Monday, May 27
Shadow

مئو: شہر ہنر وراں ایک تعارف ۔ انصار احمد معروفی بھارت

انصار احمد معروفی بھارت
قارئین اردو زبان کے لیے مسرت افزا خبر نشر کی جارہی ہے کہ ابھی اردو زبان کے شیدائی اور سپاہیوں کا جوش جنوں کم نہیں ہوا ہے، بلکہ اچھی اور معیاری کتابوں کے قارئین میں اپنی محبوب زبان سے شیفتگی برقرار ہے، جس کا ثبوت معیاری کتابوں کے دوسرے ایڈیشنوں کی طباعت ہے جو باذوق قارئین کی علمی تشنگی کی سیرابی کے واسطے ان کے تقاضے کے مدنظر شائع کی جارہی ہے ۔
چنانچہ ہمارے علمی و ادبی شہر کے نامور قلمکار ڈاکٹر شکیل احمد کی مشہور کتاب “مئو:شہر ہنروراں”کا دوسرا خوبصورت ایڈیشن اچھے خاصے اضافے کے ساتھ جنوری 2023ء میں شائع ہوکر منظر عام پر آگیا ہے۔ حالانکہ اس کتاب کا زیادہ تر تعلق جغرافیائی لحاظ سے ایک خاص علاقہ یعنی مئو سے ہے۔ جس شہر کا اس کتاب میں علمی، تاریخی، جغرافیائی، ادبی، ثقافتی اور صنعتی و تجارتی تعارف ادبی زبان میں کرایا گیا ہے۔ پھر بھی محدود علاقے والی کتاب نے مقبولیت کا علم بلند کردیا اور اس کے تمام نسخے دس سال میں اختتام پذیر ہوگئے۔
دس برس قبل 2012ء میں یہ کتاب مکتبہ الفہیم مئو سے شائع ہوئی تھی، اب اس کے تمام نسخے اپنی مقبولیت کی وجہ سے ختم ہوچکے ہیں، اس لیے اس میں کچھ ترمیم اور اضافے کے ساتھ چند نئے باب شامل کرکے مصنف ڈاکٹر شکیل احمد صاحب نے اپنے طور پر شائع کیا ہے، مصنف قابلِ مبارکباد ہیں جنھوں نے اپنے شہر اور زبان سے وارفتگی کی بنا پر پھر سے نئے آب و تاب کے ساتھ اسے منظر عام پر لانے کا بیڑہ اٹھایا اور 320 صفحات پر مشتمل یہ کتاب جدید کتابت و طباعت کے مراحل سے گزر کر قارئین کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے۔
مصنف ڈاکٹر شکیل احمد صاحب کا قلم و قرطاس سے رشتہ بہت پرانا اور اخلاص پر مبنی ہے، یہ اردو کی روزی روٹی نہ کھاکر بھی اردو زبان سے اپنی محبت کو نہ صرف سلامت رکھے ہوئے ہیں بلکہ اس میں روز افزوں اضافے اور اس کے فروغ کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں ۔ مصنف کی پوری زندگی اردو کی ترویج و ترقی سے عبارت ہے، جسے وہ نہایت خاموشی اور خلوص کے ساتھ پانچ دہائیوں سے متواتر انجام دے رہے ہیں۔ اردو زبان کی خدمت کے اس طویل سفر میں انھوں نے اردو قارئین کو تاریخ، تنقید، خاکے، تبصرے، سفرنامے اور خود نوشت کی شکل میں کئی بیش قیمت علمی تحفے دیے ہیں، جن کی پذیرائی تمام علمی و ادبی حلقوں میں ہورہی ہے۔ انھوں نے تقریباً 10 عدد ادبی کتابیں تصنیف کیں جو “اردو افسانوں میں سماجی مسائل کی عکاسی، مئو شہر ہنر وراں، سمٹتا سائبان، بادل چھاؤں، نشاطِ قلم، حساب جاں، سفر کی خوشبو،طراز قلم، اور کتاب یاری”کے نام سے اردو دنیا میں مطبوعہ شکل میں موجود ہیں ۔
وہ مسلسل اپنی اردو زبان کی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کا اشہب قلم برق رفتاری کے ساتھ علمی وادیوں اور ادب کے نشیب و فراز سے گزرتا ہوا منزل کی جانب رواں دواں ہے، وہ اپنی خدمات کسی ستائش کی تمنا اور صلے کی پروا کیے بغیر مسلسل انجام دیے جارہے ہیں، جن سے اردو دنیا اچھی طرح واقف ہے۔
ان کی مخلصانہ خدمات کا اعتراف انھیں کوئی ادبی ایوارڈ دے کر اس لیے نہیں کیا جارہا ہے کہ انہوں نے اس کے حصول کے لیے اپنی شان سے گرکر اور غیر ادبی و اخلاقی اوچھی حرکتیں کرکے اپنی خود داری کے بت کو توڑنا گوارا نہیں کیا، نہ ہی کسی ادبی گروپ سے وابستہ ہوکر اپنے قدو قامت کو فراز کرنے کے لیے مصنوعی بلندیوں کا سہارا لیا، اس لیے موجودہ وقت میں مئو ضلع میں اُردو زبان کے حوالے سے سب سے قابلِ فخر شخصیت اور سب سے نامور مصنف کا ابھی تک سرکاری و ادبی حلقے کی طرف سے ان کی خدمات کا اعتراف نہ کیا جانا اردو دنیا کے حلقوں میں افسوس اور بےچینی کا سبب بن رہا ہے ۔
کم ازکم ان کی یہ کتاب “مئو: شہر ہنروراں”جو مئو شہر کی علمی،ادبی، تاریخی، اور ثقافتی ورثہ کی یادگار ہے، جس کی پذیرائی کی بنا پر اس کا دوسرا ایڈیشن جدید ابواب کے اضافے کے ساتھ منظر عام پر آگیا ہے، اس کتاب پر مقامی انتظامیہ، میونسپلٹی کے ذمہ داران، اور علمی و ادبی حلقوں کی جانب سے الگ الگ انعام اور ایوارڈ دینا چاہیے، بلکہ اس دوسری طباعت کی خوشی میں سرکاری طور پر اس کا اجرا، مصنف کی خدمات کا اعتراف، انہیں بڑا انعام اور ہندی زبان میں اس کے ترجمے کا اہتمام کرکے ہونا چاہیے۔
اگر یہ کتاب منظر عام پر نہ آتی ، اور اس کی تصنیف اور اشاعت کا مصنف انتظام نہ کرتا تو کیا ہمارے مئو شہر کی اتنی مستند اور وقیع کتاب قارئین کے ہاتھوں پہنچ سکتی تھی؟ اور ہم اپنے ضلع کی ان قربانیوں اور مجاہدین آزادی کے ان جیالوں کے نام اور کام کو جان سکتے تھے جنہوں نے وطن کی محبت میں انگریزوں سے بغاوت کرنے کے جرم میں لاٹھیاں کھائیں، اپنے سینے میں گولیاں پیوست کرائیں، اور جن کو سرعام انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا، اس طرح وہ ہنستے ہنستے جام شہادت نوش فرماگئے ۔
ان کی ان قربانیوں کو بلا تفریق مذہب و ملت مصنف ڈاکٹر شکیل احمد صاحب نے پیش کرکے مئو کے باشندوں کے سروں کو فخر سے بلند کردیا کہ ہمارا مئو بھی وطن کو آزاد کرانے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ آپ نے اس کتاب میں ہندی کتاب “اتہاس کے آئینے میں اعظم گڑھ” کے حوالے سے تحریر کیا ہے “مئو میں پرگنہ ادھیکاری و ڈی ایس پی کومل سنگھ نے گولی چلوا دی، جس میں دکھی رام کتوا مارا گیا، آٹھ دس راؤنڈ فائرنگ میں کالکا پرساد بھی مرے، سینا آگئی، لوگوں میں دہشت پیدا کرنے کے لیے ہارڈی نے سات بے گناہ راہگیروں کو ننگا کر واکر سر عام بیتوں سے پیٹا، 14۔8۔ 1942 کی شام تین بجے مئو نوٹی فائڈ ایریا کا کاریالیہ پھونک دیا گیا، نوٹی فائڈ ایریا کانڈ میں بھی کافی سزا ہوئی”ص 302۔
الغرض اس کتاب میں وطن کو آزاد کرانے میں پیش کی جانے والی بہت سی قربانیوں کا ذکر مصنف نے کیا ہے۔
اس کتاب کے ذریعے ہمیں یہ علم ہوا کہ مئو کا تاریخی پس منظر کیا ہے ؟ ندی، باندھ، ریلوے، آبادی اور محلے، مئو کا سیاسی پس منظر ، یہاں کی عبادت گاہیں، قبرستان، شمشان گھاٹ، تاریخی اہم عمارتیں، کھیل کود، ذرائع آمد و رفت، صحت عامہ، خورد و نوش، یہاں کی ثقافتی سرگرمیاں،کئی دہائیوں پر محیط تعلیمی صورتحال، سماجی سرگرمیاں و معاشرتی نیز اقتصادی نظام، یہاں کی آب و ہوا، موسم اور معیشت، پاور لوم، یہاں کی صنعتیں اور دست کاریاں، مختلف ذرائع معاش، اس کے علاوہ یہاں کی خواتین، رشتے داریاں اور خوشی و غمی کے رسم و رواج، مئو کی مخصوص بولیاں، لباس، ساتھ ہی یہاں کے اشاعتی پریس، کتب خانے ، ادبی لائبریریاں، ثقافتی انجمنیں، ماضی اور حال کے شعرا اور کوی، شہر شعر وادب، مئو کے نثر نگاران، یہاں کے مدارس اور علمائے کرام، علوم عصریہ کے فیض یافتگان، ماضی کی یہاں کی قابلِ ذکر شخصیات اور مئو شہر کا موجودہ منظر نامہ وغیرہ کی مکمل صورت حال کا صحیح اندازہ اس کتاب کی قرات سے ہی ممکن ہوسکا ہے۔
اس طرح کسی علاقہ کی تاریخی اور مستند معلومات کی فراہمی کے اشاعتی منصوبہ کو رو بہ عمل لانا چیونٹی کے منہ سے شکر کے دانے لے کر جمع کرنے کے مترادف ہے ۔ یہ کتاب موجودہ دور کے باذوق قارئین کیلئے اور مستقبل میں مئو شہر کی معلومات حاصل کرنے کے لیے مستند ماخذ کا کام کرے گی، اس کتاب کی اشاعت پر ہم مصنف ڈاکٹر شکیل احمد کو مبارک باد پیش کرتے ہیں، کہ انہوں نے کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کرکے بڑی ہمت و عزیمت کا مظاہرہ کیا ہے جس کی پذیرائی ادبی حلقوں کی جانب سے ہونی چاہیے ۔
مناسب ہوگا کہ ہم اس کے مصنف کے پیشِ لفظ پر ایک نظر ڈال لیں، وہ لکھتے ہیں “کتاب کا مرکزی موضوع شہر مئوناتھ بھنجن ہے، ضلع مئو یا ضلع اعظم گڑھ کا ذکر ضمنا ہے، اس بار بھی ذاتی مشاہدے، تجزیے اور مطالعے کا کتاب میں عمل دخل ہے، لیکن تاریخی، معاشی اور ثقافتی حقائق تک پہنچنے کے لیے متعدد کتابوں اور اشخاص کی بھی مدد لی گئی ہے، کتاب میں کھیل کود کا نیا باب شامل کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن کے سابق صدر جناب اویس طرف دار،فری انڈیا کلب کے کیپٹن مختار علی——- وغیرہ کا ممنون ہوں، کوڑی فنڈ کے بارے میں ایک باب کا اضافہ کتاب میں شامل ہے، کتاب کے آخر میں زمانہ ان کو بھلا نہ دے، اور گردش ایام، کا باب بھی شامل ہے”ص 7۔
مئو کے تعارف میں مصنف تاریخی حوالوں سے لکھتے ہیں “موجودہ ضلع اعظم گڑھ (جس سے کٹ کر ضلع مئو کی تشکیل 1988 میں ہوئی)کا علاقہ قدیم زمانہ میں بنارس اور اجودھیا کے درمیان جنگلوں پر مشتمل تھا، اس خطہ میں تارک الدنیا، سنیاسی اور فقیر اپنے طور پر عبادت اور ریاضت کرتے تھے اور اس میں ان کے کئی مرکز تھے، بعد میں یہاں کئی قومیں آباد ہوئیں، مئو شہر کی آبادی اور تاریخ اب تک کی معلومات کی بنیاد پر ملک طاہر بابا کی تشریف آوری 1028ء میں مانی جاتی ہے، ضلع کا نام مئو اور ضلع کا صدر مقام مئو ناتھ بھنجن ہے، ضلع کی کل آبادی 2011 کی مردم شماری کے مطابق 22 لاکھ سے زیادہ اور مئو شہر کی آبادی تقریباً ساڑھے تین لاکھ ہے، جس میں اکثریت بنکروں کی ہے”۔
مصنف نے مساجد اور مدارس کے ذکر پہلو بہ پہلو یہاں کے تمام مندروں کے نام اور ان کی تعداد اور مقامات کا بھی تذکرہ کیا ہے ۔ مصنف نے شہر کے تعارف اور عوام کے مزاج نیز یہاں کی ممتاز بولی کا ذکر کرتے ہوئے اصلاح زبان کی کچھ صلاح بھی دی ہے جس میں تہذیب و شائستگی اپنانے پر زور دیا ہے ۔ مصنف لکھتے ہیں “تعلیم کے فروغ کی بدولت اب گھروں میں مقامی بول چال کے ساتھ اردو بول چال میں اضافہ ہورہا ہے، مگر مقامی بولی کا چلن اس وسیع پیمانے پر ہے کہ مدارس اور اسکولوں میں تھوڑی سی نرمی ہوجائے تو مقامی بچے اور بچیاں اپنی گھریلو زبان یہاں بھی بولنے سے نہیں چوکیں گے، اسکولوں میں تو تاکید کے باعث بچوں کی زبان پر اردو رائج ہو رہی ہے مگر مدرسوں میں مقامی بولی اب بھی رائج ہے، نہ صرف بچے بلکہ بہت سے اساتذہ بھی مقامی بولی کلاس میں بولتے ہیں، مقامی بول چال میں تم اور آپ کے استعمال میں کچھ اصلاح کی ضرورت ہے، ماں کے لیے اب بھی اکثریت تم، کا استعمال کرتی ہے، جب کہ باپ کے لیے آپ کا، جب کہ دونوں کے لیے آپ کا استعمال ہونا چاہیے۔”
کتاب مجلد ہے، کاغذ بھی اچھا ہے، اس کی قیمت 400 روپے رکھی گئی ہے، جو مصنف کے پتے “ڈومن پورہ، چنگی، مئوناتھ بھنجن، ضلع مئو یوپی 275101 سے مل سکتی ہے، فون نمبر 9236722570 ہے۔”
انصار احمد معروفی ۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact