Tuesday, May 21
Shadow

انجانی راہوں کا مسافر: ایک تاثر/ کومل شہزادی

تبصرہ نگار : کومل شہزادی

سفرنامہ” انجانی راہوں کا مسافر” جس کے مصنف امانت علی صاحب ہیں ۔شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور بطور انگریزی کے لیکچرار اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ملک و بیرون ملک کی سیاحت کرواتا ہوا سفرنامہ “انجانی راہوں کا مسافر” ایک منفرد سفرنامہ ہے۔سفرنامے گو مختصر ہیں مگر دلکشی وتجسس آفرینی اور قدروقیمت میں بہت سے طویل سفرناموں پر بھاری ہے۔بقول غالب:

اگر یہ دل نہ خلد ہرچہ از نظر گزرد

زہے روانی عمر نے کہ درسفر گزرد

کتاب ١٣١صفحات پر مشتمل ہے جسے پریس فارپیس فاؤنڈیشن یوکے نے شائع کیا ہے۔کتاب  کے سرورق سے لے کر اسکی آرائش وزیبائش اور تصنیف کے اندر موقع کی مناسبت سے تصاویر قارئین کی دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔کتاب کا مطالعہ کرلیجیے کہیں بھی املامیں اغلاط نہیں ملیں گی جو اس پبلی کیشنز کی خاصیت ہے۔

سفرنامے کی صنف پر مختصر بات کروں توانسان کی زندگی میں اگر سیروسیاحت کی سرگرمی بھی نہ ہوتو وہ فرسٹریشن کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔ہرزمانے کا انسان سفر کرنے کا مشتاق بھی رہا ہے۔جب سے تصنیف وتالیف کا آغاز ہوا ہےدوسری اصناف نثر کے ساتھ سفر نامے بھی لکھے جاتے رہے ہیں جن میں بعض تو غیر معمولی تاریخی قدروقیمت کے حامل ہیں۔عربی میں ابن جبیر،المقدسی،ابوریحان البیرونی،ابن بطوطہ اور کتنے ہی سیاحوں کے سفر نامے ہماری معاشرتی تاریخ کے قیمتی مصادر ہیں۔موجودہ زمانے میں میری نظر میں اہم نام جو سفرنامے تحریر کررہے ہیں جن میں عطاءالحق قاسمی،تاڑر صاحب ،امجد اسلام امجد ہیں جنہوں نے شگفتہ انداز میں بہت کامیاب سفرنامے لکھے۔علاوہ ازیں ترکی پر شاندار سفرنامے فرخ سہیل گوئندی صاحب بھی تحریر کرچکے ہیں۔

زیر تبصرہ کتاب ” انجانی راہوں کا مسافر” جس  کو دو حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔پہلے حصے میں ترکی میں کیے گئے سفر کی روداد ہے۔دوسرا حصہ براعظم افریقہ بالخصوص کینیا کی سرگزشت ہے۔

کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس پر لکھے گئے فلیپ یعنی آراء سے لگائی جاسکتی ہے۔جن میں اہم نام قاسم علی شاہ اور عفت اعظم چوہان اسسٹنٹ کمشنر وغیرہ شامل ہیں۔

ہر سفرنامے کی مناسبت سے مختلف شعرا کے اشعار نے بھی سفرنامے میں نہایت دلکشی پیدا کی ہے۔پہلے حصے میں چودہ سفر پارے شامل ہیں۔اول سفرنامہ تحریر کرنے سے مصنف نے ترکی کی داستان قلمبند کی ہے۔جو ترکی کی مختصر تاریخ پر شامل ہے۔ترکی پر مبنی سفرنامہ پڑھنے سے قبل قارئین اس کا مطالعہ کرنے سے سفرناموں کا لطف مزید بڑھ جائے گا۔اول سفرنامہ” قاسم علی شاہ فاونڈیشن لاہور آمد” ہے۔جدھر سے سفرنامہ نگار نے سفر کی ابتداء کی جس میں پہلی اڑان سے لے کر ہوائی اڈے کا مختصر تذکرہ شامل ہے۔دوسرا سفر نامہ” اتاترک کی سرزمین میں ” ہے جس میں ترکی استنبول کے ہوائی اڈے سے لے کر ہوٹل تک کا احوال شامل ہیں۔چیدہ چیدہ لمحوں کا تذکرہ قاری کی مطالعہ میں مزید دلچسپی پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

“ترکی مرد بیمار سے مرد آزاد تک ” کے  باب میں ترکی کا جغرافیہ،خلافت عثمانیہ کا تاریخی پس منظر،عظیم الشان خلافت عثمانیہ کی قوت،سلطنت عثمانیہ کے روشن پہلو،عثمانی سلطنت کا زوال کا احوال کافی جامع انداز میں تحریر کیا ہے جس سے اس کے تاریخی پہلو کوجاننے میں بھی کافی مددگار ہے۔چوتھا سفرنامہ” نیلی مسجد استنبول” ہے۔یہ ترکی کی اہم مسجد کی عمارت اور اس کے اردگرد کے احوال پر مشتمل ہے۔قارئین ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے جس سے مسجد کے منظر نامہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

“اس مسجد میں ٢٦٠ کھڑکیاں ایسی ہیں جن میں رنگین نقش ونگاری سے آراستہ شیشے نصب ہیں۔اس مسجد کی اندرونی تزئین آرائش میں بیس ہزار نیلے رنگ کی خوبصورت ٹائلیں نصب کی گئی ہیں۔”

” مزار حضرت ابو ایوب  انصاری” ترکی کا ایک معروف مزار ہے۔اور تاریخی لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔مزار کے مختصر تاریخی تعارف کے ساتھ مزار کے سامنے کھڑی کار کا احوال بھی قارئین کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔یہ کار کیوں اور کس مقصد کے تحت ہے اس کا تذکرہ بھی کروایا گیا ہے۔اقتباس ملاحظہ کیجیے:

” فوجی بغاوت کے دوران عوام نے اپنے لیڈر رجب طیب اردگان کی حمایت میں فوجی ٹینکوں کے سامنے روک دیں تھیں۔ترکی کے صدر نے ملک اور لیڈر کی اس مخصوص محبت کو ہمیشہ کے لیے مثال بنانے کے لیے ایک کار خصوصی طور پر سڑک کے اوپر کیبن میں رکھوائی ہوئی تھی جس کے ساتھ سیاح تصاویر بنوارہے تھے۔”

مزید برآں ترکی کے اہم تاریخی مقامات پر سفرنامے جن میں  آیا صوفیہ کی سیر، استنبول سےقونیہ روانگی،جلال الدین رومی کا شہرمیں ،درویش جلال الدین رومی کا مزار ،آیا صوفیہ عجائب گھراور استنبول ہوائی اڈے سے اسلام آباد ہوائی اڈے تک وغیرہ کے سفرنامے شامل ہیں۔آخری  حصے میں استنبول سے اسلام آباد کے ہوائی اڈے کا احوال خوب کروایا گیا ہے۔

زیر تبصرہ سفرنامے کا دوسرا حصہ افریقہ (کینیا) پر مشتمل ہے۔جس میں اٹھارہ  ابواب شامل ہیں۔اول اس حصے میں افریقہ کا تعارف اور کینیا کی سرگزشت مختصر قلمبند کی گئی ہے جس سے افریقہ جیسے ملک کی تاریخ کو جاننے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اس حصے میں نیر وبی شہر،سفای پارک /جنگل کینیا کی سیر،لوگاوں کی سیر،ریو ہوٹل پر پہلادن اور رہائشی انتظام ،مسائی بازار اندرون شہر وغیرہ اہمیت کے حامل ہیں جو کینیا کے خوبصورت احوال کا احاطہ کرتے نظر آتے ہیں۔اس حصے کا  سفرنامہ ” نیروبی شہر” جو کینیا کا دارالحکومت اور اس ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔شہر کا احوال اور طرززندگی کا تذکرہ ،ہوٹل کے کھانوں کا احوال اور مصنف کی اپنی چشم کی خرابی تک کا تذکرہ کیا ہے جو دوران سفر ہوئی۔نیروبی شہر کی خوبصورتی کا احوال مصنف نے کچھ یوں کیا ہے:

” شہر کی سڑکیں اور اطراف صاف ستھرے ہیں۔کہیں کوئی گندگی کا ڈھیر یا مکھیاں پڑتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔یہاں ہر طبقہ یا درجہ کے لوگ رہتے ہیں۔”

سفرنامہ” لوگاوں کی سیر” جس میں یہاں کی رہن سہن ،طرززندگی،تہذیب وثقافت کا احوال نہایت مختصر انداز میں کروایا ہے۔قبیلے کے ایک گھر کا اندرونی احوال سفرنامہ نگار کی زبانی ملاحظہ کیجیے:

” ہر بندے کی کم از کم تین بیویاں تھیں ،ہر بیوی کا اپنا کمرہ تھا اور اپنا سٹوروغیرہ ۔بچوں کے الگ الگ کمرے ۔”

سفرنامہ نگار کے اسلوب میں اُکتا دینے والی یکسائی نہیں آتی۔امانت علی صاحب نے دل میں اتر جانے والی ایسی زبان لکھی ہے جس سے خود زبان کی وسعت ،ہمہ گیری اور قوت کا اندازہ ہوتا ہے۔جس میں کہیں تکلف اور تصنع ،آورد یا آرائش اور زیبائش کا شائبہ نہیں ہوتا ۔ان کے سفرنامے سے انکا وسیع مشاہدے کا اندازہ ہوتا ہے اور گہرائی کا بھی۔اپنے سفر میں قاری کو ایسی سہولت سے شریک کرلیتے ہیں کہ اُس کے جذبات واحساسات ہمیں اپنے ہی محسوس ہوتے ہیں۔بقول غالب:

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

مصنف کے پاس نہ لفظوں کا خزانہ کم لگتا ہے نہ اُن کی تاثیر وتاثر میں کمی آتی ہے۔نہ خیالات کی بے جا تکرار ہوتی ہے۔یہ اپنے معمولی سے سفر کو بھی نہایت معمولی بنانے کا فن جانتے ہیں۔جو کچھ بھی سفرنامے میں تذکرہ کیا وہ نہایت چابکدستی اور ہنر مندی سے کیا ہے۔بقول داغ:

زاہد کسی کی چشم جو کہہ جائے بزم میں

تیرے فرشتے خاں کو بھی اُس کی خبر نہ ہو

تبصرہ نگار کا تعارف

کومل شہزادی ایک مایہ ناز کالم نگار،افسانہ نگار اورسکالر ہیں ۔جو شہر اقبال میں پیدا ہوئیں اور وہی تعلیم و پرورش پائی ۔تعلیمی قابلیت ایم۔فل اور بی ایڈ ہے۔مزید پڑھائی کے لیے جستجو جاری ہے۔ادبی سفر کا آغاز تحقیقی مضامین اور کالم نگاری سے کیا۔تحقیقی و تنقیدی مضامین مختلف ادبی جرائد میں شائع ہوتے رہے۔اور کالم مختلف قومی اخبارات میں چھپ چکے اور مزید شائع ہورہے ہیں۔ علاوہ ازیں  ان کے افسانے مختلف  ڈائجسٹ میں چھپتے رہتے ہیں  اور قارئین میں بے حد مقبول ہیں۔ اب تک دو کتابیات منظر عام پر آچکی ہیں۔”آگہی کا سفر”،شاداب کنارہ شامل ہیں ۔مزید پر کام جاری ہے۔بہت سی ادبی تنظیموں سے منسلک ہیں۔ماہنامہ گوہر نایاب ڈائجسٹ کی سلسلہ انچارچ بھی ہیں۔ ۔ سیالکوٹ سے  شائع ہونے والے ادبی جریدہے نقش فریادی کی  اسسٹنٹ ایڈیٹر  بھی  ہیں۔مزید برآں تحقیقی مجلے ” ماخذات” کی  ادارتی ٹیم کا بھی حصہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact