Tuesday, May 21
Shadow

رنگین خواب حقیقت خاک تحریر : ماریہ عبد الجبار تبسم

ماریہ عبد الجبار تبسم )پسرور(

مسکراتے چہرے کے ساتھ وہ مکمل میک اپ کرکے پلکوں کو مسکارہ لگاتے ہوئے کسی خوشگوار سوچ میں گم کھڑی تھی ۔جیسے اس نے جاگتی آنکھوں میں کوئی خواب سجا لیا ہو اور اس خواب کی طرف بڑھنے کے لیے وہ بہت بے تاب نظر آرہی تھی۔وہ اپنی خوشی کو دوبالا کرتے ہوئے ہونٹوں ک
ماریہ عبد الجبار تبسم )پسرور(

مسکراتے چہرے کے ساتھ وہ مکمل میک اپ کرکے پلکوں کو مسکارہ لگاتے ہوئے کسی خوشگوار سوچ میں گم کھڑی تھی ۔جیسے اس نے جاگتی آنکھوں میں کوئی خواب سجا لیا ہو اور اس خواب کی طرف بڑھنے کے لیے وہ بہت بے تاب نظر آرہی تھی۔وہ اپنی خوشی کو دوبالا کرتے ہوئے ہونٹوں کو حرکت دئیے بغیر کچھ گنگنا رہی تھی۔اچانک گل کی آواز نے اس کی توجہ اس سے ہٹائی۔ارے بابا !بس کرو اب کتنا تیار ہوگی۔یہ نہ ہو کہ اسے دیکھنے کا موقع گنوا دو تم۔ارے چپ کرو تم بھی نو بجے آنا ہے اس نے۔کنول نے اپنی تیاری جاری رکھتے ہوئے جواب دیا۔گل تم بھی کبھی تیار ہوجایا کر روزانہ بس ایسے ہی چل دیتی ہے۔
گل: ارے تو ہے نا میرے حصے کا تیار ہونے کے لیے چل اب!
کنول:آئی بس!
گل اپنا بیگ اٹھا رہی تھی اور کنول کی آہٹ سنائی دی کنول اک خوبصورت سبز رنگ کی شرٹ جس پر نیلے رنگ کی کڑھائی ہوئی تھی نیلی پینٹ کے ساتھ ملبوس تھی۔گل کا دل زور سے دھڑکا۔
کنول:کیسی لگ رہی ہوں میں
گل :ماشاءاللہ بہت پیاری چلو اب تمہارا خواب پورا کرنا ہے ۔
کنول :ہممم جلدی کر۔ویسے تمہیں اس میں کوئی دلچسپی کیوں نہیں۔اس کی قیمت تمہارے نزدیک ایک روپیہ بھی نہیں ۔
گل :تم روپے کی بات کرتی ہو میرے لیے تو وہ خاک کے اک ذرے کی حیثیت نہیں رکھتا ۔
کنول:اوووووووو اب لیکچر نہ شروع کردینا تم پلیز۔
گل :اللہ کرے تمہیں سمجھ آجائے ۔وہ کالج پہنچتی ہیں آگے بہت زور شور سے تیاری جاری تھی۔جگہ جگہ اس کے فیورٹ ہیرو کے پوسٹرز لگے ہوئے تھے۔کنول جھٹ سے پہلی نشست پر بیٹھ گئی ۔میں تو سب سے پہلے دیکھوں گی اپنے ہیرو کو۔
گل :چلو تم اپنی نشست پکڑو میں جارہی ہوں۔
کنول :جاؤ جاؤ بور کہیں کی۔میں تو خوب مزا کروں گی۔
گل اپنے رب کے سامنے گوش گزار ہوئی ۔یاربی سب لڑکیاں دوستیں ہال میں اس ایکٹر کو دیکھنے کے لیے ہال میں جمع ہیں ۔یاخدا تیری محبت مجھے وہاں جانے سے روکتی ہے۔یاربی……………….. گل دعا کرنے کے بعد قرآن کی طرف متوجہ ہوئی۔ وہ قرآن کے الفاظ کو اپنے اندر لے رہی تھی۔اس کی نظر اک آیت سے گزری جس کا مفہوم اسے سمجھ آتے ہی اس نے ہال کی طرف دوڑ لگا دی اور وہ الفاظ یہ تھے کہ اس دن کاٹے گا انسان اپنے ہاتھ کہ میں فلاں کو دوست نا بناتا ۔اس کے ذہن میں کنول کا خیال دوڑنے لگا۔کنول کنول پکارتی ہوئی وہ دوڑ رہی تھی۔لڑکیاں واپس آرہی تھی ۔کنول اپنی مستی میں مگن ہاتھ میں کچھ لیے ہوئے ہوئے چل رہی تھی۔گل سے بولی میں مل لیا اس سے دیکھو میں آٹو گراف بھی لائی ہوں اس سے ۔میں اس کو سب دوستوں کو دکھاؤں گی۔فریم کرواؤں گی۔
گل:اس سب سے تمہارا کیا فائدہ ہوگا۔
کنول :میں تو بہت خوش ہوں۔میں ناچوں گی میں گاؤں گی۔
گل :کیا کرو گی ان رنگین خوابوں کو پورا کر کے۔کیوں شیطان کو راضی کرنے میں لگی ہوئی ہو؟ کیوں اس کے ہاتھوں خود کو جہنم کا ایندھن بنانے میں مگن ہو۔یہ وہ خواب ہیں جو کبھی ختم نہیں ہونگے ۔جس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ان کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے صرف خاک کے ذرات کے سوا ۔
کنول :نہیں یار چپ کرو تم آؤ برگر کھلاتی ہوں تجھے غصہ نہ کر۔
گل:یار غصہ نہیں کر رہی میں۔سمجھو تم تم ادھر دو مجھے آٹو گراف ۔میں ضائع کر دیتی ہوں اسے ۔ادھر وہ آٹو گراف کا صفحہ پھاڑتی ہے ادھر کنول گل کو طمانچہ رسید کر دیتی ہے۔
بہت سن لی تمہاری بکواس۔جاؤ اب ختم ہماری دوستی بس ختم ۔میرے خواب ،میری زندگی اور میرے دوست بھی بہت ہیں تمہارے علاؤہ بھی۔مجھے نہیں پسند کوئی میری زندگی میں دخل اندازی کرے ۔میں اکتا جاتی ہوں اک انسان سے ۔سو میں اکتا گئی ہوں تم سے ۔چلی جاؤ یہاں سے بس۔تم ہمیشہ لیکچر دیتی رہتی یہ نا کرو وہ نا کرو یہاں نا جاؤ وہاں نا جاؤ اس سے ملو اس سے نا ملو ۔
گل آنسو بہاتے ہوئے گھر کی طرف چل دیتی ہے۔ادھے کنول اپنی ہٹ دھرمی پے اڑی گھر پہنچتی ہیں۔ مستی میں مگن اک اور رنگیں خواب کی تلاش میں ۔وہ اپنا کلب بنائے گی۔اس پر اسے گل یاد آگئ۔کہ ناچ گانا خدا اور اس کے رسول کو بالکل پسند نہیں۔وہ اس کی یاد کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھی۔اف مائی حاجن……..۔ وہ اور اس کی نصیحتیں اچھا ہوا جان چھوٹی۔وہ کمرے میں آئی اور مالدار ہونے کا خواب اس کے ذہن میں گھومنے لگا۔وہ کورس مکمل کرے گی ۔پیسے کمائے گی ۔عیاشی میں اڑائے گی ۔وہ دین سے بالکل بے خبر اپنی راہ پے چل رہی تھی۔ہر پل اک نئی ہوس ،نیا ڈرامہ اور نئی لذت کی تلاش تھی۔
اک دن وہ ماں کو قرآن پکڑے دیکھا ماں بولی بیٹا اس کو اوپر الماری میں رکھ دو ۔جیسے ہی اس نے قرآن کو ہاتھ لگایا۔اس کے ہاتھ شل ہوگئے۔تم منو۔س ہو ۔نجس کہیں کی۔وہ اس آواز کو محسوس کر سکتی تھی۔پھر اک دو بار یہی عمل ہوا جس سے وہ سوچنے پر مجبور ہوگئ کیا وہ واقعی نجس ہے۔وہ لیٹی لیٹی سوچ رہی تھی۔ نیند میں گم ہوگئی ۔اس کے خواب میں گل لالہ آئی جو کہ سبز لباس میں ملبوس تحت پر بیٹھی تھی ۔جبکہ اس نے خود کو دیکھا کہ خستہ حال پھٹے پرانے کپڑے بکھرے بالوں میں رو رہی تھی ۔گل لالہ بولی کیسی ہو؟کیا تم پریشان ہو؟کیا تمہیں کوئی چیز ستا رہی ہے؟ اور اچانک اس نے خود کو آگ کے گڑھے میں گرے پایا ۔تم نجس ہو کی آوازیں ابھی بھی وہ محسوس کررہی تھی ۔وہ گل کو آوازیں دے رہی تھی ۔گل ہیلپ می ۔گل ……… اچانک وہ بوکھلا کہ اٹھ پڑی۔
اک نئی صبح اس کا انتظار کررہی تھی نا صرف دن کی بلکہ زندگی کی بھی۔آج وہ میک اپ کرنے کی بجائے حجاب کرنے میں مشغول تھی۔اسے پہلے گل کے گھر جانا تھا اسے لے کر کالج جانا تھا ۔مگر وہ کالج نکل چکی تھی۔کالج میں تلاش کے بعد بھی گل لالہ نہ ملی ۔اس کی جانے بلا کے گل تو پرئیر روم میں ہوتی۔کنول نے اسٹیج کا سپیکر اٹھایا اور بولی بالکل میرے خواب بہت رنگیں تھے اور ان کی حقیقت میری گل لالہ کے پیروں کی خاک ۔گل لالہ کہاں ہو۔معاف کردو مجھے پلیز ۔کیا تم بناؤ گی مجھے اپنی ایمانی ساتھی؟؟۔گل پرئیر روم سے نکلی اور کنول کو گلے لگا کر بولی الحمدوللہ الحمدوللہ کثیرا۔

لکھاری کا تعارف
ماریہ تبسم بی ایس سی کی طالبہ ہیں۔درس نظامی کے کورس کے چوتھے سال کی طالبہ بھی ہیں۔ لکھنا اور ادبی کتب کا مطالعہ ان کے مشاغل ہیں۔وہ پسرور کی رہائشی ہیں۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact