کہانی کار: شفق عثمان
پولینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک غریب لڑکی رہتی تھی اس کا نام مانیا سکلوڈو وسکا تھا وہ ٹیوشن پڑھا کر گزر بسر کرتی 19 برس کی عمر میں وہ ایک امیر خاندان کی دس سال کی تھی بچی کو پڑھاتی تھی بچی کا بڑا بھائی اس میں دلچسپی لینے لگا وہ بھی اس کی طرف مائل ہوگئی چنانچہ دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا لیکن جب لڑکے کی ماں کو پتہ چلا تو اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا اس نے مانیا کو کان سے پکڑا اور پورچ میں لا کھڑا کیا اس نے آواز دے کر سارے نوکر جمع کئے اور چلا کر کہا ‘ دیکھو یہ لڑکی جس کے پاس پہننے کیلئے صرف ایک فراک ہے جس کے جوتوں کے 24 گھنٹے میں صرف ایک بار اچھاتلوئوں میں سوراخ ہیں اور جسے کھانا نصیب ہوتا ہے اور وہ بھی ہمارے گھر سے ، یہ لڑکی میرے بیٹے کی بیوی بننا چاہتی ہے ، یہ میری بہو کہلانے کی خواہش پال رہی ہے ” تمام نوکروں نے قہقہہ لگایا اور خاتون دروازه بند کر کے اندر چلی گئی ، مانیا کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے اوپر تیزاب کی بالٹی الٹ دی ہو وہ توہین کے شدید احساس میں گرفتار ہوگئی اور اس نے اسی پورچ میں کھڑے کھڑے فیصلہ کیا وہ زندگی اتنی عزت اتنی شہرت کمائے گی کہ پورا پولینڈ اس کے نام میں سے پہچانا جائے گا۔
یہ 1891ء تھا وہ پولینڈ سے پیرس آئی اس نےیونیورسٹی میں داخلہ لیا اور فزکس پڑھنا شروع کردی وہ دن  میں 20  گھنٹے پڑھتی تھی  ،اس کے پاس پیسہ  دھیلا تھا نہیں جو کچھ جمع پونجی تھی وہ اسی میں گزر بسر کرتی تھی ،وہ روز صرف ایک شلنگ خرچ کرتی تھی ، اس کے کمرے میں بجلی ، گیس اور کوئلوں کی انگیٹھی  تک نہیں تھی وہ بر فیلے موسوں کی راتیں کپکپا کر گزارتی تھی
جب سردی برداشت سے باہر ہو جاتی تھی تو  وہ اپنے سارے کپڑے نکالتی تھی ، آدھے بستر پر بچھاتی تھی اور آدھے اوپر اوڑھ کر لیٹ جاتی تھی ، پھر بھی گزارہ نہ ہوتا  تو وہ اپنی ساری کتابیں حتی کہ اپنی کرسی تک اپنے اوپر گرا لیتی تھی ، پورے پانچ برس اس نے ڈبل روٹی کے سوکھے ٹکڑوں اور مکھن کے سوا کچھ نہ کھایا نقاہت کا یہ عالم ہوتا تھا وہ بستر پر بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو جاتی تھی لیکن جب ہوش آتا تھا تو وہ اپنی بے ہوشی کو نیند قرار دے کر خود کو تسلی دے لیتی تھی ، وہ ایک روز کلاس میں بے ہوش ہو گئ ‘ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرنے کے بعد کہا آپ کو دواء کی بجائے دودھ کے ایک گلاس کی ضرورت ہے اس نے یونیورسٹی ہی میں پائری نام کے سائنس دان سے شادی کر لی تھی وہ سائنس دان بھی اس کی طرح مفلوک الحال تھا شادی کے وقت  دونوں کا کل اثاثہ دو سائیکل تھے وہ غربت کے اسی عالم کے دوران پی ایچ ڈی تک پہنچ گئ مانیا نے پی ایچ ڈی کےلیے بڑا دلچسپ موضوع چنا تھا اس نے فیصلہ کیا وہ دنیا کو بتاے گئ یورینیم سی روشنی کیوں نکلتی ہے ، یہ ایک مشکل بلکہ نہ ممکن کام تھا لیکن وہ اس پر جت گئ تجربات کے دوران اس نے ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا جو یورینیم کے مقابلے میں 20 لاکھ گنا روشنی پیدا کرتا ہے ، اور اس کی شعاعیں لکڑی پتھر ، تانبے اور لوہے غرض دنیا کی ہر چیز سے گزر جاتی ہے ، اس نے اس کا نام ریڈرم رکھا یہ سائنس میں بہت بڑا دھماکہ تھا لوگوں نے ر یڈیم کاثبوت مانگا اور پائری نے خستہ حال احاطہ لیا جس کی چھت سلامت تھی اور نہ ہی  فرش اور وہ چار
 برس تک اس احاطے میں لوہا پگھلاتے رہے ،انہوں نے تن و تنہا
 8ٹن لوہا پگھلایا اور اس میں سے مٹر کے دانے کے برابر ریڈیم
حاصل کی ۔یہ چار سال ان لوگوں نے گرمیاں ہوں یا سردیاں اپنے اپنے

جسموں پر جھیلیں بھٹی کے زہریلے دھوئیں نے مانیا کے پھیپھڑوں میں سوراخ کر دیئے لیکن وہ کام میں جتی رہی،اس نے
 ہار نہ مانی یہاں تک کہ پوری سائنس اس کے قدموں میں جھک گئی ۔یہ ریڈیم کینسر کے لاکھوں کروڑوں مریضوں کیلئے زندگی کا پیغام لے کر ائی ہم آج جسے شعاعوں کا علاج کہتے ہیں یہ مانیا ہی کی ایجاد تھی اگر وہ لڑکی  چار  سال تک لوہا نہ پگھلاتی تو کینسر کے تمام لوگ مر جاتے۔ یہ واحد سائنسدان تھی جسے نوبل پرائز دو بار ملا تھا۔ اور جسکا نام سننے پر آج بھی پولینڈ کے سائنسدان ٹوپیاں سر سے اتار دیتے ہیں۔
جب دنیا نے میڈم کیوری کی ایجاد کو خریدنے کے لیے لاکھوں کی پیشکش کی تو اس نے کہا۔
میں چاھتی ہوں جو بھی اس بوڑھی عورت کے کینسر کا علاج کرے گا میں یہ اسے بیچوں گی۔
وہی بوڑھی عورت جس نے اسے بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا تھا۔ وہ اس وقت کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکی تھی جسکا کوئی علاج نہیں کرتا تھا۔
بس ظرف بڑا رکھنے کی بات ہے۔
مال و دولت ہونا ضروری نہیں۔

اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حسن سلوک
 سے ہم انسانیت کو جیت سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact