فاخرہ نواز
 آج بستر پر لیٹی عالیہ بخار سے تپ رہی تھی مگر اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی ۔دل میں ڈھیروں سکون تھااپنی اس کیفیت پر وہ خود بھی حیران تھی اور سوچ رہی تھی کہ میرےمزاج میں کتنی تبدیلی آ گئی ہے ۔۔
اسے اچھی طرح یاد تھاکہ بچپن سے ہی اس کی عادت تھی کہ وہ بیماری میں  ہتھیلی  کاچھالہ بن جاتی تھی ماں کے ساتھ ساتھ چپکی رہتی ۔سارا دن اپنے ابو  کا انتظار کر تی رہتی ۔رات کو ابو آکر پوچھتے کہ میری بیٹی کا کیا حال ہے ؟ 
اس کی تپتی ہوئی پیشانی پر ٹھنڈے ہاتھ رکھتےتووہ پرسکون ہوجاتی۔عالیہ کے اور بہن بھائی بھی تھے مگر اس  کا مزاج سب سے الگ ہی تھا وہ بیماری  میں چاہتی کہ سب لوگ اس کا خاص خیال رکھیں اور سچی بات تو یہ تھی کہ اگر گھر کا کوئی فرد بیمار ہوتا تو وہ اسکی خوب تیمارداری کرتی اس کی خوراک دوائی آرام کا پورا پورا دھیان رکھتی
سب اس کا بھی خوب خیال رکھتے کیونکہ سب کو ہی اس کے علاج کا پتہ چل گیا تھاکہ اسے دوائی کے ساتھ ساتھ۔ محبت اور توجہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس سے بہت جلد ٹھیک ہو جاتی ۔ ابو کہتے میری یہ بیٹی سب سے زیادہ حساس ہےاس لیے سب ہی اس کا خاص طور پر خیال رکھتے ۔
عالیہ کی شادی ہوئی تو جلد ہی اس پتہ چل گیا کہ میکے کی  وہ ساری محبتیں اور چاہتیں جن کو وہ سمیٹتی تھی وہ سسرال میں خواب خیال ہی  ہیں  اگر اس کی طبیعت خراب ہوتی تواس کا خیال رکھنے والا نازبرداری کرنے والا کوئی نہ ہوتا بلکہ سب کا رویہ ہی بدل جاتا ۔وہ عالیہ جو بیماری میں محبت اور توجہ کی زیادہ طلبگار ہوتی تھی سسرال میں تنہا کمرے میں پڑی رہتی کوئی پانی پوچھنے والا بھی نا ہوتاالٹا سب کا موڈخراب ہو جاتا اور میاں صاحب بھی اکھڑے اکھڑے رہتے ۔آخر خود ہی ہمت کرکے اٹھتی اور کاموں میں مصروف ہو جاتی ۔
عالیہ شادی سے پہلے سوچا کرتی تھی کہ جس طرح ابو بیماری میں میرے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہیں ۔سر دباتے ہیں تو کتنا سکون آ جاتا ہے اوران کے ہاتھوں کی تاثیر سے میں ٹھیک ہو جاتی ہوں ۔تو میرا شوہر جو میرا مجازی خدا ہو گا ایسے ہی میرے پاس بیٹھ کر میرا سر دبائے گا مجھ سے باتیں کرے گا تو میں جلد ٹھیک ہو جایا کرونگی ۔جیسے پروین شاکر اپنے شعر میں کہتی ہے
اس نے جلتی ہوئی پیشانی پر جب ہاتھ رکھا
روح تک آگئ تاثیر مسیحائی کی
لیکن عالیہ جو خواب بنا کرتی تھی کہ اس کی زندگی کا ساتھی اس کی ناز برداریاں اٹھائے گا ،وہ سارے خواب بکھر جاتے جب اس کی بیماری میں اس کا شوہر  سارا دن  گھر سے باہر رہتارات کو لیٹ آتا اور آکر دوسرے کمرے میں ٹی وی اور موبائل میں مشغول رہتا اور عالیہ دوسرے کمرے میں جلتی کڑھتی روتی رہتی ۔کہ جب وہ بیمار ہو ں تو میں دل وجان سے ان کی دیکھ بھال اور خدمت کروں ان کی مسیحائی کروں ان کے پاس رہوں ان کی دوائی خوراک اور آرام کا خیال رکھوں۔اور جب میں بیمار ہو جاؤں تو وہ لاپرواہی اورنظراندازی کی حدوں کو بھی پار کر جائیں ۔ جب ہلکے پھلکے انداز میں کہتی کہ آپ مجھے محبت اور توجہ دیں میں جلدی ٹھیک ہو جاؤنگی تو وہ برہم ہو جاتا کہ کیا دوائی اور کھانا  بازار سےلا کر نہیں دے رہا اور کیسے خیال رکھوں؟ اور عالیہ ڈانٹ سن کرخاموشی سے آنسو اپنے اندر اتار لیتی ۔
لیکن پھر عالیہ کی زندگی میں انقلاب آ گیا اس نے قرآن کلاسز لینی شروع کر دیں اور عالیہ کی زندگی میں بدلاؤ آتا گیا اسے پتہ چل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اچھے اعمال کرنے کے لئے بھیجا ہے دنیا آزمائش کی جگہ ہے ہر رشتہ ایک آزمائش ہے اسے دوسروں کے رویوں کی نہیں بلکہ اپنے اعمال کی فکر کرنی چاہئے۔انسانوں کی بجائے اللہ تعالیٰ سے امید لگانی چاہئے ۔
عالیہ جان گئی تھی کہ مردوں کی طبیعت اللّٰہ نے اور طرح کی بنائی ہے اور عورتوں کی الگ بنائی ہے ۔عورتوں کو اللہ نے ایسا ہی بنایا ہے کہ وہ شوہر کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتی وہ شوہر کو ہی کل کائنات سمجھتی ہے اور اس کے اردگرد گھومتی رہتی ہے ۔
اور آج عالیہ کو کسی پر غصّہ نہیں آ رہا تھا ۔اور نا ہی وہ دکھی تھی ۔وہ بخار میں لیٹی بڑے سکون سے اللہ تعالیٰ سےباتیں کررہی تھی دعائیں مانگ رہی تھی کہ اسے اذان کی آوازسنائی دی اذان کا جواب دینے کے بعد بستر سے اٹھی 
اللّٰہ کا شکر ادا کیا کہ بستر سے اٹھ سکتی ہے وضو کرنے کے لئے نل کھولا تو اس سے گرم پانی آرہا تھا اللہ کا شکر ادا کیاکہ گرم پانی سے وضو کر رہی ہے نماز ادا کی پھر اللہ کا شکر ادا کیا کہ اللہ نے نماز پڑھنے کی توفیق اور طاقت عطا فرمائی اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کا شوہرپاس نہیں مگر دوسرے کمرے میں تو موجود ہے ۔اب عالیہ کے لبوں پر کوئی شکوہ یا شکایت نہیں تھی دل کی گہرائیوں سے اللّٰہ کا شکر ادا کیا اٹھی اور دوسرے کمرے میں اپنے شوہر کے پاس جا کران سے باتیں کرنے لگ گئی  ۔اس کے دل میں سکون اور اطمینان تھا اسے لگ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہیں اور اللہ کے ہوتے ہوئے کوئ تنہا نہیں ہوتا اوروہ بھی اکیلی نہیں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact