Friday, April 19
Shadow

رمضان حصول علم کا مہینہ/ تحریر/ ام محمد عبداللہ

*ام محمد عبداللہ*

تا حد نگاہ پھیلا ایک چٹیل میدان تھا۔ دریا، پہاڑ، کھائی، ٹیلے، سمندر، جنگل کچھ بھی نہ تھا۔ نہ کوئی نشیب نہ فراز۔ فقط ایک چٹیل میدان اور آگ اگلتا آسمان۔ کوئی جائے پناہ نہ تھی۔ برہنہ بدن، حسرت و یاس لیے ایک ہجوم تھا جو چیخ رہا تھا چلا رہا تھا۔ تڑپ اور سسک رہا تھا لیکن آہ و فغاں سننے والا کوئی نہ تھا۔

اسی بھڑکتی آگ اور شعلوں کی حدت سے بے دم ہوتے وہ ہجوم کے بیچوں بیچ آہستہ آہستہ چلنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ایک ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کے ساتھ ہی منظر بدل سا گیا تھا۔

یہ معصوم بھولے بھالے نوعمر بچے تھے۔ کستوری کی مہک ان کے چاراطراف بکھری ہوئی تھی۔ نور کے تاج تھے جو انہوں نے سروں پر پہن رکھے تھے۔ آج جب سب بےلباس تھے۔ان کا لباس اور آن بان دیدنی تھی

۔ اس کو پروردگار عالم نے چار بچوں کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ اس کے گھر میں قرآن پاک الماری میں سجا تھا اور اس کے بچے موبائل پر گیم کھیلنے اور ٹی وی پر کارٹون اور کرکٹ میچز دیکھنے میں مصروف تھے۔ اس نے اپنی غفلت سے چار امتی ضائع کر دئیے۔ اس کے لیے آگ ہے آگ۔ پیچھے دہکتی ہوئی آگ تھی۔ دائیں بائیں آگ تھی۔ آگے آگ تھی۔

”اے میرے رب! آج شدت سے رب یاد آیا تھا۔ آہ میرے بچو! آہ میری رعیت! آہ میں نے تمہیں دنیا میں کیا سکھایا۔ ان کے بیوی اور بچے سوالیہ نشان بنے انہیں چاروں جانب سے گھیرے ہوئے تھے۔ نہیں نہیں کی تکرار کرتے احمد صاحب ہڑا بڑا کر اٹھ بیٹھےتھے۔

دیوار گیر گھڑی رات کے ڈھائی بجا رہی تھی۔ قریب ہی پرسکون نیند سوئی ہوئی ان کی رعیت تھی۔  میری بیوی، میرے بچے، میرے گھر والے۔ کیسا استحقاق تھا اور یہ استحقاق کچھ تقاضے کرتا تھا۔ معاشی سہولیات سے بلند تر تقاضے۔ تعلیم و تربیت کے تقاضے۔ نفع بخش علم و عمل کے تقاضے۔ جس کے سر پر ایسی بھاری زمہ داری رکھی ہو وہ کیوں کر سو پائے گا۔ وہ اٹھ گئے تھے۔ رات کا پچھلا پہر، ہر طرف پھیلا سکوت، ستاروں سے جھلملاتا آسمان۔ میرا رب آسمان دنیا پر ہے۔ مجھے پکار رہا ہے۔ ایک خیال روشنی بن کر چمکا تھا۔ روز پکارتا ہے۔ جب تم سوئے ہوتے ہو۔ کسی نے کان میں گویا سرگوشی کی۔ایک آنسو رخسار پر ڈھلک آیا تھا۔ اے اللہ تو ہی میرا رب ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

وضو مضطرب اعضا کو سکون بخش رہا تھا۔ ”میری رعیت۔“ انہوں نے خود کلامی کی۔

”زینب اٹھیے۔“ گہری نیند ہی میں زینب نے کروٹ بدل لی تھی۔ پانی کا ایک نرم سا چھینٹا۔ انہوں نے آنکھیں کھول کر شوہر کی جانب دیکھا۔ ”ہمارا رب آسمان دنیا پر ہمیں پکار رہا ہے۔ روز پکارتا ہے آج اٹھ جائیے۔“ انہوں نے جیسے التجا کی کہ اگر وہ نہ اٹھیں تو آگ تو بس ان کے پاؤں تلے دہک ہی رہی تھی۔

تہجد کے نوافل میں وہ قرات کر رہے تھے۔ زینب ان کے ہمراہ تھی۔ اقرا باسم ربک الزی خلق0 خَلق الانسان من علق0 اقرا و ربک الاکرم 0 الزی علم بالقلم0علم الانسان ما لم یعلم0

”زینب! رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں شب قدر ہے اور اسی شب کی مبارک و منور ساعتوں میں اللہ تعالی کے مقرب فرشتے جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالی کا یہ پیغام تمام نوع انسانی کے لیے لے کر ہمارے پیارے و محترم نبی آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ پڑھو اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔ جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔“

”آئیے زینب! مل کر اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں۔ اللہ تعالی سے معافی مانگیں۔ اپنی اصلاح کریں۔ قرآن پاک اور اسوہ رسول حسنہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رہنمائی کے لیے کوئی پروگرام ترتیب دیں۔ آئیے زینب کہ قرآن پاک کا ہم پر حق ہے کہ اسے پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ ہم اس گھر کے، ان بچوں کے نگراں اور زمہ دار ہیں۔ میں اس گھر کا نگراں اور جوابدہ ہوں۔“ جوابدہی کے خوف سے زباں لڑکھڑا سی گئی تھی۔ خوف آنکھوں سے جھلک رہا تھا۔ ”آپ ان بچوں پر نگراں اور جوابدہ ہیں۔“ زینب بنا پلکیں جھپکائے ایک ٹک انہیں دیکھے جا رہی تھیں۔

”یہ گھر جہاں خاندان رہتا ہے ناں بہت بابرکت جگہ ہے۔ کیوں نہ ہم قرآن پاک سے عملی تعلق کی بحالی کا پروگرام اپنے گھر سے شروع کریں۔ کبھی میں نگران بنوں اور آپ معاون۔ کبھی آپ نگران اور میں معاون ہم دونوں مل کر اپنے اور اپنے بچوں کو قرآن کے نور سے، تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نور سے منور کرنے میں لگ جائیں کہ اس دن جب کہیں جائے اماں نہ ہوگی۔جب ہر طرف زمین آگ اگل رہی ہوگی آسمان آگ برسا رہا ہو گا اس روز اس روز۔“ وہ دونوں ہچکیوں سے رونے لگے تھے۔ ”مالک! اس روز ہمارا شمار قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں میں کرنا۔ آمین“

رمضان تو حصول علم کا مہینہ ہے۔ کرن سورہ علق کی تلاوت کر رہی تھی۔ کاشف ترجمہ پڑھ کر سنا رہا تھا۔ ابا جان بچوں کو بتا رہے تھے۔ ”اللہ تعالی نے اپنی ہر مخلوق کو حسب ضرورت علم عطا کیا۔ جیسے مچھلی کو تیرنے کا علم پرندوں کو اڑنے کا علم فرشتوں اور جنات کو بھی علم عطا ہوا لیکن انسان کو بہت زیادہ علم عطا کر کے تمام مخلوقات پر فضیلت عطا کی گئی۔ اللہ تعالی کا عطا کردہ یہ علم جسے علم الاسماء کہا جاتا ہے، کی بدولت ہی انسان کو اللہ کا نائب اور مسجود ملائک ہونے کا شرف ملا۔“

امی اور بابا جانی بچوں کو سورہ علق کی تفسیر سکھلا رہے تھے۔ ننھے اذہان علم کی قدر وقیمت سمجھنے لگے تھے۔ ہمیں حکم ربانی ہے کہ سیکھیں۔ وہ علم جو منتشر گروہوں کو ملت واحدہ میں بدلتا ہے۔ جو اضطراب کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں سکون کی کرنیں بکھیرتا ہے۔ وہ علم جو تفکر کائنات کی دعوت دیکر ستاروں پر کمند ڈالتا ہے۔ نافع تخلیقات اور ایجادات کی راہیں کھولتا ہے۔ وہ علم جو خالق کی رضا اور مخلوق کے لیے امن و سلامتی بنتا ہے۔ ”اے ہمارے رب! ہم اس قابل نہیں کہ قرآن پاک پڑھنے اور پڑھانے کا حق ادا کر سکیں لیکن تیری رحمت پر نظر رکھتے ہوئے ہم اس فریضہ عظیم کو ادا کرنے کا ارادہ کر چکے۔ ہم نے تجھ پر توکل کیا اور تو ارادوں کو پورا کرنے والا، راہ ہدایت دکھانے والا، اس پر چلانے والا اور منزل تک پہچانے والا ہے۔ اور ہم نے تجھ پر بھروسہ اور تجھ پر توکل کیا۔ تو ہماری نیتوں کو خالص اور ہمارے اعمال کو قبولیت بخش دے۔ اس رمضان میں ہمارے ہر گھر کو اصحاب صفحہ کا چبوترہ بنا دے۔ آمین۔ بے شک ہم تیرے ہیں۔ تیری جانب ہی ہمیں پلٹنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact