرے دُکھ کی دوا کرے کوئی

”آئینے کے پار“کتاب کا انتساب ”رفیق ِحیات “کے نام کیا گیا ہے ۔”پیشرس“میں ایک طرح سے اپنا سوانحی خاکہ پیش کیا ہے لیکن محمد شاہد محمودمختصر اور جامع انداز میں مصنفہ اور اس کے شاہکارکے بارے میں بیان کرتے ہوئےکہتے ہیں :مہوش اسد شیخ صاحبہ کے ادبی و فکری سفر میں مستقبل کی دستک ہے اور آپ سے مزید توقعات وابستہ کرنے کا موجب ہے ۔عام فہم زبان میں لکھے گئے حالات و واقعات اس ڈھب سے رقم کیے گئے ہیں جو ہر خاص و عام کے لیے دورانِ مطالعہ دلچسپی کا باعث ہیں ۔یہی اسلوب بتدریج مہوش اسد شیخ صاحبہ کی پہچان بن رہا ہے ۔محمد عثمان ذوالفقار ،ان کہانیوں کو سب رنگ کہانیاں کہتے ہیں ۔

اس افسانوی مجموعہ”آئینے کے پار“ میں پندرہ افسانے ہیں ۔ہر افسانہ حقیقت ہے ۔”میری کشتی وہاں ڈوبی “فکاہیہ افسانہ ہے ۔جہاں لبوں پر مسکراہٹ پھیلتی ہے وہاں دل کے نہاں خانوں سے درد کی مدہم سی آواز بھی سنائی دیتی ہے ۔مزاحیہ انداز میں طنز کے نشتر چلائے گئے ہیں ۔لکھاری ،قاری اور مدیر کے گرد گھومتا بہترین افسانہ ہے ۔مہوش نے حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے اور شاید اسی لیے اس کتاب پر اپنی تصویر نہیں دی ۔مدیروں کی ذات پر تیکھا طنز اور لکھاریوں پر لطافت کے انداز میں گہر ا طنز کیا گیا ہے ۔اس افسانے سے مہوش کی زندگی کے کئی گوشوں سے پردہ عیاں بھی ہوتا ہے ۔

”اعتبار کا موسم “بہترین افسانہ ہے لیکن الماری سے آدھا گھنٹہ جوڑا ڈھونڈنا عجیب منطق ہے ۔جو سمجھ نہیں آتی”ذرا سوچیے گا“ایک اچھوتا افسانہ ہے لیکن تصویر کے دونوں رخ دکھائے جاتے ۔شوہر گھر بار کی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب کرخود کی زندگی کو کہیں بھولادیتا ہے لیکن اسے ہی الزام دیا جاتا ہے ۔اسی افسانے کے تناظر میں اگر بیو ی بے اعتنائی کرے تو اس سلسلے میں شوہر کیا کرے گا۔ہمیشہ شوہر پر الزام لگایا جاتا ہے اور عورت کو بری الذمہ کر دیا جاتا ہے ۔اگر آج معاشرے میں مرد کا قصور ہے تو اس کی ذمہ دار عورت ہی ہے ۔

”توبہ کے نفل“افسانہ ہمیں بتاتا ہے کہ جو کچھ مل جائے اسی پر صبر شکرکرنا چاہیے۔”ناانصافی “افسانہ بہترین ہے لیکن آخرمیں قاری اُلجھ جاتا ہے ۔پہلے قاری کو کہانی سمجھ آ رہی ہوتی ہے لیکن آخر میں لائبہ کو ذہنی مریضہ پیش کرنا خود ”ناانصافی “کے ساتھ ناانصافی ہے ۔یہاں والدین کی طرف سے بھی ناانصافی کے پہلوسامنے آتے ہیں ۔

”آخری ورق“کے اختتام پر نامور شاعر ”مومن خان مومن “یا د آجاتے ہیں جنھوں نے مرنے سے چندماہ قبل اپنی موت کی پیشن گوئی کر دی تھی اور ٹھیک اسی دن وفات پائی ۔کہتے ہیں جس چیز کے بارے میں زیادہ سوچ وچار کیا جائے وہی ہوتا ہے ۔دوسرے رخ سے دیکھا جائے تو مہوش اسد شیخ نے مستقبل کو روشن دیکھایا ہے کہ مرتے دم تک لکھنے کا عمل ختم نہیں ہوگا۔یہ اچھی نوید ہے ۔لکھاری کا کردار اور بہترین انداز بہت پسند آیا۔

”ناولوں کی دُنیا“طویل افسانہ ہے ۔جو پل خوشی میں گزر جائیں وہی اچھے ۔ایک لکھاری کا یہ کہنا کہ ناولوں کی دُنیا اورحقیقی زندگی الگ ہوتی ہے ،بات ہضم نہیں ہوتی ۔ناول لکھنے والے حقیقی زندگی بسر کرتے ہیں ۔”آئینے کے پار“سرورق افسانہ ہے ۔فکر پیدا کردہ افسانہ ہے ہمیں اپنے حق کے لیے آواز تو اٹھانی چاہیے ۔جب ہم اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھاتے تو یہی اپنے آپ سے منافقت ہوتی ہے ۔قصور اپنا ہوتا ہے لیکن قصور وار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں ۔

”روز محشر“افسانے میں اصلاحی درس ملتا ہے ۔بے شک ہم جو کچھ لکھتے ہیں اس کا حساب ضرور ہوگا ۔آپ کا قلم اگر کسی کی اصلاح کرکے راہ راست پر لگا گیا تو دُنیا و آخرت سنور گئی اور اگر کوئی آپ کے لکھے سے گناہوں کی دلدل میں دُھنس گیا تو گریبان آپ کا بھی پکڑا جائے گا ۔

”آئینے کے پار“کے نسوانی کردا ر، مردانہ کرداروں سے زیادہ طاقت ور ملتے ہیں ۔کرداروں کی مکالمہ بازی متاثر کن ہے ۔مصنفہ نے منظر کشی اور جذبات نگاری سے بھی خوب خوب کام لیا ہے ۔مصنفہ،قاری کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رہ کر اپنا مقصد پورا کرتی نظر آتی ہیں ۔مصنفہ یہ ہنر پا گئی ہیں کہ کب قاری کی آنکھیں نم دیدہ کرنی ہیں اور کب دل رنجیدہ کرنا ہے ۔کس لمحے لبوں پر مسکراہٹ پھیلانی ہے اور کس لمحے دامن بھگونا ہے ۔کتاب کے آخر میں مصنفہ کی پہلی دو کتب کے تعارفی اشتہار دئیے گئے ہیں ۔بیک فلاپ پر ڈاکٹر جہاں آرالطفی کے پُر مغز خیالات کو پیش کیا گیا ہے ۔

”آئینے کے پار“۸۲۱صفحات پر مشتمل شاندار،معیاری اوربہترین افسانوں کا مجموعہ ہے ۔جس کی اشاعت مارچ ۳۲۰۲ءہے ۔قیمت ۰۰۸ روپے اور پریس فارپیس فاﺅنڈیشن کے تعاون سے شائع کی گئی ہے ۔لکھاری اپنے مشاہدات ،تجربات اور خیالات سے کہانیوں کی بُنت کرتا ہے قاری اپنی کسوٹی پر پرکھتا ہے ۔قاری اور لکھاری کا متفق ہونا ضروری نہیں ہوتا۔اس دعا کے ساتھ کہ مہوش اسد شیخ کا قلم ہمیشہ تروتازہ رہے اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے مشن کو لیے چلتا رہے۔ آمین!

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact