Sunday, May 26
Shadow

چاچا زرافہ کہانی کار: شفق عثمان

کہانی کار شفق عثمان
جنگل بہت سے جانوروں سے بھرا ہواتھا ، چھوٹے بڑے ، گوشت کھانے والے ، درختوں کے پتے کھانے والے ، آہستہ چلنے والے اور تیز بھاگنے والے سب ہر طرح کے جانور یہاں رہتے تھے۔ مگر ! سب میں مشہور چاچا زرافہ تھے ، سارے جانور ان سے خوش تھے اور چھوٹے جانور تو ان سے بہت پیار کرتے تھے۔

زرافہ سے چاچا زرافہ بننے کی کہانی کچھ یوں شروع ہوئی کہ کچھ سال پہلے یہاں بہت تیز بارشیں ہوئی تھیں اور خطرناک طوفان آیا تھا ، کمزور اور چھوٹے درخت تو گر گئے ، مضبوط بڑے اور لمبے درختوں کو کچھ بھی نہیں ہوا ، وہ اپنی جگہ پر صحیح سلامت رہے ، ان پر پھل بھی زیادہ لگنے لگے۔ چھوٹے چھوٹے درختوں کا ٹوٹ کرگر جانا یہاں کے جانوروں کے لئے بڑا مسئلہ بن گیا تھا ، کیونکہ زیادہ تر جانوروں کا قد چھوٹا اور جسم موٹا تھا ، اور وہ بڑے درختوں کے اوپر چڑھ  نہیں سکتے تھے اور اپنے کھانے کا انتظام پورے طریقے سے نہیں کر پاتے تھے۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے چھوٹے جانوروں نے آپس میں مشورہ کیا۔بڑے جانورں سے مدد مانگی ، یہاں تک کہ حکیم کبوتر سے مشورہ بھی کیا لیکن نہ تو کسی نے مدد کی اور نہ ہی کوئی حل نکل نہیں پایا۔ آخری میٹنگ جو کہ ماسی لومڑی کے گھر پر ہورہی تھی ، اس میں سب کا اتفاق ہوا اور اس پریشانی سے نکلنے کا یہی حل چھوٹے جانوروں کو سمجھ آیا کہ اس جنگل کو چھوڑ دیتے ہیں اور دوسرے جنگل چلے جاتے ہیں وہ جنگل بھی اس کی طرح ایک بڑا جنگل تھا۔

اگلی صبح جنگلی اخبار سے پورے جنگل میں یہ بات پھیل چکی تھی اور چھوٹے جانور بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ رہے تھے جبکہ بڑے جانور اور پرندے بہت افسردہ تھے لیکن کوئی ہمت نہیں کر رہا تھا اور چھوٹے جانوروں کی مدد کے لئے آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ خیر سب آخری ملاقاتیں کررہے تھے۔ ایک دوسرے کا ساتھ چھوٹنے پر  رو رہے تھے۔ اچانک کالے کوؤں نے شور مچانا شروع کردیا : زرافہ آرہے ہیں ، کھانے کا سامان لارہے ہیں ، زرافہ آرہے ہیں ، کھانے کا سامان لارہے ہیں ، آنسو پونچھتے ہوئے سب راستے کی طرف بڑھے اور دیکھنے لگے کہ زرافہ کی جماعت آرہی ہے اور ان کے پاس ڈھیر ساری کھانے کی چیزیں ہیں۔

سب سے لمبے زرافہ نےبات شروع کرتے ہوئے کہا : میرے جنگلی بھائیو ! تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ، تمہارا مسئلہ حل ہوچکا ہے ، میں اور میری ٹیم نے زرافہ ویلفیئر کے نام سے ایک ویلفیئر بنائی ہے ، یہ ویلفیئر ہر علاقے میں روزانہ تمہارے لئے کھانے کا انتظام کرےگی ، وہاں سے تم کھاسکتے ہو اور لے بھی جاسکتے ہو۔

ہُرے ، واہ واہ ! کیا بات ہے ، زبردست ، بہت خوب جیسے الفاظ گونجنے لگے ، بڑے جانوروں نے تعریف کی اور چھوٹے جانوروں نے شکریہ ادا کیا ، حکیم کبوتر بھی آگے بڑھے اور پُرجوش انداز میں کہنے لگے : زرافہ ویلفیئر بناکر بہت زبردست کام کیا گیا ہے ، اس کا انعام یہ ہے کہ آج کے بعد انہیں لمبا زرافہ نہیں بلکہ چاچا زرافہ کہا جائے گا۔ سب نے اتفاق کیا اور ہنسی خوشی اسی جنگل میں رہنے لگے۔

پیارے بچّو ! پریشان کی مدد کرنا اور اس کی تکلیف دُور کرنا بہت بڑی نیکی ہے ، چاچا زرافہ کی طرح ہمیں بھی چاہئے کہ دوسروں کی پریشانی دور کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact