Tuesday, May 21
Shadow

سال2022ء اورمیرا ادبی سفر | تحریر: قانتہ رابعہ

قانتہ رابعہ ۔۔گوجرہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حدیث مبارکہ میں اس شخص کو بد بخت کہا گیا ہے جس کے دو دن ایک جیسے گزریں اور وہ اپنی اصلاح کی کوشش نہ کر سکے دوسرے معنی یہ ہیں کہ اپنے گزشتہ کل کا جائزہ نہ لے سکے ( مفہوم)
الحمد للّٰہ بچپن سے لکھنے پڑھنے کا رجحان ہے یہ اور بات ہے کہ کبھی ایک پلڑا جھک جاتا  ہے تو کبھی دوسرا۔
سال گزشتہ میں مجھے تقریباً ڈیڑھ سو کتب موصول ہوئیں جن میں سے کچھ سونگھنے ،کچھ دیکھنے اور کچھ ورق گردانی کے قابل تھیں ۔انہی میں سے کچھ کتب ایسی بھی تھیں جنہیں اونچی دکان پھیکا پکوان قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ان میں سے ہی کچھ کتب بہترین بھی تھیں جنہیں بار بار پڑھنے کو دل چاہتا ہے۔ میں نے تقریباً تیرہ کتب کے فلیپ لکھے اور تیس کتب پر تبصرے  تحریر کئے۔
سال گزشتہ میں اللہ رب العزت کا بڑا کرم رہا ۔میرے پچاس سے زائد افسانے مختلف رسائل میں شائع ہوئے۔ مختلف ویب سائٹس والوں نے بلاگ لکھوانے کے لیے رابطہ کیا اور کم از کم پانچ ویب سائٹس پر میرے بیس بلاگ شائع ہوئے۔
اس سال بچوں کے ادب کی طرف خصوصی رجحان رہا اور نور ،جگنو ،ذوق و شوق ،پھول ،بچوں کے باغ کے علاوہ مختلف رسائل میں 35 سے زیادہ کہانیاں شائع ہوئیں۔
اخبارات میں سے سب سے زیادہ جنگ سنڈے میگزین میں لکھنے کی توفیق ہوئی ۔کم از کم چھے سات افسانے اشاعت پذیر ہوئے جبکہ جسارت اور مشرق سنڈے میگزین میں بھی تحاریر شامل تھیں۔
گئے سال میں فیس بک پر کچھ نہ کچھ کارکردگی دکھانے کا موقع ملتا رہا ۔ادیب نگر گروپ میں انٹرویو کے ساتھ ساتھ بہت سی پوسٹ کو نمایاں جگہ ملی۔
گزشتہ سال کا خوبصورت انعام پریس فار پیس فاؤنڈیشن سے” ابن آس فن اور شخصیت “کے موضوع پر بین الاقوامی تحریری مقابلہ میں سوئم انعام ، سرٹیفکیٹ اور ایوارڈ ملنا تھا اس فاؤنڈیشن کے ساتھ میرا تعلق بہت مفید رہا اور
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں ،پر یقین ہوا۔
اس سال میری ایک بچوں کی پاکٹ سائز کتاب ٹلو کی واپسی،چلڈرن لٹریری سوسائٹی کے زیر اہتمام شائع ہوئی جبکہ بچوں کی دوسری کتاب،پریس فار پیس کے زیر انتظام شائع ہوئی کتاب کا نام  ہے ،”سارے دوست ہیں پیارے”۔اردوزبان میں لیڈی برڈ سٹائل کی یہ پہلی کتاب ہے۔  پریس فار پیس  فاؤنڈیشن کی شائع کردہ کتاب “زمین اداس ہے” میں بھی راقمہ شریک مصنفہ  ہے۔

اس سال کا ایک اور خوبصورت تحفہ دارالمصحف سےمیری بچوں کی کہانیوں کی کتاب”ککڑوں کوں “شائع ہونا بھی ہے یہ کتاب ماشاءاللہ اشاعت کے فوری بعد اپواء ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ میری بہت سی کہانیوں کو یو ٹیوب چینل پر بھی پیش کیا گیا۔
تحریری کارکردگی میں میرے مضامین پڑوسی ملک بھارت کے اخبارات میں بھی شائع ہوئے۔
مختلف ادبی تنظیموں کی جانب سے افسانوی ادب کے حوالے سے لیکچر ریکارڈ کروائے۔
ایک اور اہم خبر :پاکستان میں شایع ہونے والی کتاب ،،قلم کتاب ،( جس میں برصغیر کی معروف شخصیات کے آٹوگراف یا تحریری سرمایہ کو کسی بھی شکل میں محفوظ کیا گیا ہے) کے سرورق پر میرے نام کا عکس اور کتاب میں میری ہینڈ رائٹنگ میں میری کہانی شامل ہے۔
اس سال میرا افسانوں کا مجموعہ ،در یار پر دستک ،بھی شائع ہوا جسے مشہور ادارے ،ادبیات نے بہت خوبصورتی کے ساتھ شائع کیا
گزشتہ سال بارہ سے زائد سرٹیفکیٹ اور پانچ ایوارڈز کا اعلان کیا گیا جن میں ابن آس ایوارڈ ،الطاف حسین حالی ایوارڈ ،آل پاکستان ویمن  رائٹرز ایوارڈ بھی شامل ہے ۔سال گزشتہ میں مجھے لاہور ،راولپنڈی ،اور گوجرہ کی ادبی نشستوں میں شرکت اور افسانہ سنانے کی سعادت ملی ۔بہت سے آن لائن ادبی پروگراموں میں افسانوں کی تخلیق کے موضوع پر سوالات کئے گئے۔
سال گزشتہ میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار انعامات سے نوازا جن کی تفصیل میں جائے بغیر اللہ ربّ العزت اور اس کے ان پیارے بندوں کی شکر گزار ہوں جو میرے معاون رہے ، میرے کام کو سراہتے رہے اور میری روحانی طاقت بنے۔ زندگی اچھے اور برے لوگوں سے مل کر بنتی ہے ۔ظاہر ہے منفی رویوں کا بھی سامنا رہا ۔کچھ لوگوں کی طرف سے بے  حد اذیت پہنچی لیکن یہ سب زندگی کا حصہ ہے ۔اگر منزل تک پہنچنے کا راستہ معلوم ہو اور نصب العین بھی طے ہو تو یہ سب آپ کے کام میں رکاوٹ نہیں بنتے۔
سال گزشتہ میں جن لوگوں نے مجھے لکھتے رہنے پر مائل رکھا  میں ان سب لوگوں کا شکریہ اداکرنے کے ساتھ ان کے لیے دعا گو ہوں ۔اللہ ہمارے قلم کو مقصد کے لیے چلنے والا بنائے اور اس سے لکھے جانے والے الفاظ اس کی بارگاہ میں شرف قبولیت پائیں۔
جزاکم اللہ خیرا کثیرا

لکھاری کا تعارف

قانتہ رابعہ ایک منجھی ہوئی قلمکار اور  دو درجن سے زائد کتب کی مصنفہ ہیں۔،تیر ہ افسانوں کے مجموعے اور  ،بچوں کی کہانیوں کی ایک درجن سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں۔سفرنامہ حج ،زہے نقدر اور دو مختصر کالموں کے مجموعے شائع ہوئے ہیں ۔ان کے علاوہ کچھ پمفلٹس بھی ان کے  افسانوں پر جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے ایم فل کی ڈگری دی جا چکی ہے اور ان کے علاوہ بی ایس ،ماسٹرز لیول ہر بھی  تحقیقی کام ہو چکا ہے-بچوں کی کہانیوں کی دو کتب ،بسم اللہ کا جن،اور راجے کی بیٹی پنجاب  حکومت کی طرف سے مڈل سکول لائیبریری پروجیکٹ میں منظور ہوئی تھیں- اکادمی ادبیات اطفال کی طرف سے 2021ء میں لٹریری ایوارڈ اور حریم ادب کی طرف سے بہترین افسانہ نگار کا ایوارڈ مل چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact