تحریر: مدیحہ نعیم

سفر وسیلہ ظفر ہے۔دینا کے آخری کونے تک سفر کرو چاہے موت سے ہمکنار کیوں نہ ہونا پڑے۔مر تو ایک دن جانا ہی ہے  لیکن مرنے سے پہلے  کچھ ایسا کر جاؤ کہ تاریخ کے سنہری حروف میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاؤ۔ہزار سال جینے  سے بہتر ہے کہ کسی ایک لمحے میں ایسے جی جاؤ  کہ لوگ رہتی دنیا تک  تمہیں یاد رکھے۔میری نظر میں سب سے اچھا سفر تعلیمی  و دنیا کی کھوج کا ہے۔تعلیمی سفر میں انسان زندگی کے نشیب و فراز  سے آگاہ ہوتا ہے جبکہ دنیا کی

کھوج میں  انسان اپنے اندر بسی ایک انوکھی دنیا کا کھوج لگالیتا ہے۔جیسے جیسےوہ اپنے اندر کی دنیا میں قدم رکھتا ہےویسے ویسے وہ اپنے آپ کو پہچاننے لگتا 

ہے

۔کوئی بھی انسان گھر بیٹھ کر خود کو پہچان نہیں سکتا جب تک گھر سے باہر نہ نکلے۔

“just first step toward your journey”

کی

 ضرورت ہے۔میری نظر میں سفر کی بہت اہمیت ہے کیوں کہ  اس دوران  انسان اپنی شخصیت   کے اَن دیکھے رازوں سے آشنا ہونے لگتا ہے۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب میں  بھی  اس سفر میں قدم سے قدم ملا کر چلنے کی کوشش کر رہی تھی۔اُس وقت میں آٹھویں جماعت میں تھی۔کیا ہی خوبصورت سماں تھا،ہر سُو خوشیاں رقص کناں تھیں،ایسے میں سترنگی تتلی بن کے اُڑنا ہی ندگی کا مقصد بن گیا تھا۔بے فکرا ذہن سوچ کے پروں سے جُڑا ایک انوکھی دنیا کے سفر پر گامزن تھا۔ ہر سُو کھلے ہوئے پھول   قہقہے لگاتے تھے اور ایک ہی پیغام دیتے تھے  کہ زندگی بہت مختصر ہے’دل کھول کر جی لو’ شاید کل ہم ہوں  نہ ہوں۔ کھلتے ہوئے پھولوں سے میں نے ایک ہی سبق سیکھا ہے  کہ پھول کبھی  خود کے لیے  نہیں کھلتا  اور نہ ہی خوشبو اس کی  اپنی ہوتی ہے۔ پھولوں کے مقدر میں مَسلنا ہی لکھا ہے چاہےوہ ہاتھ سے ہو یا پاؤں سے۔ میری زندگی بھی پھولوں کی مانند ہے کہ خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو سکھ پہنچانا ہے،دوسروں کو خوشیاں دینے کے لیے اگر اپنی ذات کو مٹانا بھی پڑے  توپیچھے نہیں ہٹنا   بلکہ ہر حد سے گزرجانا ہی منزل مقصود ہے۔

۲۰۰۸ء میں  آٹھویں جماعت کے آخری پرچے کے دن مزاج اور دل خلاف طبعیت سوگوار تھے۔ جیسے کسی نے کوئی بھاری چٹان  میرے نازک بدن پر رکھ دی ہو۔کسی کومدد کے لیے بلانا تو دور  کی بات ہلنے سے بھی قاصر تھی۔ آنکھوں میں ساون کی جھڑی لگ چکی تھی،ڈر تھا کہیں  اس جھڑی میں بہہ ہی نہ جاؤں۔یہ ڈر  اپنی دوستوں سے دورہونے کا اور کبھی نہ ملنےکا تھا۔

سب کچھ دیاہے تونے مجھے زندگی مگر

                            دوبارہ دے نہ سکی  کبھی وصل کے دوپل     (زاہد علی خان)

اس دن میری حالت  ایسی تھی جیسے”بِن آب کے مچھلی” ایک طرف امتحان ختم ہونے کی خوشی اور دوسری طرف سہیلی سے بچھڑنے کا دکھ جان لینے کو تیار بیٹھا تھا ۔”مرتا کیا نا کرتا” کے مصداق مجھے یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا ۔راقم  اور اس کی سہیلی  رابعہ  جدا ہوگئیں۔اپنی اپنی منزل کی جانب گامزن، جدائی کا دکھ دل میں لیے،آنکھوں کی نمی چھپاتے ہوئے ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجائے ہوئے تھیں جیسے کوئی کہہ رہا ہو یہی زندگی ہے۔ رابعہ نے   ۸ کلو میٹر کی مسافت پہ واقع ایک  گاؤں کےپرائیویٹ کالج  میں داخلہ لے لیا اور میں نے  شہرِ بہاول پور کا رُخ کیا۔ میں ، میری بہن عمارہ اور پھوپھو زاد کزن مبرا نے  شہر  بہاول پور کےایک نامی گرامی ادراے ” کمپری ہنسو اسکول” میں  داخلہ فائل جمع کروادی۔ کچھ دنوں کے بعد ٹیسٹ ہوناقرار پایا۔ ٹیسٹ کے دن حال کچھاکھچ لڑکیوں سے بھرا ہوا تھا۔ جیسے ہر لڑکی اس دوڑ میں لگی تھی کہ یہ ریس میں ہی جیتوں گی۔ خداخدا کر کے ٹیسٹ شروع ہوا،  جس میں مختلف مضامین سے متعلق سوالات پوچھے گئے تھے ، جن کا مناسب جواب دیا  ،جس کے نتیجے میں میرٹ پر ایڈمیشن ہوا۔

اسکول کا  پہلا دن   بہت ہی خوشیوں سے بھرا ہوا تھا۔ نیا اسکول،نیا ماحول، نئے اساتذہ اور نئی سہیلیاں ان سب باتوں نے  موڈ کو بہت خوشگوار بنادیاتھا مگر اس کے ساتھ تھکاوٹ کا احساس بھی بہت تھا۔گزرتے وقت  کے ساتھ  میں اس ماحول کی عادی ہوتی گئی۔ اسکول میں “ماہ نور” نام کی لڑکی  میری بہت اچھی دوست بن گئی۔ ہمارے درمیان بہت نوک جھونک چلتی رہتی تھی۔ وہ میرے جتنا قریب آنے کی کوشش کرتی میں اتنی ہی تیزی سے اس سے دور بھاگتی۔ہمیشہ اس سے خائف اور چڑی چڑی سی رہتی ناجانے کیوں؟ اس کے باوجود بھی ہمارے درمیان گہری دوستی کا بیج پھل پھول رہا تھا۔

میں کچھ زیادہ ہی حساس واقع ہوئی ہوں۔میری شخصیت پر کچھ باتیں اتنی تیزی سے اثر کرتی تھیں جیسے کسی نے تیز دھار آلے سے دل کے ٹکڑے کر دیے ہوں۔” کمپری ہنسو اسکول”کے بھاری ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسکول کے ایک کونے میں  ایک ٹیچر کی میت دفن ہے۔ اسکول کےبارے مین کئی افواہیں مشہور تھیں جن میں کسی حد تک صداقت موجود ہے۔ اساتذہ اسکول  کی چھت  اور  قبر کی طرف جانے سے منع کرتی تھیں کہ کہیں کوئی بھاری نقصان نہ ہو جائے۔ میری جان  پہچان اپنی جماعت کی حد تک ہی تھی۔ جماعت سے باہر نہ تو میں کسی کو جانتی تھی اور نہ  ہی کوئی مجھے جانتا تھا۔اس جان پہچان کے سفر میں  ایک دن میرے ساتھ ایک ایسا واقعہ رونما ہوا   جس نے میرے رونگھٹے کھڑے کر دیے۔خوف کی ایک ان دیکھی لہر  میرے   بدن میں دوڑنے لگی۔اس دن (یعنی جمعہ)  تیز  بخار  کی دھار تو سہ گئی  لیکن ان دیکھنے خوف کو سہنا   مشکل  ہوتا گیا۔ طبعیت کی گرانی  سے بار بار ٹھنڈے پانی کے چھینٹے  منہ پر مار رہی تھی کہ شاید بخار کی حدت سے کچھ آرام مل جائے۔ میری دوست ثناء بار بار مجھے  منہ دھلوانے کے لیے کمرے سے باہر لے جاتی  اور واپس  لے کر آتی رہی۔  کمرےمیں آنے کے بعد  اپنی  سیٹ پر بیٹھ جاتی تھی۔ ماہ نور سے ناراضگی کے باعث   بول چال بند تھی  بلکہ یوں کہنا مناسب ہے کہ ایک دوسرے سے ناطقہ  بند کر رکھا تھا۔ کرسی پر بیٹھ کر سکون کا سانس لے ہی رہی تھی کہ اچانک ایک انجان  لڑکی میری تلاش میں  کمرے میں  داخل ہوئی۔ وہ انجان لڑکی میری دوست ثناء  سے یوں سوال کرتی ہے  کہ آپ کی کلاس میں کوئی لڑکی مدیحہ ہے؟

ثناء: جی ہے، لیکن آپ کون اور یہ آپ کے ہاتھ  میں کیا ہے؟

انجان لڑکی: یہ ان کے لیے خط ہے۔

ثناء: کس نے دیا ہے؟

انجان لڑکی: ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتی  ہے اس نے دیا۔ میں اور ثناء (اُس نے) کے تعاقب میں  جب ادھر اُدھر نظریں گھما کر دیکھا تو   کچھ بھی نظر نہ آیا۔ یہ دیکھ کر تو ہمارے چہرے پر ہوائیاں  اڑنے لگیں۔

ثناء:  ہمیں وہاں لے کر چلو ۔اس لڑکی کے پاس جس نے یہ دیا ہے۔

انجان لڑکی: چلو میرے ساتھ اس نے کہا۔

 اس سے پہلے کہ ثناء اُس لڑکی کی جاسوسی کرتی  میں نے مضبوطی سے اس کا بازوپکڑ لیا اور اسے اس بات کا یقین دلا یا کہ  ہو نہ ہو یہ خط ضرور ماہ نور نے لکھا ہے۔ میری اس سے ناراضگی ہےشاید اس نے منانے کا یہ طریقہ اپنایا ہو، مگر جلدہی ہمارا پُرسکون چہرہ  خوف کے زیر ِ اثر تھا  جب ہمیں پتاچلا  کہ یہ خط ماہ نور نے نہیں بلکہ کسی اور نے لکھا ہے۔ ہم نے ماہ نور  اور اس کی سہیلیوں  کو خط دکھا کر  جب تصدیق چاہی  تو بدلے میں انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ ماہ نور نے نہیں لکھا۔خود ماہ نور کا یہ بیان تھا کہ اگر مجھے بات کرنی ہوتی تو کلاس میں کرتی  ایسے نہیں۔ تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اور ویسے بھی  یہ میری لکھائی نہیں ہے۔ثناء غصہ ہوتے ہوئے  کہتی ہے کہ اگر تم نے مجھے نہ روکا ہوتا تو اس لڑکی تک پہنچ جانا تھا۔ اب کیسے پتا چلے گا  کہ یہ کس نے دیا ہے اور کیوں؟  اس سوچ کا ذہن میں آنا تھا کہ غیر ارادی طور پر ہمارے قدم   باہر کی جانب  بڑھے تاکہ اس انجان لڑکی کو تلاش کیا جائے۔ پورا سکول گھومنے کے بعد یوں محسوس ہو رہا تھا کہ  جیسے زمین پھٹی اور وہ انجان لڑکی اس میں سماچکی ہو۔ ذہن ماؤف ہو رہا تھا  سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کریں، کس سے مدد لیں، کوئی راستہ  دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ روشنی کے بعد ان مٹ اندھیرا چھاگیا ہو۔ کافی تلاش بسیار کے بعد بھی  جب وہ لڑکی نہ ملی تو تھک ہار کر واپس کمرہ جماعت میں آگئیں اور خط پڑھنا شروع کیا جس کا لبِ لباب کچھ یوں تھا:

“السلام علیکم!

                  کیسی ہیں آپ؟ آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں۔ آپ بہت پیاری ہیں۔ میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ آپ کو روز  دیکھنا میری زندگی کا مقصدہے۔

(I Love You So Much)

آپ مجھے ہنستی ہوئی  بہت اچھی لگتی ہیں۔ ہمیشہ ہنستی رہا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

MAdiha”

آنسوؤں کی صورت میں میرا نام  لکھا ہوا تھا اور بھی بہت کچھ لکھا ہوا تھا جسے بیان کرنا میرے بس میں نہیں۔۲۰۰۹ء میں ملنے والے اس انجان خط کا خوف  ذہن سے زائل ہو چکا ہے۔ ثناء خط کےمتن کو پڑھ کر   ہنس پڑی  اور شوخی کے انداز میں مجھے چھیڑتے ہوئے بولی کون ہے جو تمہارے دیدار کی اتنی طلبگار ہے؟ تم تو چھپی رستم نکلی۔مجھے تو پتا بھی چلنے نہیں دیا۔ کیسے چھپا کر رکھا سب کچھ۔ میں نے زچ ہوتے ہوئے کہا بس کرو  ثناء  مجھے تو خود معلوم نہیں ہے۔ تمہیں کیا بتاؤں   سب کچھ تو تمہارے سامنے ہی ہے۔مجھے لگا ماہ نور نے لکھا ہے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اب تو میں خود  پریشان ہوگئی ہوں۔ ہم دونوں  اسی پریشانی میں مبتلا  فکر سے دوچار ہو رہی تھیں کہ اچانک چھٹی کی بیل بجنے لگی ۔ جلدی سے خط کو بیگ میں رکھا اور گھر واپسی کی طرف قدم بڑھا دیے۔

گھریلو مسائل کے پس پشت جلد ہی  شہر کو خیر آباد کہہ کے واپس اپنے گاؤں  ۴۵ ڈی بی کی راہ لی۔ ۸ میل کی مسافت پر واقع ایک گاؤں ۴۲ ڈی بی کے ”گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول” میں دسویں جماعت میں داخلہ لے لیا۔ یوں زندگی کے شب و روز  اپنی رفتارسےگزرنے لگے۔ ماضی کی دھول  انجان چٹھی والے واقعہ پر یوں جمی  کہ میں سب کچھ فراموش کر بیٹھی۔ ایک دن اچانک “انجان چٹھی”  کا خیال ذہن میں آتے ہی  اسے کھول کر پڑھنے بیٹھ گئی۔وہ قصہ جو ماضی کی گرد میں دب چکا تھا  ایک بار پھر روزِ روشن کی طرح ذہن کے کینوس  پر ابھرتا چلا گیا۔ایک بار پھر میرا وجود روئی کی مانند خوف سے تھر تھر کانپنے لگا۔ کہتے ہیں وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے، وقت کے  بہتے دھارے کے ساتھ انسان سب کچھ بھول جاتا ہے  میں بھی بھول چکی تھی اور اپنی زندگی کی طرف لوٹ آئی تھی۔

سچ کہا ہے کسی نے ماضی ک کسی کا پیچھا چھوڑتا ہے۔ جیسے ہی زندگی کی مصروفیت سے وقت ملا تو ذہن  ماضی کی بھول بھلیوں میں کھو گیا۔ “انجان چٹھی ” کا خیال آتےہی  فوراً اس کی اصل جگہ پہ ڈھونڈا ،مگر پھر وہ کبھی مجھے ملا ہی نہیں۔اچانک سے کہیں غائب ہوگیا۔ کہاں گیا اس بات کا کھوج لگانا بہت مشکل ہے۔ اس “انجان چھٹی ” کو کھوئے آج  تقریباً  ۱۵  سال کا عرصہ بیت چکا ہے مگر وہ منظر آج بھی  اپنے پہلے دن کی طرح  میرے ذہن پر نقش ہوچکا ہے کہ جسے بھولنا چاہوں تو بھلا نہیں سکتی اور اگر کھوج میں نکلوں تو اپنی منزل، اپنا رستہ بھول جاؤں۔ وہ “انجان چٹھی” آج بھی میرے ذہن پر سوار ہے اور لگتا ہے  جیسے میں خود کو اس کیفیت سے کبھی باہر نہیں نکال پاؤں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact