میرا نام  نورین مصطفی ہے۔قلمی نام سحر شعیل ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم۔اے اردو کیا ہے۔گزشتہ 22 سال سے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوں۔اس وقت  دی ایجوکیٹرز العلیم کیمپس اوکاڑہ میں وائس پرنسپل کے فرائض سر انجام دے رہی ہوں۔اوکاڑہ پریس کلب کے زیرِ سایہ ادب قبیلہ اوکاڑہ کی جنرل سیکرٹری کے طور پر بھی اپنی خدمات پیش کر رہی ہوں۔
ادب سے لگاؤ اتنا ہی ہے جتنا خود اپنی ذات سے۔لکھنے لکھانے کا سلسلہ بہت سالوں سے جاری ہے مگر گزشتہ ایک برس سے پبلک پلیٹ فارم پر متعارف ہوئی ہوں۔مختلف اخبارات،رسائل اور ادبی فورم پر کالم اور مضامین شائع ہو چکے ہیں۔شاعری ہو یا نثری ادب  اس کے بارے میں میرا ماننا یہ ہے کہ
“ادب انسانی رویوں،جذبات،احساسات اور افکار کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ایک قلم کار کی سب سے بڑی دولت اس کے الفاظ ہیں اور ان لفظوں  کی سب سے بڑی داد  یہ ہو گی کہ وہ لفظ ان لوگوں تک پہنچ سکیں جو انہیں سمجھ سکیں۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact