یہ نیچے تصویر میں حقہ پیتے ہوۓ شخص میرے ابو ہیں ۔

عہدِ شباب میں میرے والد اپنی مقامی سراٸیکی زبان میں شاعری لکھا کرتے تھے
ان کی شاعری کا محور و مرکز گل و بلبل کے قصے یا محبوب کی زلفِ گرہ گیر نہیں بلکہ وہ وسیب کی محرومیوں اور علاقاٸی زر پرستوں کے استحصالی رویہ جات پر چوٹ کیا کرتے ۔

وہ آج ایک معروف نام ہوتے اگر یہ سفر جاری رہتا تو ۔

لیکن خدا جانے کیا ہوا کہ ایک دن ابو نے اپنا لکھا ہوا تمام کلام اٹھایا اور اسے آگ میں جھونک کر ہاتھ سیکنے بیٹھ  گئے ۔

بطور باپ وہ میرے لیے ایک ایسے انسان ہیں جن کی تقلید کی جا سکتی ہے ۔ ہم سب بھاٸیوں نے باری باری انہیں بہت دفعہ تھکایا ہر دفعہ ابو نے ہماری ہر کج روی اور ڈگمگاہٹ کے باوجود سینے سے لگایا ۔
گاوں میں اپنی عقل و دانش کے سبب مشہور ہوۓ اور لوگوں کے تنازعات ، صلح ناموں اور زمینی جھگڑوں کے فیصلوں میں انہیں بطور ثالث یا مُنصف مقرر کیا جاتا ہے ۔

کثیر الاولاد ہیں اس لیے بچوں کی کفالت کے ابتداٸی عرصے میں پھٹے پرانے کپڑے پہننے میں بھی عار نہیں سمجھی ،
گندم اگائی ، کپاس چنائیکی ، سوداگری ، تجارت ، مال مویشی کی خرید و فروخت ، شتربانی سمیت ہر طرح کی محنت مزدوری کی اور بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی وراثتی جائیداد داد میں بھی اضافہ کیا ۔

پچھلی دفعہ ابو کے ساتھ زمینوں پر جانا ہوا تو اپنے ہاتھوں سے باجرے کا سٹہ صاف کر کے مجھے دینے لگے ۔ بوڑھا مزارعہ ہنسا اور کہا
”حاجی صاحب ۔۔۔ کیوں لڑکوں کی عادتیں خراب کرتے ہو ؟ ابو مسکراے اور جواب دیا
”نواز ۔۔۔ تم نہیں جانتے میں نے ان پھولوں کی کیسے آبیاری کی ہے “ میری آنکھیں بھر آٸیں ۔ زندگی ایسی ہے کہ میں بہت کم وقت اپنے والد کے ساتھ بِتا پایا ہوں ۔

 اللہ نے اُنہیں کلام کی قوت بخشی ہے ۔
 بات کرتے ہیں تو حریف کو قاٸل ہونے میں دیر نہیں لگتی ۔
قوی الجثہ ہیں ۔
گِسنی (کلائی پکڑ کر زور آزمائی ) میں آج بھی ہم سب بھاٸیوں پر بھاری ہیں ۔
لڈو ، قطار اور تاش کے بہت اچھے کھلاڑی ہیں ۔ قطار میں  دس بازیاں کھیلیں تو بمشکل دو میں ابو کو شکست دے پاتا اور یہ میرے لیے بڑی فتح ہوتی تھی ۔
خاندان برادری اور قوم قبیلے کو ان کا تاش کھیلنا معیوب لگتا ہے مگر مجھے اپنے والد کو گاوں کے ہوٹل پر تاش کھیلتے دیکھنا بہت پسند ہے ۔
ریاضی اور زمینوں کے حساب کتاب میں ماہر ہیں ۔
کسی بھی پریشانی کی صورت میں رات بھر ابا کی سراندھی رکھا حقہ گڑگڑاتا رہتا ہے ۔

میں نے تین چار سال تک ابو کو اپنے ادبی سفر سے بے خبر رکھا ۔
ریزگاری کی اشاعت کیلیے جب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا لکھا ہے اور کیا معاشی فاٸدہ ہوگا اس کتاب کا ۔۔۔۔؟
تو میں نے انہیں بتایا
 “کچھ بھی نہیں ہوگا صرف پیسوں کا ضیاع ہوگا ۔ بس یہ کہ ایک دھوپ بھرے دن میں ہم تین دوست ( مسلم انصاری ، صفی سرحدی اور میں ) درختوں سے ڈھکے ہوۓ ایچ 8 اسلام آباد کے وسیع و عریض قبرستان میں قدرت اللہ شہاب ، ممتاز مفتی ، احمد فراز اور پروین شاکر صاحبہ کے مرقد ڈھونڈ رہے تھے
اس دوران میں نے وہاں دیکھا کہ یہ ہم تین نہیں ہیں بلکہ کئی  اور لوگوں کی نگاہیں بھی فاتحہ خوانی کیلیے انہیں قبروں کو ڈھونڈ رہی ہیں ۔
حالانکہ اس قبرستان میں کٸی نامور ڈاکٹر ، انجیٸر ،  کلکٹر ، عہدے دار ، سرمایہ دار ، زر پرست مدفن ہیں مگر باہر سے آنے والے اکثر انجان لوگ گیٹ پر بیٹھے ہوۓ منتظمین ،  پھول فروشوں اور گورکنوں سے انہیں چند قبروں کی بابت ضرور پوچھتے ہیں ۔
تو یہ بھی اس دنیا میں اپنے اختتام سے قبل کچھ ایسا چھوڑنے کی معمولی سی کوشش ہے بس ۔”

ابو نے میری پیشانی پر مہر محبت ثبت کی اور اشاعت کی اجازت دے دی ۔

اشاعت کے بعد سے اب تک وصال نصیب نہیں ہوا تھا ۔
پچھلے ہفتے گاوں جانا نصیب ہوا تو اپنے ہاتھوں سے اپنے والد کے حضور اپنی عمر بھر کی ریزگاری پیش کی ۔
اٹھے، ماتھا چوما اور ایک عرصے بعد سینے سے بھینچ لیا ۔

یہ خوشی کسی بھی بڑے ادبی ایوارڈ سے بہت بڑھ کر تھی مگر افسوس کہ میں اپنی اس خوشی اور ان لمحوں کو کیمرے کی آنکھ میں ہمیشہ کےلیے قید نہیں کر پایا ۔

گزشتہ سال سے انہیں بیٹی کی ملازمت کے سبب  ایک ایسا سفر درپیش ہے جہاں وقت گزاری کا دوسرا کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے ۔
سوشل میڈیائی  دنیا اور سمارٹ فون سے کوسوں دور رہتے ہیں ۔اماں  ابا دونوں تصاویر بنانے سے گریز کرتے ہیں
 بٹنوں والا فون بھی بچوں سے بات کرنےکیلیے برداشت کرتے ہیں ۔
آج کل اُن کیلیے وقت کاٹنا مشکل ہے تو اس دفعہ تصویر میں موجود ریزگاری کے ہمراہ یہ تین کتابیں والد صاحب کو تحفے میں پیش کر آیا ہوں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact