Sunday, May 26
Shadow

کہانی: باورچی خانہ قلمکار: تابندہ شاہد

قلمکار: تابندہ شاہد

پچھلی صدی کی ساتویں دہائی میں ایک بچی تھی ( جو۔۔۔ اب بُڈھی ہے)۔ نہ اسے کھانے کا شوق، نہ پکانے کا۔۔۔ مگر دس سال کی عمر میں روٹی پکانی شروع کر دی تھی۔۔۔ اُس کی اماں کے کندھے کمزور تھے۔

وہ بچی کچھ اور بڑی ہوئی تو ہلکا پھلکا کھانا بنانے میں ماں کی مدد کرنے لگی۔ پھِر جوان ہوئی تو اماں نے پورا کھانا بنوانا شروع کر دیا۔

وہ کھانا بنا تو لیتی مگر، ایک ایک بات پوچھ کر۔۔۔ مثلاً سبزی کی بھجیا بنانی ہے، سبزی کاٹ لی، پیاز ادرک بنا لی، اب دیگچی چولہے پر چڑھائی اور ماں بیٹی کی ہدایات شروع :

” کتنا گھی ؟ “

” دو چمچے ڈال کر پیاز گلابی کرو “

” گلابی ہو گئے “

” اب ادرک ڈال کر پیاز لال کرو “

” لال ہوگئے “

” پانی کا چھینٹا دے کر سبزی بھونو “

” کتنی دیر ؟ “

” پانچ منٹ تو بھون۔۔۔۔ ٹماٹر کاٹے؟ “

” نہیں “

” اچھا تب تک ٹماٹر کاٹ لو ، نمک، مرچ ڈالی؟ “

” نہیں! کتنی ڈالوں ؟ “

مصالحوں کے نام اور اندازہ بتا کر۔۔۔۔

” ارے! چمچہ چلاتی رہو “

” اچھا جی! “

” ٹھیک ہے ( ہانڈی کا معائنہ کر کے ) اب ٹماٹر ڈال دو “

” پانی کتنا ؟ “

” پانی نہیں ڈالنا، بس ہلکی آنچ پر دم دے دو “

وہ جب بھی سالن، چاول یا کبھی کبھی پلاؤ بناتی۔۔۔ یوں ہی پوچھ پوچھ کر۔۔۔۔ لیکن بکرے کی ماں چھری تلے آ گئی اور اس کی شادی ہو گئی۔ قریبی رشتے دار تھے مگر دوسرا شہر جو ہزار میل کی دوری پر تھا۔

اُس کی ماں کے ہاتھ کی لذت پورے خاندان میں مشہور تھی تو فرض کر لیا گیا کہ بیٹی میں بھی گُن ہیں۔ لیکن کھانا بنانے سے پہلے وہ ساس سے مشورہ ضرور کر لیتی۔  بہت اچھا گزارا ہو رہا تھا۔ روزمرّہ کے کھانے وہ بنا لیتی اور دعوت وغیرہ کے خصوصی طعام نند بناتی جو آئے دن کھانا بنانے کے مختلف کورسز کرتی رہتی تھی۔ البتہ پلاؤ اُس کی ذمہ داری رہی کیونکہ ” کوکنگ کلاسز ” میں ابھی تک پلاؤ سکھانے کی باری نہیں آئی تھی۔

اِن سب کا فائدہ یہ تھا کہ اسے دعوتوں میں کھانے بنانے سے چھٹی مل گئی اور وہ اس پر بہت خوش ہوتی مگر نقصان یہ ہوا کہ پلاؤ کے علاوہ اسے کسی اور دعوتی کھانے میں مہارت حاصل نہ ہو سکی۔

سب معاملات ٹھیک چل رہے تھے۔ اپنی اماں کے بل بوتے پر وہ اندھوں میں کانا راجہ تھی۔ معمول کے کھانے اب وہ ہی بناتی تھی۔

سات سال پلک جھپکتے گزر گئے۔ اس دوران تین بچے ہوگئے۔ نند بیاہ کر دوسرے شہر سدھار گئیں۔ میاں بیرون ملک چلے گئے۔ ساس سسُر ضعیف ہو گئے۔ حالات نے کروٹ لی اور سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ فیصلہ ہو گیا۔ بڑا بیٹا ماں باپ کو اپنے گھر لے گیا جو دوسرے شہر میں تھا اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ میکے آ گئی۔

اب اُس کے پھر سے مزے ہو گئے۔ بقول اماں وہ نہایت “بے سوادا” ( بدمزہ) کھانا بناتی تھی۔۔۔۔ سسرال جا کر اُن جیسا ہی بنانا سیکھ گئی ۔ لہذٰا کاٹا پیٹی وہ کرتی اور کھانا اماں بناتی۔۔۔ خاص طور پر کڑی پکوڑا بچوں کو بہت پسند آیا۔

حالات نے پھر کروٹ لی۔ پانچ سال جَست لگا کر گزر گئے۔ میاں صاحب واپس آئے اور قریب کے دوسرے شہر میں رہائش پذیر ہوگئے۔ وہ بھی بچوں کے ساتھ وہاں منتقل ہو گئی۔

بچوں کو نانی کے ہاتھ کی چاٹ لگی ہوئی تھی۔ کچھ دن تو صبر شکر کر کے دال سبزی کھائی کیونکہ ابا کو یہ ہی پسند تھا۔ مگر بچے بڑے ہو گئے تھے، رہ نہ سکے۔ ایک دن کڑی پکوڑا کی فرمائش کر ڈالی۔ اُسے بچوں پر بڑا ترس آیا۔۔ فوراً حامی بھر لی۔

اس زمانے میں سیل فون عام نہیں تھا اور گھر میں لینڈ لائن بھی نہیں تھا۔ اس نے یادداشت پر زور دیا۔ یہ تو یاد آ گیا کہ بیسن کے چار حصے ہوتے، تین لسی میں ڈالتے ہیں اور ایک کے پکوڑے بناتے ہیں۔ مگر تناسب یاد نہیں تھا۔

بہرحال کلو دہی آیا۔ لسی بنی۔ کلو ہی بیسن تھا۔۔۔ تین حصے لسی میں ڈالے۔ جب ابال آیا تو وہ بہت گاڑھا ہو گیا۔ اس میں مزید لسی ڈالی گئی۔  ابال آیا تو پھر گاڑھا۔ تین چار بار ایسا ہوا تو کڑی دیگچے سے باہر آنے لگی۔ اب اسے ایک نسبتاً بڑے دیگچے میں اُنڈیلا گیا۔ پھر پکوڑے بنائے تو کڑی کی مقدار کے مقابلے میں وہ بہت کم تھے۔۔۔۔ ایک تیسرے برتن میں پکوڑوں اور کڑی کو متناسب کیا تو پیچھے ڈھیروں ڈھیر کڑی بچ گئی۔

باقی کڑی کا جو بھی ہوا وہ اہم نہیں۔۔۔۔ اہم تھے بچے۔۔۔۔۔ دوپہر ڈھائی تین بجے تک بچے آ گئے۔ کڑی پکوڑے کو بگھار لگ چکا تھا۔ ابلے چاول اور روٹی تیار تھی۔ بچوں نے خاموشی سے کھانا کھایا پھر ایک بولی۔

” یہ نانی جان جیسا نہیں ہے ! “

اُف ! اُس کے تن بدن میں تو آگ ہی لگ گئی۔ انگلی اٹھا کر دھاڑی :

” خبردار ! جو آئندہ کسی نے میرے سامنے کڑی کا نام لیا۔ جس کو کھانی ہو وہ جب نانی کے گھر جائے تو شوق سے پکوا کر کھائے ! ۔۔۔۔”

بعد میں اسے معلوم ہوا کہ بیسن کے چار حصے تو ٹھیک تھے البتہ ان کے استعمال کی ترتیب غلط ہو گئی۔ ایک حصہ لسی میں اور تین حصوں کے پکوڑے بنانے تھے۔

ویسے اپنی بات کی وہ پکی نکلی !

چند سال اور گزر گئے۔ ایک دن وہ اپنے بچوں کے ساتھ گھر کا ماہانہ سودا خریدنے گئی۔ بچے اپنی پسند کی اشیاء بھی سودے میں شامل کرتے جا رہے تھے۔ گھر آ کر سودا سنبھالا تو ایک بریانی مصالحے کا پیکٹ نکلا۔ بیٹی معصومیت سے بولی:

” امی! ایک دفعہ تو پکا کر دیکھیں! “

اس نے کبھی بریانی نہیں بنائی تھی۔ سوچا ترکیب تو پڑھوں ! ترکیب مناسب لگی۔ فون گھر میں موجود تھا۔ چھوٹی بہن کو فون کر کے مزید حوصلہ حاصل کیا۔ بہن نے البتہ مشورہ دیا کہ آدھا مصالحہ ڈالیں۔

اُس نے اللّٰہ کا نام لیا اور اگلے دن ترکیب کے مطابق بریانی بنا لی۔ مصالحہ آدھا ڈالا اور بہن نے جو مزید مشورے دیے۔۔۔ سب استعمال کر لیے۔

واہ! کیا مہک تھی۔ وہ بہت خوش تھی۔ بریانی کے ساتھ سلاد اور رائتہ بھی تیار ہو گیا۔ بچے سکول سے آ چکے تھے۔ کھانا میز پر اتارا۔ بچوں نے خوشی خوشی پہلا نوالہ منہ میں ڈالا :

” امی! اس میں تو نمک ہی نہیں! “

“ہیں! ” اس نے فوراً ایک نوالہ منہ میں ڈالا۔

” یہ کیسے ہو سکتا ہے! میں نے تو ایک ایک قدم ترکیب کے مطابق لیا۔ وہاں تو کہیں نہیں لکھا تھا کہ اتنا اور اتنا نمک ڈالیں ! کیا مصالحے میں نمک نہیں ہوتا؟”

وہ فون پر اپنی چھوٹی بہن کو غصے میں سُنا رہی تھی۔

” باجی! نمک حسب ضرورت خود ڈالتے ہیں “

” تو بتایا کیوں نہیں ! “

اب اس کا جواب بہن کے پاس نہیں تھا۔

بہرحال اس نے ہمت نہیں ہاری اور چند دن بعد باقی مصالحے کی بریانی بنائی۔ دھیان سے نمک ڈالا۔ ہر مرحلے پر چکھتی رہی۔ بریانی تیار ہو گئی۔ دم کھولا اور چاول ہلائے تو۔۔۔۔۔

پچھلی مرتبہ کیا کھڑے کھڑے چاول تھے۔۔۔ کیا خوبصورت شکل تھی ! بس عقل نہیں تھی۔ اور اب۔۔۔۔

کیا ذائقہ تھا ! کیا خوشبو تھی! مگر شکل ڈھے چکی تھی۔۔۔۔

بچوں نے بہت حوصلہ افزائی کی کوشش کی مگر اُس نے انگلی اٹھا کر فیصلہ سنا دیا :

” اگر آئندہ کسی نے سودے میں بریانی مصالحہ رکھا تو وہ خود ذمے دار ہو گا۔ جس نے بریانی کھانی ہے وہ خود بنا لے “

اس کے بعد سودے میں کبھی بریانی مصالحہ نہیں آیا اور ویسے بھی وہ اپنی بات کی بہت پکی ہے!!

چند سال اور گزر گئے۔ اِس دوران کئی تبدیلیاں آئیں۔ آج کل تبدیلی کا لفظ بدنام ہو گیا ہے ورنہ تبدیلی زندگی کا حصہ ہے۔

سب سے بڑی تبدیلی یہ ہوئی کہ اُس کے میاں دوبارہ بیرونِ ملک چلے گئے۔ خود اُس نے ایک اسلامی ادارے میں داخلہ لے لیا۔ اُس کی بہن ڈاکٹریٹ کرنے اُن کے گھر آ گئی۔ بڑی بیٹی یونیورسٹی میں، چھوٹی کالج میں اور سب سے چھوٹی سکول میں پہنچ گئی۔ صبح سب گھر کے افراد اپنے اپنے ” کاموں ” میں نکل جاتے۔ پیچھے سے کام والی آتی جھاڑو پوچا اور کپڑے دھو کر چلی جاتی۔

برتن دھونے اور گھر سمیٹنے کا کام سب مل جل کر کرتے۔ پانچ دن دال چاول، سبزی روٹی بنتی اور دو دن خالہ سے فرمائشی پروگرام ہوتے۔

زندگی مزے سے رواں دواں تھی۔۔۔۔ وہ بھی خوش، بچے بھی خوش !!! کہ حالات نے پھر کروٹ لی۔۔۔۔۔ یہ کروٹ ہی تبدیلی ہے اور تبدیلی زندگی ہے۔

ہوا یوں کہ اس کی بڑی بیٹی کے لئے شادی کا پیغام آیا۔ وہ اُس کی سہیلی کا بیٹا تھا۔ انکار کی کوئی وجہ نہ تھی اس لئے چٹ منگنی ہوگئی اور پٹ بیاہ کو ڈگری کی تکمیل تک ملتوی کر دیا۔

منگنی کے بعد نانا جان نے پوچھا:

” آٹا گوندھ لیتی ہو ؟ “

” نہیں نانا جان! “

” تو روٹی؟ “

” نہیں نانا جان! “

” کم از کم آٹا گوندھنا اور روٹی پکانا سیکھ لو، پیٹ تو بھرے نا ! “

نواسی نے سعادت مندی سے سر ہلایا اور اُس نے فکر مندی  سے۔۔۔۔۔

اُس نے اللّٰہ کا اور دل ہی دل اماں کا شکر ادا کیا کہ طوعاً کرھاً روٹی اور کھانا پکانا سکھا دیا۔ مگر اب بیٹی کے ساتھ کیا کرے؟ اس نے ایک ترکیب لڑائی۔

” تینوں غور سے سنو! آئندہ رات کی روٹی پکی پکائی نہیں ملے گی۔ اپنی اپنی خود پکانی ہو گی ۔ “

ایک دو دن ڈبل روٹی کھائی مگر چھوٹی کی تسلی نہیں ہوتی تھی۔ تیسرے دن اس نے روٹی بنا لی۔ خوشی خوشی سب کو دکھائی اور مزے مزے سے کھائی۔

دوسرے دن پھر توا چولہے پر رکھا تو دونوں بڑی بہنوں کے منہ میں پانی آ گیا۔۔۔۔  لگیں منتیں کرنے۔ چھوٹی نے صاف انکار کر دیا۔  دونوں بہنوں نے کوئی تِگڑم لگایا، بہلا پھسلا کر سودے بازی کر کے پانچ روپے فی روٹی پر بات طے کر لی۔

ترکیب ناکام ہو گئی۔

اب اس نے سیدھا حکم جاری کیا۔۔

” روزانہ ایک لڑکی میرے لئے روٹی بنایے گی “

پہلے دن چھوٹی نے بنائی۔ اس کی شکل افریقہ کے نقشے جیسی تھی۔ اگلے دن درمیان والی نے روٹی بنائی۔ گول مٹول روٹی اس کے سامنے تھی۔ حیران تو ہوئی مگر ظاہر نہیں کیا۔ بے نیازی سے کھانے لگی۔

” امی! کیسی بے؟ “

” ٹھیک ہے! “

” کیسی گول بنی ہے! “

” ہوں ! “

” پتا ہے کیسے گول بنی؟ “

” ہونہہ! “

” آسان طریقہ ہے۔ جب روٹی پھیلا لی تو پھر چھوٹی پلیٹ رکھ کر گولائی میں کاٹ لی۔ آسان ہے نا !”

پھر جو قہقہے نکلے تو چھت اڑنے کی کسر رہ گئی۔

یہ دن بھی دیکھنا تھا!!

اُس کی کوششیں ناکام ہو گئیں تو اس نے بھی کوششیں ترک کر کے اللّٰہ پر چھوڑ دیا۔ یوں بھی یونیورسٹی کے مسائل۔۔۔۔ اسائنمنٹ، امتحانات وغیرہ ہوں اور شوق بھی نہ ہو تو بہت مشکل ہے۔ اصل میں خود اس کے پاس سِر کھپائی کا وقت نہیں تھا۔۔

ڈگری مکمل ہو گئی اور آخری امتحان کے پندرہ دن بعد اس نے بیٹی کو رخصت کر دیا۔

ایک دو مہینے یوں ہی گزر گئے۔ ایک دن بیٹی کا فون آیا:

” امی! وہ آٹا کیسے گوندھوں ؟ “

” خیریت ؟ “

” جی! وہ آج کام والی نہیں آئی اور گوندھا آٹا ختم ہے۔ وہ ( ساس ) باہر نکلی ہیں اور کہہ گئی ہیں کہ میرے آنے تک آٹا گوندھ کے رکھنا۔ “

پہلے تو اس نے زور سے قہقہہ لگایا اور خوب ہنسی۔۔۔ یقیناً دوسری طرف بیٹی نے منہ بسورا ہو گا بہرحال۔۔۔ :

” ٹھیک ہے! سپیکر کھولو! آٹا نکالا ہے ؟ “

” جی ! “

” آٹے میں پانی ڈال کر آٹے کو مروڑو۔ تھوڑا تھوڑا پانی ڈالنا۔”

” یہ تو گولیاں بن گئی ہیں ! “

” تھوڑا اور پانی ڈالو “

” ڈال دیا ! اب کیا کروں ؟ “

تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی تھی وہ بھی فون پر !

” اب ہاتھ سے مکس کرو “

” یہ تو چپک رہا ہے اور بہت نرم ہے ! “

” افوہ! اچھا! ایک برتن میں خشک آٹا لو اور تھوڑا تھوڑا کر کے ملاتی جاؤ اور کم از کم گندھا ہوا آٹا دیکھا تو ہوا ہے نا ۔۔۔ بس ویسی شکل بن جائے۔ “

” جی کچھ بن گیا ہے “

” ٹھیک ہے! اب وہ جو ” کچھ بن ” گیا ہے اس کے اوپر نیچے ہر طرف پکانے کا تیل اچھی طرح لگا دو۔ اور پندرہ منٹ تک رکھ دو۔ “

پندرہ منٹ بعد فون کی گھنٹی بجی۔۔۔

” اب کیا کروں ؟ “

” اب دونوں ہاتھوں پر پکانے کا تیل لگاؤ اور آٹے کو پہلے پھیلاؤ پھر دوہرا کرو، ایسے دو مرتبہ کرو۔ پھر پیالے میں نکال کر دوبارہ تیل کا ہاتھ لگاؤ۔ “

آٹا گوندھ لیا، اب رات کو ساس نے دو روٹیاں ڈالنے کی ہدایت دی۔ بیٹی یعنی بہو نے دو روٹیاں پکائیں اور  دسترخوان میں لپیٹ کر لے آئی۔

ساس نے روٹی نکالی اور پلیٹ میں رکھی تو حیرت زدہ رہ گئیں:

” اے بہو! کیا تراشا ہے ؟ “

” جی امی ! “

بہو نے سعادت مندی سے جواب دیا۔

ماں کی تو نہیں البتہ بہن کی تربیت کام آ گئی۔

اس کی زندگی تو مزے سے گزر گئی تھی کہ میاں دال سبزی کھانے والا بندہ ( اللّٰہ تعالیٰ نے شکر خورے کو شکر دی) مگر داماد کھانے کا شوقین اور آگے اولاد بھی ۔۔۔۔۔۔۔

مزید چودہ سال دو پلکیں جھپکنے میں گزر گئے۔ اماں نے تو کوئی ترقی نہیں کی مگر انٹرنیٹ کی بدولت بیٹی نے کافی ترقی کر لی ہے۔ شوہر، بیٹوں اور بیٹی کے فرمائشی پروگرام جاری رہتے ہیں۔

باقی بیٹیوں کی بھی شادی ہو گئی۔اس کے بعد حالات نے ۔۔۔۔ باورچی خانے کے اعتبار سے کوئی نئی کروٹ نہیں لی۔ لہذا فی الحال راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔۔۔

رہے نام اللّٰہ کا۔۔۔۔ ۔الحمدللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact