محمود الحسن عالمیٓ

علامہ محمد سفیان صاحب نے محمد عمر علی باقی صاحب کو “علوی جامع مسجد” کی تہہ در تہہ لمبی قطار نما بنی سیڑھیوں سے اُترتے دیکھ لیا تھا اور اب وہ بڑی بے صبری سے اِس انتظار میں تھے کہ کب باقی صاحب  نمازیوں کے ہجوم سے نکلتے ، سیڑھیوں سے نیچے اُترتے ہوئے ان کی جانب کو آتے ہیں۔آخر کار علامہ صاحب کا انتظار ختم ہوا اور باقی صاحب مسجد کی قطار نما سیڑھیوں سے خراماں خراماں پُراعتماد قدم اُٹھاتے ہوئے باہر سڑک کو آ نکلے لیکن علامہ صاحب کی توقع کے عین برعکس مخالف سمت میں گھر واپسی کی نیت سے چل دیے۔

علامہ صاحب دُوڑتے ہوئے باقی صاحب کی طرف لپکے اور کسی تفتیشی انسپکٹر کی طرح اُن کے کاندھے پر اپنا بھاری بھرکم ہاتھ رکھ کر اُنھیں روکتے ہوئے با آواز بلند کچھ یوں ڈھارے:

او باقی صاب ۔۔۔ ! آپ کہاں سے اور کب سے اِن  جھوٹے ، مکار ، کافروں کی مسجد میں آنے جانے لگ گئے جبکہ پچھلے جمعے سپہر کو میں نے بذاتِ خود اپنی اِن گناہ گار آنکھوں سے آپ کو کلیسائے مریمِ مقدس میں ہاتھوں میں کھانےکا تھال لیے گھستے ہوئے دیکھا تھا۔لیکن عصر کی نماز پڑھانے کی جلدی کے باعث آپ کو رُوک کر پوچھ نہ سکا کہ آپ باالحمدللہ ایک پیدائشی مسلمان ہونے کے باوجود ، اِن مرتد و کافر عیسائیوں کے کلیساء میں کیونکر اور کب سے جارہے ہیں۔”

“جب سے مذہبِ انسانیت پر ایمان لاتے ہوئے نیا نیا مسلمان ہوا ہوں۔” باقی صاحب نے نہایت میٹھی سی مسکراہٹ مسکراتے ہوئے فی البدی جواب دیا۔”

علامہ صاحب نہایت طنزیہ انداز میں برجستہ بولے:

“اچھا۔۔۔! میں تو آپ کو پیدائشی مسلمان جانتا تھا کیا آپ پہلے کافر تھے جو اب نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں یا پہلے مسلمان تھے اور اب یہ کافروں سے اُٹھک بیٹھک لگائے ، صحبت میں رنگے ، کافر ہو چلے ہیں؟”

باقی صاحب! طنز میں چھپی نفرت و حقارت ٹپکتی سوچ اور دل آزار گہرے معنوں کو خوب جان گئے۔لیکن خود پر قابو پاتے ہوئے ، ایک مصنوعی مسکراہٹ مسکرائے بولے:

“دیکھے محترم ! خالقِ  کائنات کے فضل و کرم سے بے شک تھا تو میں ازل سے ہی اِک پیدائشی سا مسلمان ۔۔۔۔ لیکن اسلام کی اصل روح یعنی انسانی محبت و فلاخ کے معنوں میں کسی حد تک یا شاید بہت کم حد تک۔۔۔ یا یوں سمجھ لیجیے کہ میں اِن معنوں میں صرف پاکستانی شناختی کارڈ میں خانہء مذہب کی چھاپ میں چھپا  اِک نِرا  پیدائشی سا مسلمان تھا کہ جو معنیِ قرآن سے بالکل ناآشنا ، محض قرآن کی عربی کو کسی رٹو طوطے کی طرح رٹے سنی سنائی باتوں اور بے تحقیق عقائد و افکار کا اندھا پیروکار تھا اور حصوصاً اُس کتاب انسانیت سے بالکل غافل و بے خبر تھا کہ جو ایک نِرے پیدائشی مسلمان کو با عمل شعوری مسلمان میں بدل دیتی ہے۔”

سفیان صاحب ماتھے پر موٹے موٹے دُو چار شکن ڈالے چِڑ چِڑا کر بولے:

“ارے باقی صاحب ! آپ بھی کمال کرتے ہیں کہ کہاں کی بات تھی اور کہاں کو لے گئے کہ کونسا مذہبِ انسانیت ۔۔۔۔ ؟ ۔۔۔۔ کیسی نئی نویلی مسلمانی ۔۔۔۔ ؟ ۔۔۔۔ کیسی کتابِ انسانیت۔۔۔ ؟”

باقی صاحب علامہ صاحب کے آگ اُگلتے ماتھے کی سِلوٹ زدہ شِکنوں کو بھانپے،اپنے دونوں ہاتھ سینے پر لا کر نیچے کی طرف متحمل انداز میں جھٹکتے ہوئے بولے:

“ذرا آرام سے۔۔۔ذرا آرام سے علامہ صاحب۔۔۔! آئیے ذرا بیٹھ کر تحمل سے بات کرتے ہیں۔۔۔لیجٔے پانی پیجئے۔۔۔غصہ تُھوکیے۔”

باقی صاحب علامہ صاحب کو قریبی پتھر کے بنے عوامی بنچ پر بیٹھاتے ہوئے چند لمحے توقف کے بعد ایک نرم مسکراہٹ مسکرائے ، آہستگی سے بولے:

 “دیکھئے محترم۔۔۔!سب بتلاتا ہوں لیکن اِس واحد شرط پہ کہ آپ میری اِس طالب علمانہ رائے کو کاٹے ، ٹوکے بغیر اپنی پوری دل جمعی کے ساتھ سُنے گئے۔ اگرچہ بات کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو جائے اور پھر اِس پر اپنا اظہارِ خیال فرمائے گئے۔بولیے شرط منظور ہے ؟”

علامہ صاحب  باقی صاحب کی دی گئی بوتل سے پانی کے چند گھونٹ نگلتے ، اِک بے نیازانہ آہ بھرے کچھ یوں گویا ہوئے:

“ہاں بھئی اب بولا بھی کیا جاسکتا ہے کہ اِس شرط کو مانے بغیر اب گزارہ بھی نہیں ؟ ویسے بھی ٹھیک ہے لیکن یاد رہے کہ بعد میں مجھے بھی آپ کے موقف پر بولنے کی کھلی آزادی عطاء ہونی چاہیے تو ہی سب باخیر ٹھیک رہے گا۔پس تو پھر سنائیے۔۔۔! کہ ہم آپ کی خواہش کے عین مطابق اپنی پوری دل جمعی کے ساتھ آپ کا طالب علمانہ موقف سُننے کو بے قرار ہے۔”

باقی صاحب گلہ کھنکھناتے ، دھیمہ سا مسکراتے ، اپنی انگشتِ شہادت کا اشارہ آسمان کی جانب کر کے بولے:

دیکھئے میرے محترم علامہ صاحب! میرا وہی مذہبِ انسانیت ہے کہ جس کا دوسراں نام اسلام ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ وہی اسلام کہ جس کا پہلا نام مذہبِ انسانیت ہے کہ یہ بات میں عموماً سب مسلمانوں اور حصوصاً غیر مسلموں کے لیے کے لیے اِک  کھلے علمی دعویٰ کے طور پر کہہ سکتا ہوں کہ حقیقی اسلام کی کوئی بھی چیز ، نظریہ ،ضابطہ یا قانون وغیرہ اپنے ادنیٰ سے ادنیٰ درجوں میں بھی انسانیت کے خلاف ہرگز نہیں ہے کہ یہ وہ دینِ فطرت ہے کہ جو انسان کی انفرادی زندگی کے انتہائی چھوٹے سے چھوٹے معاملے سے لے کر اجتماعی زندگی کے حوالے سے عالمی سطحوں پر بڑے بڑے مسائل کے حل کے لیے یکسر ایک انتہائی جامع ضابطہء حیات فراہم کرتا ہے۔پس انسانی فطرت پر مبنی ضابطہء حیات پر کیا جانے والا ہر اعتراض  چاہے اُسے کتنے ہی جدید اور مصنوعی حسن کے نمائشی کاغذوں میں لپیٹ ناں لیا جائے  اپنی اصل میں نہایت بے بنیاد ، جاہلانہ ، بلکہ حد درجے احمقانہ ہی رہے گا۔پھر چاہے کوئی بھی صدقِ دل سے جہاں بھر کے فلسفے ، کتابیں اور نظریے کھنگال ڈالے لیکن یہ سب خوب کھنگال کر بھی حقیقی معنوں میں اسلام کی اصل پر کوئی ایک عدد  جاندار اعتراض وارد نہ کرسکے گا۔ بس اِس کے لیے شرط یہ ہے کہ یہ سارا تحقیقی سفر صدقِ دل پر منحصر بلاتعصب ہوں وگرنہ تعصب اور بدنیتی کی تو کوئی حد ہی نہیں ہے۔

پس علامہ صاحب!یہی وہ شرح صدر تھی کہ جو میرے ربِ انسانیت ،خالقِ کائنات کی طرف سے مجھ پر خصوصی  کرم و عنایت کے طور پر وارد ہوئی اور میں اُس کے لطف و عنایت سے  پیدائشی مسلمان کی نرِی چھاپ سے نکلتے ہوئے بلاآخر عمر کے اِس قریب الضعف حصے میں شعوری سطح پر ایمان لاتے ہوئے ابھی کل ہی نیا نیا مسلمان ہؤا ہوں یا یوں سمجھ لیجئے کہ نیا نیا انسان ہؤا ہوں۔

رہی بات کیسی کتابِ انسانیت کی تو یہ وہی کتابِ مبین “القرآن” ہے کہ جو بلا تفریق مذہب و ملت انسانی محبت و فلاخ کی آفاقی تعلیمات اور پوری انسانیت سے عدل و انصاف پر مبنی پیغامات کے نغمے اپنی اِن مترنم آیات کی لے میں جھوم جھوم کر گاتا ہے۔آپ بھی ذرا دل کو تھام کر اور سماعتوں جو تیز کیے،جُھومتے ہوئے سُنیے:

اے انسانوں! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور قبیلے بنا دیے۔محض اِس لیے تاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کی بآسانی شناخت  کرسکو۔البتہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا تو وہی ہے کہ جو(چاہے کسی بھی قوم ، قبیلے سے تعلق رکھے اِس سے کوئی فرق نہیں ماسوائے صرف اِس کے) کہ تم میں کون زیادہ نیکی میں سبقت لے جانے والا متقی ہے۔ بےشک خدا سب کچھ جاننے والا ، سب سے خبردار ہے۔سورۃ نمبر 49 الحجرات، آیت نمبر 13

اے ایمان والو !(اپنے قول و فعل کے لخاظ سے)ایسے بن جاؤ کہ اللہ (کے احکام کی پابندی) کے لیے ہر وقت تیار ،انصاف کی گواہی دینے والے ہو جاؤ، کہ کسی بھی قوم سے دشمنی تمہیں اِس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اُس سے  ناانصافی کرنےلگ جاؤ۔پس (ہر سطح پر اور ہر صورت) انصاف سے کام لو، کہ یہی طریقہ تقوی سے انتہائی قریب تر ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقینا تمہارے سب کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔سورۃ نمبر 5 المائدة،آیت نمبر 8

کچھ عجب بات نہیں ہے کہ  اللہ تمہارے اور جن لوگوں سے تمہاری دشمنی ہے، باہمی دوستی پیدا کردے، کہ اللہ بڑی قدرت والا ، بہت بخشنے والا اور بہت مہربان ہے۔ اللہ تو تمہیں اِس بات سے منع ہی نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے(جداگانہ) مذہب کی بناء پر تم سے جنگ نہیں کی، اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا،تم اُن کے ساتھ نیکی یا انصاف کی روش اختیار کرو کہ یقین رکھو اللہ(ہر سطح پر) انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اللہ تو تمہیں صرف اِس بات سے منع کرتا ہے کہ جن لوگوں نے تمہارے ساتھ (جداگانہ ) مذہب کی بناء پر جنگ کی ، اور تمہیں تمہارے اپنے ہی گھروں سے نکال باہر کیا، یا پھر تمہیں نکلوانے میں (غیروں ) کی مدد کی ،تو تم(اِن سب ظالمانہ اقدام کو سہتے ہوئے باوجود) اُن سے دوستی رکھو کہ جو لوگ(ایسی صورت میں)اِن سے دوستی رکھیں گے، وہی تو ظالم ہیں۔سورۃ نمبر 60 الممتحنہ، آیات نمبر:7 تا 9۔

حق تو یہ ہے کہ جو لوگ بھی خواہ وہ مسلمان ہوں، یہودی ہوں، عیسائی ہوں یا صابی(غیر اہل کتاب اور بت پرست)لوگ۔ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لے آئیں اور پھر نیک عمل بھی کریں گے وہ الله کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہوں گے کہ اِن کو نہ تو کوئی خوف ہوگا اور ہی وہ کسی بھی قسم کے غم میں مبتلا ہوں گے۔سورۃ نمبر 2 البقرة،آیت نمبر 62

دین(قبول کرنے) کے معاملے میں کوئی جبر /زبردستی نہیں ہے کہ ہدایت کا راستہ گمراہی سے عین ممتاز ہو کر بالکل واضح ہوچکاہے پس اِس کے بعد جو شخص طاغوت(غیر اللہ معبود)کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے گا، تو(یوں سمجھ لو) اُس نے ایک مضبوط کُنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا ہرگز کوئی امکان نہیں، کہ اللہ خوب سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔سورۃ نمبر 2 البقرة،آیت نمبر 256

(مسلمانوں۔۔۔!) جن  کو یہ(غیر مسلم) لوگ اللہ کے علاوہ پکارتے ہیں تم اُن کو ہرگز بُرا نہ کہنا، کہ  کہی مبادا یہ لوگ جہالت کے عالم (اور تمہاری ضد) میں اپنی حد سے آگے بڑھتے ہوئے اللہ کو برا کہنے لگ جائے۔(کہ یہ بنیادی مصلحت خوب یاد رکھو کہ اِس دنیا میں تو) ہم نے ہر گروہ کے عمل کو اس کی نظر میں خوش نما بنا رکھا ہے۔ البتہ  آخر اِن سب کو اپنے پروردگار کی طرف ہی لوٹنا ہے کہ پھر وہ اس وقت وہ انہیں بتائے گا کہ وہ(دنیا میں)کیا کچھ کِیا کرتے تھے۔سورۃ نمبر 6 الأنعام,آیت نمبر 108

اور (مسلمانوں) اہل کتاب(غیر مسلموں) سے بحث نہ کرو، مگر ایسے طریقے سے جو کہ بہترین ہو۔ البتہ اِن میں سے جو پھر بھی زیادتی کریں، اُن کا معاملہ الگ ہے۔کہ اِن یہ کہہ دوں کہ : ہم اُس کتاب پر بھی عین ایمان لائے جو ہم پر نازل کی گئی ہے، اورعین اِسی طرح اُس پر بھی جو تم پر نازل کی گئی تھی کہ( انسانی بھائی چارے پر مبنی انتہائی بھلی بات تو یہ ہے کہ) ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہی تو ہے، اور ہم اُسی کے فرماں بردار ہیں۔سورۃ نمبر 29 العنكبوت،آیت نمبر:46۔

(مسلمانوں! اہل کتاب سے) کہہ دو کہ : اے اہل کتاب ! ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم تم میں یکساں و مشترک ہے، اور وہ یہ کہ ہم اللہ کے سِوا کسی کی عبادت نہ کریں گے،  اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور اللہ کو چھوڑ کر ہم میں سے کوئی کسی کو رب نہ بنائے گا۔ پھر بھی اگر وہ اِس بات سے منہ موڑیں تو کہہ دو : گواہ رہنا کہ ہم ہی (حقیقی) مسلمان ہیں۔سورۃ نمبر 3 آل عمران،آیت نمبر 64

آج تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئی ہیں کہ جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی(یعنی غیر مسلم یہود ونصاریٰ)اِن کا کھانا بھی تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا بھی اِن کے لیے حلال ہے نیز مومنوں میں سے پاک دامن عورتیں بھی اور اُن (غیر مسلم یہود و نصارٰی) لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (بشرطِ یہ کہ)تم نے اِن کو نکاح کی حفاظت میں لانے کے لیے اِن کے مہر دے دیے ہوں، نہ کہ  (بغیر نکاح کے) صرف اپنی ہوس نکالنا مقصود ہو  یا پھر محض خفیہ یارانہ لگانا۔کہ جو شخص(اِن شرائط کو نظر انداز کرتے ہوئے) ایمان سے انکار کرے اِس کا سارا کا سارا کیا دھراغارت ہوجائے گا اور آخرت میں بھی اُس کا شمار خسارہ پانے والوں میں ہوگا۔سورۃ نمبر 5 المائدة،آیت نمبر 5

اور پھر یہ کہ خدائے انسانیت اللہ عزوجل ۔۔۔۔۔”

علامہ صاحب نے بات ٹوک دی:”  جی میں سمجھ گیا ۔۔۔ سہی یہ سب تو اپنی جگہ پر عین موجود ہے اور بجا ہے۔۔۔لیکن وہ جامع مسجد علوی۔۔۔۔!”

“ارے علامہ صاحب! ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی آپ جو کہنے والے ہیں شایداُِس کا جواب بھی آپ کو میری بات کے آخر تک مل جائے۔پس آپ اپنے وعدے پر قائم رہیے اور ذرا مجھے اپنی بات مکمل کرنے کی اجازت سے نوازے رکھے۔آپ کی بڑی نوازش ہوگی۔”باقی صاحب نے درخواستانہ لہجے میں زیرِِ لب مُسکراتے ہوئے کہا۔

“چلے ٹھیک ہے۔۔۔ویسے وعدے کی پاسداری انسان کو کیا کیا اور کس کس کی سُننے پر خاموشی سے مجبور کیے دیتی ہے۔”علامہ صاحب نے اپنے اگلے چار دانت چمکاتے ، ہنستے ہوئے کہا۔

اِک خوب صحت مند قہقہہ گونجا۔جس نے علامہ صاحب کے مزاج پر چھائی تُندی، تلخی کو  قہقہے کی ہنسی میں کافور کرتے ہوئے،لاشعوری طور پر ہی انُھیں باقی صاحب کی بات کی دل جمعی  کے ساتھ جوڑ دیا۔باقی صاحب نے جب دیکھا کہ علامہ صاحب اب اُن کی بات سُننے کو بہت حد تک متجسس ہے،متحرک اور تیار ہے۔تو اِسی تاثر سے انگیزش حاصل کرتے ہوئے اِک انجانے سے ولولے کی شدت سےخود کو گرمائے ایک بار پھر اپنی انگشتِ شہادت آسمان کی طرف کر کے کچھ یوں گویا ہوئے:

بہرحال مزاح کے علاوہ تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ محترم علامہ صاحب! یہ وہی کتاب انسانیت القرآن ہے کہ جس میں خدائے انسانیت اللہ عزوجل نے بنیادی انسانی حقوق کی مفصل ترین تفصیلات سے لے کر ، اولین انسانی فرائض کی  جامع ترین جزویات تک رکھ چھوڑی ہیں کہ اِن حوالے سے خدائے انسانیت اللہ الرحمٰن کیا ہی خوب ارشاد فرماتا ہے، ذرا دل کو تھام کر ملاحظہ فرمائیے:

جو کوئی کسی کو قتل کرے، جبکہ یہ قتل نہ کسی انسانی جان کا بدلہ لینے کے لیے(بطورِ قصاص) ہو اور نہ ہی کسی کے زمین میں فساد پھیلانے والے کا ہو، تو گویا (ایک انسان کو  ناحق قتل کر دینا)ایسا  ہی ہے کہ جیسے اُس نے تمام انسانیت کو قتل کردیا اور(پھر اِسی طرح)جو شخص کسی انسان کی جان بچالے تو ایسا ہی ہے جیسے اُس نے تمام انسانیت کی جان بچالی اور واقعہ یہ ہے کہ ہمارے پیغمبر اِن کے پاس اِس قدر جامع و روشن ہدایات لے کر آئے، مگر اِس کے بعد بھی اِن میں سے بہت سے لوگ زمین میں ظلم ہی ڈھاتے رہے ہیں۔سورۃ نمبر 5 المائدة، آ ٓیت نمبر 32

اور جو مرد (ناحق)چوری کرے اور جو عورت(ناحق )چوری کرے، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ، تاکہ اِن کو(انسانیت کے مال و عزت پر ناحق ڈاکہ ڈالنے کے عوض)اپنے کیے کا اِنھیں خوب بدلہ  ملے، اور نیز یہ کہ اللہ کی طرف سے بھی انھیں عبرت ناک سزا ہوجائے۔ کہ اللہ صاحبِ اقتدار بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی۔البتہ جو (ناحق انسانیت کے مال و عزت پر ڈاکہ ڈالنے والا)شخص اپنی اِس ظالمانہ کاروائی سے (پکی سچی) توبہ کرلے، اور پھر اپنے معاملات درست کرتے ہوئے اصلاح کر لے، تو اللہ اُس کی توبہ قبول کرلے گا بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔سورۃ نمبر 5 المائدة،آیات نمبر 39+38

(انسانیت سے) کہہ دوں کہ : آؤ! میں تمہیں پڑھ کر سناؤں کہ تمہارے پروردگار نے (درحقیقت) تم پر کونسی باتیں حرام کی ہیں۔ وہ بس یہی چند ہیں کہ اُس(ایک خدا) کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ماں باپ کی (نافرمانی نہ کرتے ہوئے )اُن کے ساتھ خوب اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ، اور غربت کے (خوف کے) پیشِ نظر اپنی اولاد کو ہرگز قتل  نہ کرو کہ تمہیں بھی ہمی رزق دیتے ہیں اور اُنھیں بھی۔ نیز یہ کہ بےحیائی کے کاموں کے پاس بھی نہ پھٹکو، چاہے پھر وہ بےحیائی کھلی ہوئی ہو یا چھپی، اور جس(انسانی )جان کو اللہ نے قتل کرنے سے منع کیا ہے اُسے کسی برحق وجہ کے بغیر ہرگز قتل نہ کرو۔ لوگو! یہ ہیں وہ باتیں کہ جن کی اللہ نے ہدایت و نصیحت کی ہے تاکہ تمہیں کچھ سمجھ بوجھ آجائے۔سورۃ نمبر 6 الأنعام،آیت نمبر 151

جو لوگ اللہ کے راستے میں اپنا مال(صدقات و خیرات کے ذریعے،انسانیت کی راہ میں)خرچ کرتے ہیں۔اُن کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ سات بالیں اُگائے اور ہر بالی میں سو دانے ہوں عین اِسی اللہ جس کے لیے چاہتا ہے (ثواب میں) کئی گنا اضافہ کردیتا ہے کہ اللہ بہت وسعت والا ، بڑے علم والا ہے۔(پھر کہے دیتے ہیں کہ) جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ ہی (کسی قسم کا)احسان جتلاتے ہیں اور نہ(کسی بھی سطح پر)کوئی تکلیف پہنچاتے ہیں، وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا یہ اجر  پائیں گے کہ نہ اُن کو کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ کبھی کوئی غم پہنچے گا۔(لیکن یہ بھی یاد رکھو) کہ بھلی بات کہہ دینا اور دُرگزر کردینا اُس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد کوئی تکلیف پہنچائی جائے کہ اللہ (تمہارے دنیاوی مال و اساب سے) بہت بے نیاز، بڑا  حلم والاہے۔پس اے ایمان والو !(انسانیت کی راہ میں دیے گئے)اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر اُس شخص کی طرح ہرگز  ضائع مت کرو جو محض اپنے مال کی نمائش کرتے ہوئے لوگوں کو دِکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور(یوں اپنے اِس عمل سے یہ ثابت کیے دیتا ہے) کہ وہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔لہذا اگر تم صدقات ظاہر کر کے دو تب بھی اچھا ہے، اور اگر اِن کو بالکل چھپا کر  کو دو تو یہ تمہارے حق میں کہیں زیادہ اچھا اور بہتر ہے، کہ  اللہ(اس نیکی کے عوض) تمہاری برائیوں کا کفارہ کردے گا،  اور (یاد رہے) کہ اللہ تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔سورۃ نمبر 2 البقرة,آیات نمبر 261تا 271

تم نیکی کے (اعلیٰ)مقام تک اُس وقت تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے کہ جب تک تم اِن چیزوں میں سے (انسانیت کی راہ میں صدقات و خیرات) خرچ نہ کرو کہ جو تمہیں بڑی پسندیدہ و محبوب ہیں۔ کہ جو کچھ بھی تم خرچ کرو، اللہ اُسے خوب جانتا ہے۔سورۃ نمبر 3 آل عمران،آیت نمبر 92

جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (انسانیت کی راہ میں) مال خرچ کرتے ہیں، اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کر دینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک انسانوں سے بڑی محبت کرتا ہے۔ سورۃ نمبر 3 آل عمران،ٓآیت نمبر 134

اور جب تم کو کوئی سلامتی کے ساتھ دعا دئے تو  تم اُس سے بہتر  جواب دو۔ یا(کم از کم) اُسی لفظوں سے دعا کا جواب اُس پہ لٹا دو کہ بےشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔سورۃ نمبر 4 النساء،آیت نمبر 86 

بڑی خرابی ہے اُس شخص کی جو پیٹھ پیچھے دوسروں پر عیب لگانے والا اور منہ پر طعنے دینے کا عادی ہو۔جس نے (ناحق)مال اکٹھا کیا ہوا اور اسے گِنتا(جمع کرتا) رہا ۔وہ سمجھتاہے کہ اُس کا مال اُسے ہمیشہ ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ہرگز نہیں، وہ شخص تو چِکنا چور کر دینے والی جگہ میں پھینک دیا جائے گا۔سورۃ نمبر 104 الهمزة،آیات نمبر 1 تا 4

عرض میرے محترم! اِس طرح کی مزید درجنوں آیات کتابِ انسانیت القرآن سے پیش کی جاسکتی ہے لیکن ہم اپنی بات کو اختصار کے پیشِ نظر اب ذرا آگئے بڑھاتے ہیں۔

تو دیکھیے علامہ صاحب! یہ وہی کتابِ انسانیت القرآن ہے کہ جو سائنسی فہم پر مبنی درجنوں پیش گوئیاں کرنے کے ساتھ ساتھ انسان میں صحت مندانہ اور مثبت رویے پروان چڑھانے کی بنیادی حکمت کے پیشِ نظر مشاہدے ، تجزیے اور تجربے پر مبنی علم یعنی عقلی استدلال اور سائنسی طریقہ کار کے حامل علم کو لازم و ملزوم قرار دیتی ہے:

اور (اے انسان!) جس چیز کا تجھے علم نہیں اِس کے پیچھے(اندھا دھند) نہ پڑ۔ کہ کان ، آنکھ اور دل اِن سب سے کے حوالے سے تجھ سے یہ ضرور باز پرس ہوگی۔(کہ تم نے اِن کا استعمال یقینی علم تک پہنچںے کی کوشش کے لیے کیا کہ نہیں۔)سورۃ نمبر 17 الإسراءٓ آیت 36 

اور  ہاں علامہ سُفیان صاحب!اب آخر میں جہاں تک رہی بات آپ کے غیر فرقے کی جامع مسجد علوی میں نماز پڑھنے پڑھانے کی تو اِس حوالے سے بھی میرے بھائی ! یہ ملاخطہ فرما لیجیے  کہ مذہبِ انسانیت اسلام کے پیروکاران پر یہ بات عین نماز ،روزہ ، حج و زکوٰۃ کی طرح فرض ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے آپسی خلفشار ،مذہبی  فرقہ بازیوں ، قومی گروہ بندیوں اور کسی بھی سطح پر شدت بھرے تکفیری جذبات و افکار کو اپنی ذات کی جڑ سے اُکھیڑتے ہوئے اتحاد و وحدتِ اُمت کا پرچم تھام لے اور باہمی نظریاتی اختلافات کو پرامن علمی سطح پر ایک طرف رکھتے ہوئے سب کے پیچھے نمازیں پڑھے،سب کو  بنیادی خثیت میں یعنی کم از کم اعتقادی مسلمان سمجھے،باہمی سلام و دعا،لین دین اور محبت و فلاخ کی اپنے قول و فعل سے تصدیق و تبلیغ کرئے۔ہاں ۔۔۔ ! کہ بے شک کسی بھی سطح پر فرقہ بندی کی ہلکی سی گنجائش مذہبِ انسانیت میں ہرگز نہیں ہے۔شاید اِسی وجہ سے ہم میں آج یہ دُوہری منافقت عروج پر ہے کہ کٹر سے کٹر فرقہ پرست بھی دنیاوی مال و اسباب ، سودا سلف خریدتے بیچتے وقت دکان دار ، گاہگ کا ایمان ، مذہب ، فرقہ و ذات نہیں پوچھے گا۔کیونکہ اِسے پتہ ہے کہ اِس طرح  اِس کے دنیاوی یا کاروباری مفادات پر  کاری ضربیں لگیں گئی۔لیکن جہاں ہی بات دینی معمولات اور نیکی و ثواب کی آئے گی تو وہی باہمی سلام کرنے جیسی عام سی سُنت کے حوالے سے اپنے ہم مسلک علماء کے فتووں کی روشنی میں دس بیس باریکوں کو ناپے تولے گا۔اپنے مکتبِ فکر کے علاؤہ باقی تمام مکاتیب ہائے فکر کو کافر ، مرتد و زندیق اور نہ جانے کیا کیا کچھ نہایت بے فکری کے ساتھ بولے گا۔کیونکہ اُسے دینی معمولات و مفادات کے حوالے سے ایمان پر لگنے والی اِن چوٹوں اور ضربوں کی کوئی فکر پرواہ نہیں کہ جو کتابِ انسانیت القرآن متعدد جگہوں پر بار بار انتہائی جامع انداز میں بیان کر رہی ہے:

یہ تمہاری امّت(مُسلمہ) حقیقت میں ایک ہی امّت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم صرف میری ہی عبادت کرو۔مگر ( اِس واضح حکم کے باوجود  جنھوں نے سرکشی کرتے ہوئے) آپس میں دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا،کہ(اُنھیں اِس جرم عظیم سے ڈر جانا چاہیے) کہ آخر تو سب کو ہماری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔سورۃ نمبر 21 الأنبياء،آیات نمبر 92+91

اور اللہ کی رسی(قرآن ) کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو کہ آپس میں باہمی پھوٹ ڈالتے ہوئے فرقہ فرقہ نہ ہو جانا۔سورۃ نمبر 3 آل عمران،آیت نمبر 103

یقین جانو ۔۔۔ ! کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے، اور کئی فرقوں میں بٹ گئے ہیں، اِن سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِن کا معاملہ تو اللہ کے حوالے ہے۔ پھر وہ ہی انہیں بتلائے گا کہ یہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔سورۃ نمبر 6 الأنعام،آیت نمبر 159

اور یہ تمہاری امت(مُسلمہ )ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس  تم صرف میری (نافرمانی) ہی سے ڈرتے رہنا۔مگر(اِس واضح حکم کے باوجود ،کھلی نافرمانی کرتے ہوئے)بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا  کہ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اُسی میں خوش و مگن ہے۔اچھا،  پھر تم بھی چھوڑ دو اِنہیں، کہ یہ ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقت خاص تک۔سورۃ نمبر 23 المومنون،آیات نمبر: 52 تا 54

اور (نہ ماننے والوں سے) کہہ دو کہ میں تو صاف صاف تنبیہ کرنے والا ہوں۔یہ اُسی طرح کی تنبیہ ہے جیسی ہم نے اُن فرقہ بازوں کی طرف بھیجی تھی۔جنہوں نے اپنے قرآن(کے پیغام)کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تھا۔تو تیرے رب کی قسم! ہم ضرور اُن سب سے پوچھیں گے۔سورۃ نمبر 15 الحجر،آیات نمبر:89 تا 92

کہیں تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے باوجود پھر بھی اختلافات میں پھنس گئے(کہ یاد رکھو) کہ جنہوں نے یہ روش اختیار کی وہ اُس سختی کے دن سزا پائیں گے۔سورۃ نمبر 3 آل عمران،آیت نمبر 105

اور لوگوں نے باہمی حسد و ضد کی بناء پر  (دین میں) جو تفرقہ ڈالا ہے وہ(ہمیشہ)اُس کے بعد ہی ڈالا ہے جب اُن کے پاس یقینی علم آچکا تھا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معینہ مدت تک کے لیے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوئی ہوتی تو اِن کا فیصلہ کب کا ہوچکا ہوتا۔کہ اِن لوگوں کے بعد جن کو کتاب کا وارث بنایا گیا ہے وہ اِس کے بارے میں  شکوک وشبہات کی شدید اُلجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔سورۃ نمبر 42 الشورى،آیت نمبر 14

 باقی صاحب خاموش ہوگئے اور گلہ کھنکھناتے بینچ پر پڑی پانی کی بوتل سے نہایت تحمل کے ساتھ چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھرنے لگے۔علامہ سُفیان صاحب آنکھوں میں حیرت و تفکر کا ملا جلا سَکتہ تھامے ، سر جھکائے کئی لمحوں تک سوچتے رہے۔کئی منٹوں تک اِک انجانی لیکن پُرسکوں پُرسکوں سی خاموشی نے اپنے سکوت بنائے رکھا۔آخر باقی صاحب سکوت سے کسی قدرے اُکتا کر بولے:

“میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔۔۔اب آپ حسبِ وعدہ اِس پر اپنا بھرپور اپنا اظہارِ خیال فرما سکتے ہیں۔۔۔فرمائیے ۔۔۔ !”

اب کی بار علامہ صاحب بھی عین باقی صاحب کی طرح ایک میٹھی سی مسکراہٹ مسکراتے ہوئے بولے:

 محترم باقی صاحب!میں بندہِ لاعلم اب آگئے کیا کہہ سکتا ہوں کہ آپ کی ہر اِک اِک بات کی حقانیت میرے دل پر نقش ہو چکی ہے کہ آپ نے اپنی ہر بات بازبانِ قرآن بمع حوالہ جات کہی ہے۔لہذا آپ کی اِس ساری بات کی تردید میں اب میں کہاں سے اور کیسے کرسکتا ہوں کہ اگرچہ میں اب خود کو اِک بے حد گناہ گار مسلمان تصور کر رہا ہوں کہ جس نے اُس مذہب کے نام پر کتنے ہی برس مذہب ، فرقہ و ذات کی تفریق تلے اپنے مسلک کے سواء باقی ساری انسانیت کے لیے بغض و حسدکے جذبات رکھے ہیں۔  کہ جس کا نام ہی اسلام ہے یعنی عام سلامتی۔۔۔سب کے لیے سلامتی۔۔۔ساری انسانیت کے لیے سلامتی ہے۔۔۔بہرحال میں شرمسار اب جتنا بھی گناہ گار سہی لیکن اب شاید اِتنا بھی گناہ گار نہیں کہ جہاں قرآن کا حکم آ جائے وہاں سر جھکانے کی بجائے بے جا تاویلوں اور حیلوں بہانوں سے اپنے متشدد مسلکی عقائد و نظریات کا دفاع کرو۔اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے سامنے اپنے بزرگ بابے اور علمائے ہم مسلک کو نعوذباللہ کھڑا کر دوں۔۔۔بس۔۔۔! محترم باقی صاحب! مجھے لگتا ہے کہ جو شرحِ صدر آپ پر ہوئی تھی اب مجھ پر بھی ہوچلی ہے لہذا اب میری بے قرار روح کو قرار بخشیے اور میرے اعصاب پر سوار ، آنکھوں پر پڑے اِن اندھیروں کو دُور کرتے ہوئے مجھے مذہبِ انسانیت کا کلمہ پڑھائیے۔میں بھی آج اپنے پورے ہوش و حواس اور خوشی سے پیدائشی مسلمان کی نرِی چھاپ سے نکلتے ہوئے شعوری سطح پر اب ایک نُو مسلم بننے کو بے قرار ہوں۔”

باقی صاحب نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے خوشی و اطمینان ملی ایک دھیمی سی ہنسی ہنسی اور پھر اُنگشتِ شہادت صاف و شفاف آسماں کی جانب اُٹھاتے ہوئے استقبالیہ انداز میں بولے:

ماشاءاللہ مرحبا ، ثما ماشاءاللہ ! یقین جانیے! دل سے خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ آخر کوئی تو ہے کہ جو اپنے عقائد و افکار کی محدود چار دیواری سے باہر برمبنی محکم دلائل حق بات کو قبول کرنے والا ہے کہ یہ علمی رویہ مجموعی طور پر اب ہمارے مذہبی طبقے میں شاید ناپید ہوچکا ہے۔پس آپ اپنے آپ پر اب حد سے زیادہ شرمسار نہ ہوئیے کہ آپ کی اِس حالت زار کے پس پردہ اصل قصور وار وہ نام نہاد مذہبی پیشواء ہے کہ جن کے آپ بچپن ہی سے ہتھے چڑھ گئے تھے اور اصل میں اُنھوں نے ہی انسانیت دشمنی کے یہ انتہائی قبیح قسم کے عقائد و نظریات عقائد اہل حق کے فریب کے نام پر تب آپ کے بچکانہ ذہن میں ” برین واشنگ” کے ذریعے گھول دیے تھے۔بہرحال جو ہوا سو ہوا اب میرے ساتھ دُہرایے:

میں آج سے ہر قسم کے فرقہ وارانہ تعصبات ، تمام متشدد عقائد و افکار ، توہمات و بدعات ، عالمانہ غرور و تکبر اور کسی بھی سطح پر انسانی دشمنی روا رکھنے سے توبۃ النصوح کرتا ہوں اور اپنے ہوش و حواس ،خشوع وخضوع اور صدِق دل سے یہ اقرار کرتاہے کہ :

؎یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں

کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

حالیٓ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact