Monday, May 27
Shadow

کتاب ‘ زمین اداس ہے ‘ انعام الحسن کاشمیری کی نظر میں

تبصرہ نگار : انعام الحسن کاشمیری


(ان کہانیوں کی زبان بڑی سادہ، سلیس اور رواں ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کا مخاطب ہر معاشرے، اور ہرنسل و عمر سے تعلق رکھنے والا فرد ہے۔)

زندگی کے تاروں پرظلم وجبر کے مضراب سے جنم لینے والے کرب، دکھ اور درد سے بھرے گیت مختلف اشکال اور اجسام کی صورت میں ہمارے اطراف پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ حزنیہ گیت ہماری سماعت سے ہر آن ٹکراتے اور ٹوٹ کر پاش پاش ہوجاتے ہیں لیکن ہم ہیں کہ ان کی کسک اور غم انگیزی کو محسوس ہی نہیں کرتے۔ زندگی کا اب یہ بھی ایک بڑا نوحہ ہے کہ ہماری دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔ ہم بہت تیزی کے ساتھ بدلنے والی اس دنیا کے گھن چکر وں میں الجھ کر اپنی ذات، اپنی زندگی ہی نہیں اپنے مستقبل اور اپنی آل اولاد کو فراموش کرتے چلے جارہے ہیں۔ اس فراموشی کی کیفیت نے ہمیں اس غور وفکر کی صلاحیت سے یکسر محروم کردیا ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا قتل کررہے ہیں۔ ہم اپنے ہاتھوں اپنے بچوں کو زمین میں دفن کررہے ہیں۔ ہم آنے والی نسلوں سے زندہ رہنے کا حق چھین رہے ہیں۔۔۔ہم خود اپنی دنیا کو بدلتے ہوئے درحقیقت فنا کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔۔یہ ہم ہی ہیں جس نے زندگی کو اور زندگی سے جڑی ہر چیز کو اداسیوں کے گرداب کے سپرد کردڈالاہے۔۔۔ہم زمین کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔۔اس کے حلق سے نکلنے والی دبی دبی چیخوں کو ان سنی کررہے ہیں۔ زمین کی حسرت بھری آنکھوں میں اترنے والے درد و کرب کو دیکھنے کی تاب نہ رکھنے کے باعث ہم نے اپنی آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ لی ہیں۔۔زندگی اور زمین سے جڑی اداسیوں کا الم سہنے کی طاقت نہ رکھنے کے باعث ہم نے اپنے احساسات کو سنگ زدہ کرڈالاہے۔۔
ماحولیاتی آلودگی کی بڑھوتری پرتو ہم ہرآن شکوہ کناں رہتے ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے غور بھی کیا کہ یہ آلودگی کہاں سے جنم لیتی ہے؟ یہ ہماری سوچ سے جنم لیتی ہے اور ہمارے افعال و کردار کی بدولت پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہی دیکھیے! گھروں کو صاف ستھرا رکھنے کی لگن ہماری گلیوں، سڑکوں، محلوں اور شہروں کو کوڑے کا ڈھیر بناڈالتی ہے کہ ہم اس لگن میں یہ بھول جاتے ہیں کہ کوڑے کو کیسے ٹھکانے لگانا ہے۔ ہمیں بس اتنا معلوم ہے کہ کوڑے سے بھراتھیلا اٹھاؤ اور دروازے سے باہر گلی میں پھینک دو۔ پھر ہم رونا روتے ہیں کہ ہمارے محلے، شہر صاف نہیں۔۔حکومت کہا ں ہے؟ انتظامی ادارے کہاں ہیں؟
محترمہ تسنیم جعفری نے زندگی اور زمین سے جڑے دکھ درد کو اپنی تحریروں کا خصوصی موضوع بنا رکھاہے۔ انھوں نے اپنے انداز تحریر کو سائنسی بنیادوں پر استوار کیا ہواہے۔ ان کا مشاہدہ اس قدر عمیق ہے کہ وہ زندگی کے پار تک دیکھنے اور اسے محسوس کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ انھوں نے ہلکی پھلکی کہانیوں، اورناولوں کے ذریعے ایک طرح سے سماج سدھار تحریک شروع کررکھی ہے۔ سدھار کا جو بیان ہم اپنے مضمونوں، کالموں، فیچرز اور اخباری خبروں کی صورت میں کرتے ہیں، اس کے اظہار کے لیے محترمہ تسنیم جعفری کہانی کا سہارا لیتی ہیں۔ ایک ایسی کہانی جو لکھی تو بچوں کے لیے جاتی ہے لیکن اس کا مخاطب بڑے ہوتے ہیں اور وہ بھی اسے پڑھتے ہوئے بچوں ہی کی طرح لطف محسوس کرتے ہیں۔ یہ ان کی تحریر کا خصوصی امتیاز ہے۔
محترمہ تسنیم جعفری کی خوش بختی ہے کہ انھیں محترم ظفراقبال کے ادارے ”پریس فار پیس فاؤنڈیشن“ کا ساتھ میسر آگیا۔ محترم ظفراقبال سات سمندر پار دیار غیر میں بیٹھے وطنیت کے جس جذبے سے سرشار ہیں، یہ انھیں کسی پل چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ وہ ادب عالیہ ہی نہیں، زندگی، ماحول، معاشرے، سماج سے جڑی  ہر کسک کو محسوس کرتے ہوئے اس کے تدارک اور حل کے لیے اپنی شبانہ روز خدمات پیش کیے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار انھوں نے ایک ایسے موضوع کا احاطہ کرنے کی نہایت شاندار کوشش کی ہے جس کی چبھن ہم لمحہ ہمارے جگر میں محسوس ہوتی ہے۔
ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کے کٹاؤ، رہائشی کالونیوں کے پھیلاؤ، مزید شجرکاری نہ ہونے، گاڑیوں کی روزافزوں بڑھتی تعداد، فیکٹریوں کی چمنیوں سے اگلتے سیاہ دھویں، جنگلی حیات کی معدومی، خوراک میں کیمیائی مادوں کی ملاوٹ، مصنوعی طور پر تیار کردہ کھانے اور اس طرح کے دیگر مسائل نے درحقیقت ہماری بقا اور استحکام پر سوالیہ نشانات ثبت کردیے ہیں۔ ہم جو چاند تاروں کی کھوج میں بہت آگے نکل گئے ہیں، اپنے پاؤں تلے زمین کے کھسکنے سے بے خبر ہیں۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہم جو کچھ کھودرہے ہیں بہت جلد اس کی پاتال میں اترنے والے ہیں۔
محترمہ تسنیم جعفری نے زمین کے ایسے ہی دکھوں پر مبنی کہانیاں ترتیب دی ہیں، جن میں ہمارے مسائل کا بڑی خوبصورتی سے ذکر کیا گیا ہے۔ کتنے ہی ادیب ہیں جنھوں نے اس موضوع پر بڑی دلچسپ کہانیاں تخلیق کی ہیں۔ کتاب کا آغاز معروف ادیب محترم احمد حاطب صدیقی کی نظم ”دوپیڑ تھے بیچارے“ سے ہوتا ہے۔ قرۃ العین عینی، مظہراقبال مظہر، تسنیم جعفری اور پروفیسر ڈاکٹرمحمد صدیق اعوان کے خوبصورت اظہارخیال کے بعد 32قلم کاروں کی ننھی منی لیکن حقیقت میں ایک بڑے مقصد سے جڑی کہانیاں پیش کی گئی ہیں۔ فرح ناز، ہانیہ ارمیا، ماورا ء زیب، بیگم سیدہ ناجیہ شعیب احمد، نمرہ خان، محمدرمضان شاکر، کومل یاسین، مہوش اسد شیخ، سیدہ الماس فاطمہ، ارسلان اللہ خان، دانیال حسن چغتائی، عرفان حیدر، رخشندہ بیگ، وسعت اللہ خان، عبدالحفیظ شاہد، عمارہ فہیم، کاشان صادق، ادیبہ انور، ثناء ادریس، معیز شہزاد، ذوالفقار علی بخاری، محمد عثمان ذوالفقار، نیلم علی راجہ، محمد احمد رضا انصاری، قرۃ العین عینی، فریدہ گوہر، شمیم عارف، فوزیہ تاج، رابعہ حسن، قانتہ رابعہ، تسنیم جعفری اور عمران کمال ان کہانیوں کے خالق ہیں جن کی انوکھی تخلیقات نے ادب کو زندگی کی بھرپور عکاسی کرنے کے قابل بنادیاہے۔ ان میں سے بیشتر کو میں نے پڑھ رکھاہے۔ اور مجھے معلوم ہے کہ وہ کس طرح حقائق کو کہانی میں بیان کرنے کی خوب صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کہانیوں کی زبان بڑی سادہ، سلیس اور رواں ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کا مخاطب ہر معاشرے، اور ہرنسل و عمر سے تعلق رکھنے والا فرد ہے۔
اس کام کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی تھی جسے پریس فار پیس فاؤنڈیشن اورمحترمہ تسنیم جعفری نے درجنوں قلم کاروں کی مدد سے ممکن کردکھایا۔ ہمیں پوری شدت کے ساتھ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم اپنی سہولت کے لیے زحمت کاگڑھا کھود رہے ہیں۔ ہم اپنی آسانی کے لیے تکالیف کا پہاڑ بنارہے ہیں۔ ہم اپنے فائدے کے لیے پوری دنیاہی نہیں آنے والی نسلوں کو بھی داؤ پر لگار ہے ہیں۔ ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ ماحولیاتی مسائل کو سمجھنا اور ان کے حل کے لیے انفرادری اور اجتماعی طور پر قربانیاں دینا ہوں گی۔ ہمیں اس دور کو ایک بار پھر پلٹ کر لانا ہوگا جب انسانوں کو ذاتی گھروں کی جگہ کرایے کے مکانوں میں رہنے میں بھی کوئی سبکی محسوس نہ ہوتی تھی۔ ہمیں ذاتی گاڑی کے تصور کی نفی کرتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصاربڑھانا ہوگا۔ ہمیں ندیوں، نہروں اور دریاؤں کی صفائی اور ان کی روانی میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔ ہمیں سیلابوں کی وجوہات کوجاننے اور پانی کے ذخائر بڑھانے پر اپنی توجہ مرتکز کرنا ہوگی۔ ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ شہر کیونکر بڑھ رہے ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے اقدامات کو بروئے کار لانا ہوگا۔ ان میں سے کچھ ہمارے انفرادی کردار سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ اجتماعی۔ لیکن ہم میں سے ہرشخص شعور اجاگرکرنے کے لیے انفرادی طور پر بھی بہت کچھ کرسکتاہے۔ سوشل میڈیا نے نقارخانے میں طوطی کی آواز کو بھی اپنے دوش پر لہراتے ہوئے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچانے اور پھر اس کے ثمرآور ہونے کی صلاحیت پیدا کرڈالی ہے۔
پریس فار پیس فاؤنڈیشن کی یہ بڑی شاندار پیش کش ہے۔ محترم مظہراقبال مظہر نے ”جوئے تازہ“ میں حق لکھا کہ”اس کتاب کا مخاطب مخصوص قاری نہیں بلکہ ہر فرد ہے۔“ یہ وہ فرد ہے جو اسی معاشرے کا ایک انتہائی اہم رکن ہے۔ وہ اگر سمجھتاہے کہ اسے زندہ رہنے اورزندگی سے جڑی ہر خوشی سے لطف اندوز ہونے کا حق حاصل ہے تو اسے چاہیے کہ پھر وہ زندگی کی روں ندی میں پھینکے جانے والی آلائشوں سے خود کو محفو ظ رکھے۔ وہ نہروں کی روانی میں درآنے والی رکاوٹوں کی بیخ کنی کرے۔ ایسا تب ہی ممکن ہوگا جب ہم زمین کی اداسی کو اپنے دل کی گہرائیوں تک میں محسو س کریں اور پھر اس اداسی کو دور کرنے کے لیے ایسی دھنیں چھیڑیں جن کی کوکھ سے خوشی و راحت، دلجوئی و دلپذیر ی کے دل آویز نعمے بیدار ہوں اور جو ہمیں ہی نہیں، ہمارے بچوں کو بھی انبساط وطمانیت کے نرم وگداز پروں کی لپیٹ میں لے لے۔ ٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact