Sunday, May 26
Shadow

پاکستان میں جدید مالیاتی نظریہ و سماجی ضروریات/ تحریر کلیم اللہ کاکڑ

تحریر کلیم اللہ کاکڑ
پاکستان کی معیشت ہمیشہ مد و جزر کا شکار رہی ہے گو کہ  پاکستان کو ورثہ میں بچے کھچے صرف چند ادارے ملے تھے، لیکن اس وقت ایک قابل انتظامیہ موجود تھی جس کی بدولت 1950 تک پاکستانی معیشت ایک مستحکم درجہ اختیار کرچکی تھی کوریا کی جنگ میں پاکستانی کپاس، پٹ سن سے خوب زرِ مبادلہ حاصل ہوا لیکن ملکی معیشت میں تبدیلی1958 کے بعد آئی۔ پاکستان کا دوسرا پانچ سالہ منصوبہ 1965 میں ختم ہوا۔ اس وقت پاکستانی معیشت کو ترقی  پذیر ممالک کے لئے ایک ماڈل کی حیثیت حاصل تھی ورلڈ بینک کے مطابق اس وقت جو ممالک پہلی دنیا (ترقی یافتہ ممالک) کا درجہ حاصل کرسکتے تھے، ان میں پاکستان بھی شامل تھا 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد معیشت میں خرابی پیدا ہوئی لیکن جلد ہی اس پرقابو پالیا گیا اور 1968 تک ترقی کی شرح دوبارہ سات فیصد سے زیادہ ہوگئی اس کے بعد حالات خراب ہونا شروع ہوئے۔1972میں جب نئی حکومت برسرِ اقتدار آئی تو اس نے ملک میں بہت سی اصلاحات نافذ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا ردِ عمل منفی ہوا بڑی صنعتوں کو قومیا لیا گیا۔ اس طرح پاکستان میں دن بدن حالات خراب ہونے کی وجہ سے جاری اور موجود کئی ایک بڑے صنعت کاروں کو ملک چھوڑنا پڑا اس عمل سے ملک میں صنعتوں کی ترقی کی شرح بہت کم ہوگئی اور اس کا اثر عمومی قومی پیدا وار  پر بہت بڑا اثر بھی پڑا روپیہ کی قدر کم کرنے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا البتہ بہت سے لوگوں کو مڈل ایسٹ جانے کا موقع ملا اس

طرح ملک میں مصنوعی خوشحالی نظر آنے لگی
اسی کے عشرے میں ملک میں سیاسی استحکام  رہا اس لئے دوبارہ ترقی کی شرح بڑھنے لگی لیکن پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان میں  جنگ کے دوران پیدا ہونے والے بحران کی وجہ سے ملک میں اندرونی اور بیرونی بحران پیدا ہوتا رہا اور مختلف ممالک سے تعلقات بہتری کے بجائے  خرابی کی طرف لےگئے اٹھاسی کے دہائی سے پہلے مختلف حکومتوں نے ترقی اور معیشت کو آگے لے جانے کو بھر پور کوششیں کی ،مگر ۔1988ء کے بعد سے آنے والی حکومتوں نے پائیدار ترقی کے بجائے وقتی اقدامات سے عوام کو خوش رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد پھر کبھی بھی پاکستانی معیشت مستحکم نہ ہوسکی اور عوام کو ریلیف کے بجائے مہنگائی، بے روزگاری اور تعلیم اور صحت کے ریشیو میں مسلسل  کمی بناتے جارہے ہیں  
 
ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت کو مسلسل کم کیا جاتا رہا ملک میں ڈیم نہ بنائے گئے اور سستی بجلی نہ مل سکی ملک آئی پی پیز کے چنگل میں پھنس گیا جس کی وجہ سے نہ صرف توانائی مہنگی ہوئی بلکہ گردشی قرضہ بھی بڑھتا رہا۔

/ نائین الیون کے بعد پاکستان پر بین الاقوامی پابندیاں ختم نہیں ہوئیں بلکہ بد تر ہوئیں  دو ہزار آٹھ ءتک برسراقتدار رہنے والی حکومت نے معاشی مسائل کو بہت سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کی اس عرصے میں ترقی کی شرح بڑھ گئی دو ہزار چھ  میں جی ڈی پی میں 8.5فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس کے بعد پھر جی ڈی پی گرنا شروع ہوگئی۔ روپے کی قدر کم کردی گئی۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے_،

پاکستان  کو اس وقت نئے ترجیحات اور نئی پالیسیوں کی ضرورت ہیں جس پر پاکستان کے ماہرین معاشیات کام کررہے ہیں یہ تو وہی پرانے اور ایکسپائر پالیسی ہے جو عرصہ دراز سے کام کر رہا ہے جو ملک کو یہاں تک لے کے آیا کہ اب حکومت وقت بھی کہ رہا ہے کہ مہنگائی کی شرح 27 فیصد تک اضافہ ہوا اور ہفتہ وار ریکارڈ اب تک 50 فیصد رہا ہے اور ڈالر کے قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے _
بچھلے سالوں میں کوئی معاشی ترقی  کی کوئی اندیشہ تک نظر نہیں آرہا نہ کوئی نئے صنعتیں نہ کوئی کاروبار ۔
اور  سب سے زیادہ اندیشہ کن بات  یہ بے  کہ بے روزگاری کی خاتمے کیلئے اب تک کوئی نئی پالیسی نہیں بنائی گئی
بلکہ اس وقت پاکستان میں لوگ سٹیگونیش کی زندگی گزار رہے ہیں  جس میں مہنگائی اور بے روزگاری کا دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے
پاکستان کو اس حالت سے نکالنے کیلئے کیا جائے اس  میں اندیشہ کن بات کہ ہمارے ملک کے سربراہان ہر روز آئی ایم ایف  ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے پاس کشکول لے کر مانگتے ہیں  تاکہ باقی لوگ بھی ہمیں پیسے دے اور لوگ پیسے دینگے  تو ہم ڈالر سے ہمیں وہ چیزیں خریدنے کو ملےگی  جو ہماری ضروریات ہے
ان سب چیزوں کا  دارومدار مدار خرید اور فروخت پر ہے  پاکستان اس وقت دینا میں فروخت  کم کرتے اور خرید زیادہ کرتے ہیں وہ بھی ڈالروں میں اس لئے روپیہ کا کوئی قیمت نہیں  اگر پچھلے دو سالوں کا ریکارڈ دیکھ لیا جائے تو ہمارے ہاں خرید کا شرح 8۔%53 فیصد رکارڈ کیا جبکہ فروخت کا شرح 5۔%25  فیصد ریکارڈ کیا جبکہ اس کا آدھے حصے کا برابر ہے
پاکستان کو ملنے والے ۔4 %29 بیلن ڈالر رقم جو کہ پاکستان سے باہر ممالک پاکستان کے لوگ مزدوری کے طور پر کماتے ہیں اور پاکستان میں آتے ہے اس کا مطلب پاکستان کے تمام سرمایہ دار لوگ مل کر جو چیزیں بناتے ہیں جس فروخت کرتے بیرونی مزدور اس سے زیادہ کماتے ہیں
پاکستان باقی دنیا سے تیل مینریل الیکٹرانک اور بہت سے مشینری شامل ہیں  یہ چیزیں جدید دور کے ضروریات ہے جس میں ہم کمپیوٹر موبائلز الیکٹرانک مواد جو ہمیں بنانے نہیں آتا اس لئے ہمیں یہ چیزیں خریدنا ضروری ہے
جبکہ پاکستان کے طرف سے آج بھی باقی ملکوں میں بھجنے والے چیزوں میں شامل ٹیکسٹائل۔ کپڑے ۔ فروٹ۔ سبزی۔ فوڈ فرڈکٹس فروخت کرتے ہیں جس میں ٹیکسٹائل کپڑے میجر ٹاف آف پر ہے
اور پاکستان میں وہ چیزیں اب تک نہیں باسکتے جو جدید دور کے ضروریات میں شامل ہو
اس کا اثر عام عوام پر پڑھ جاتا ہے لیکن حکومت کی نااہلی بھی اس میں شامل ہے جوکہ اب تک حکومت کے پاس کو ایکسپرٹ نہیں ہے جو حکومت کی کمزوری کو ختم کر سکے
ابھی تک یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان کی معیشت صحیح طرح نہیں چل رہی کم از کم ملک کی اکثریتی عوام کیلئے تو بالکل بھی نہیں اور شاید سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والی اعلیٰ عہدوں پر فائز اشرافیہ کیلئے بھی نہیں جن کی نظر میں پاکستان کا معاشی پہیہ پہلے ہی جام ہو چکا ہے۔ اب آگے کیا ہوگا
پچھلے حکومت کے وزیر خزانہ اسد عمر کی قیادت میں وزیراعظم عمران خان کی حالات سے انجان معاشی ٹیم بگڑتی معیشت کی بحالی کیلئے بہت سست روی اختیار کیا تھا  پرافٹ/منافع نے اس مدعے پر ان کی مدد کی کوشش کی ہے۔
پرافٹ/منافع نے ملک کے 5 بہترین معاشی تجزیہ کاروں سے رابطہ کیا تاکہ ان کی رائے جان سکیں کہ برآمدات میں کمی اور توازن ادائیگی کو مدنظر رکھتے ایسے کیا اقدامات کرنے چاہئیں جس سے ملکی معیشت درست پٹری پر آ سکے۔ یہ تمام 5 تجزیہ کار یا تو براہ راست حکومت میں رہ چکے ہیں یا حکومتی مشیر رہ رچکے ہیں یا ملکی اقتدار کی بھاگ دوڑ سنبھالنے والی سیاسی پارٹیوں کا اہم حصہ رہ چکے ہیں۔ اور ان میں سے 4  ماہر معاشیات  متعلقہ میدان میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔ اور رائے شامل کیا جس میں ٹیکسز میں کمی ہمسایہ ممالک سے تعلقات بارڈر کی بحالی چینی مصنوعات پر کم از کم درآمدی قیمت لاگو کر کے انڈر انوائسنگ کو جانچنا چاہیئے۔ 90ء کی دہائی میں ہمارے پاس بین الاقوامی تجارتی نرخ موجود تھے لیکن اس کا تخمینہ کسٹم کی جانب سے لگایا جاتا تھا۔
 ہمیں چین سے بڑی مصنوعات جیسے لوہا اور اسٹیل کی کم از کم قیمت پر درآمد کرنی چاہیئے ۔
بھارت 28 مصنوعات کم از کم قیمت پر درآمد کرتا ہے جس میں سے کچھ مصنوعات چین سے اور کچھ سری لنکا کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدوں کی مد میں درآمد کرتا ہے
ہمیں پٹرولیم مصنوعات، زراعت اور ادویات کے علاوہ تمام مصنوعات کی درآمد پر 10 سے 30 فیصد نقد رقم جمع کروانے کا نظام متعارف کرنابیرونی اکاؤنٹس کو منظم کرنے کیلئے درآمد پر توجہ دے کر ہم مطلوبہ اہداف حاصل کر سکتے
زرمبادلہ کی شرح کو منظم کرنے کیلئے حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، حکومتی اخراجات میں کمی اور پھر منافع بخش پروگرامز اور سرمایہ کاری کے فروغ کے ذریعے غربت کم کرنے پر توجہ دی جائے۔
 تقسیم ہند کے وقت ہم اپنی زرعی اجناس بھارت برآمد کرتے تھے اور اب ہم بھارت سے بڑے پیمانے پر کپاس درآمد کر رہے ہیں۔ ایسا اس لئے ممکن ہوا کیونکہ بھارت نے اپنی زراعت کو بہت زیادہ سبسڈائز کیا۔
بھارت نے زراعت کے شعبے کو 27 بلین ڈالر کی سبسڈی دی جس میں سے 15 فیصد سبسڈی کھاد پر ہے جس کے نتیجے میں بھارت میں یوریا کی قیمت پاکستان کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے زراعت کے شعبے میں سبسڈی فراہم کرنی چاہیئے جیسا پوری دنیا میں ہوتا ہے۔
صنعتی ترقی کیلئے حکومت کا کردار نہایت اہم ہے لیکن اس کی حدود کا تعین ہونا چاہیئے اور مافیا اور اجارہ داروں سے نپٹنے کیلئے ضوابط بنانے چاہئیں۔ اپنی صنعتوں میں ہونے والی گڑبڑی کی نشاندہی کیلئے ایک مؤثر تقابلی کمیشن اور سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کی ضرورت ہے۔ چینی، آٹو موبائلز، سیمنٹ، فارماسوٹیکل اور بے شمار ایسی بڑی صنعتیں ہیں جنہوں نے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور قیمتوں میں ردوبدل کرتے رہتے اور ہم اس معاملے پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ ضرورت ہے کہ معاشی ترقی کے لئے نئے پیراڈایم میں ترقیاتی اپروچ اختیار کیا جائے اور اجتماعی مفادات و سماجی ضرورتوں کے پیش نظر رکھتے ہوئے بہتر و پائدار سائنسی بیانیے و معاشی ترقی کے لئے نظام نو تشکیل دیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact