آرسی رؤف
وقت کے سب بخیے ادھیڑ دو
اور پھر نئے سرے سے
سب تانے بانے بنو

ان میں اپنی مرضی کے سب   رنگوں سے
موتیوں سے جڑ دو ہر ایک چوکڑی ہر اک خانہ
چاہو تو کم خواب و اطلس کے دھاگے آزما کے دیکھو
سکھ کے سارے رنگ خود چن لو
دکھ کی سبھی ساعتوں کو دوسروں کی جھولیو ں میں اچھا ل دو
غموں کی بھٹی میں سب کو ابال دو
تلپٹ کرنے پر سب کچھ،
مگر تمہیں قدرت کہاں ہے
وہ تو کوئی اور ہے
جو ذرے پرتو قادر ہے
ذرے سے عمیق ترشے بھی محفوظ رکھتا ہے لوح و قلم میں
ہاں اتنا تم جانتے ہو
تم وہ اہل علم نہیں
ہو بھی سکتے ہو
جیسے آئن سٹائن یا پھر ڈارون
یا پھر بیا پرندہ،
جس کا قران بار بار ذکر کناں ہے
کہ شک پاؤ گرذرا سا بھی
اس کے کہے گئے میں گر کبھی بھی تم
بھلے پوچھ لو اہل علم سے اس کی بابت
اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ کوئی ایک بھی خانہ
کوئی بھی چوکڑی کوئی دائروی گھماؤ
بالکل اسی طرح تم بن نہیں سکتے
تو
“پھر”ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن، پتھر اور آدمی ہیں”
کیونکہ تم بخیہ گر تو نہیں ہو ناں.

Leave a Reply

Discover more from Press for Peace Publications

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact