ڈاکٹر عرشیہ جبین

                    ناول ’’دھندلے عکس‘‘ کرن عباس کرن کا ناول ہے۔کرن عباس کرن اردو کی نو وارد ادیبہ ہیں۔ان کا تعلق آزاد کشمیر،سے ہے۔ان کی ولادت آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ۳؍اکتوبر ۱۹۹۵ء کوہوئی۔۲۰۱۸ء میں آزادجموں و کشمیر یونیورسٹی سے انگریزی میں بی ایس کرنے کے بعد انھوں نے حال ہی میں ایم فل کی ڈگری مکمل کی ہے۔ان کے ادبی سفر کا آغازابتدائی طالب علمی کے زمانے ہی سے ہوگیا تھا۔ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ۲۰۱۸ء میں ’’گونگے خیالات کا ماتم‘‘ کے عنوان سے شائع ہوچکا ہے۔ان کا پہلا ناول ’’دھندلے عکس‘‘ انھوں نے ۲۰۲۰ء میں تحریر کیا لیکن یہ ۲۰۲۱ء میں پاکستان کے مایہ ناز اخبار ’’جنگ‘‘  کے سنڈے ایڈیشن میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔اس کے علاوہ ان کے دو اور ناول زیر تحریر ہیں ۔انھوں نے ادب کے میدان میں ابھی ابھی قدم رکھا ہے، لیکن ان کی تخلیقی صلاحتیوں کو دیکھتے ہوے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک اچھی تخلیق کار ہیں۔انھوں نے ادب کے میدان میںکم عمری میں قدم رکھ کر اپنی کہانیوں اور ناول کے ذریعے اردو کے افسانوی ادب میں اپنی تخلیقی صلاحتیوں کے جوہر دکھارہی ہیںاوربحیثیت ایک فکشن نگارانتہائی قلیل مدت میں اپنی الگ شناخت بناچکی ہیں۔

ناول’’دھندلے عکس‘‘ میں ان نوجوانوں کی کہانی بیان کی گئی ہے جو اپنے اپنے فن میں ماہر ہونے کے باوجود کسی نا تمام آرزئوں کی تلاش میں ہیں ۔سب کچھ ہوتے ہوئے بھی انھیں کسی ایسی شے کی تلاش ہے جو ان کی روح کو آسودگی بخشے۔ایسی آسودگی جو دل کی راہ ان کی روح تک پہنچے۔یہ نوجوان ذہنی کرب اور قلبی اضطراب کا شکار ہیں۔انھیں یہ آسودگی اس وقت نصیب ہوتی ہے جب انھیں عرفان حاصل ہوتا ہے اور محبت اور دل کی دنیا سے شناسائی حاصل ہوتی ہے اور اس طرح ان کی خدا سے رغبت اور رسائی حاصل ہو پاتی ہے۔اس طرح ان فنکاروں کے ذریعے افسانہ نگار نے انسانی زندگی کے فلسفے کو بخوبی سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ناول کا اسلوب جاندار ہے۔ناول نگار کو زبان و بیان پربھر پور قدرت حاصل ہے۔ناول کی زبان سادہ سلیس ہے لیکن انداز بیان استعاراتی ہے۔پورا ناول استعاراتی انداز لیے ہوئے ہے۔

ناول ’’دھندلے عکس‘‘ میں ناول نگار نے تکنیک کے بہت سے تجربے کیے ہیں یا یوں کہنا چاہیے کہ پورا ناول ہی تکنیک کے تجربات سے لیس ہے۔اس ناول میں بیانیہ کی تکنیک، خودکلامی کی تکنیک،ڈائری کی تکنیک،خط کی تکنیک،فون کی تکنیک،ڈرامائی تکنیک،فلیش بیک کی تکنیک،شعور کی رو کی تکنیک،داستانوی اسلوب اور حکایتیوملفوظاتی اسلوب وغیرہ کے تجربے نظرآتے ہیں۔ اس ناول میں تین کہانیاں بیک وقت چلتی ہیں۔ایک کہانی کے ساتھ دوسری پھر دوسری کے

ساتھ تیسری۔پہلی کہانی ایک نامور مصور کی کہانی ہے۔جو نام،شہرت اور دولت سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کسی انجانے غممیںہمیشہ غمگین و نا آسودہ رہتا ہے۔جسے ایک ڈائری ملتی ہے جس میں قدیم زمانے کی ایک کاشی گر فنکارہ کی کہانی ہوتی ہے جس کا غم مصنف کو اپنا غم معلوم ہوتا ہے۔اسی کہانی میں ایک کردار نایاب کا ہے۔وہ ایک شاعرہ ہے اور مصور رسیم کے عشق میں مبتلا ہے لیکن رسیم اپنے غم کی وجہ سے اس محبت سے انکار دیتا ہے اور اس طرح نایاب کی زندگی میں غم کی شمولیت ہوجاتی ہے  اور پھر وہ کینسر کے مہلک مرض میں مبتلا ہوکر ایک دن اس دنیا سے رخصت ہوجاتی ہے۔اس طرح رسیم مصور کی کہانی میں تین کردارو ں کی زندگی اور غم کی کہانی کا بیان داستانی طرز کا معلوم ہوتا ہے۔تیسری کہانی اسرا کی کہانی ہے یہ بھی کسی عرفان کی تلاش میں مبتلا ہے اوراپنی نا مکمل تلاش کی وجہ سے وہ بھی افسردہ و غمگین رہتی ہے اور جب اسے عرفان حاصل ہوجاتا ہے تو پھر اس کی زندگی میں بہار آجاتی ہے۔

یہاں اس ناول کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ مصنفہ نے اس ناول میں تکنیک کا عمد ہ استعمال کیا ہے ا س لیے اس ناول کا تجزیہ ہم تکنیک کے تجربے کے حوالے سے کریں گے۔ لفظ تکنیک(Technique)یونانی زبان کا لفظ ہے۔اس کے معنی طریقہ کار یا فن کے ہیں۔ ادب میں ہم تکنیک کے معنی طرز تحریر یا ندرت بیان کے معنی میں لیتے ہیں یعنی فکشن میں زبان کو فنکارانہ انداز میں برتنے کا نام گویا تکنیک ہے۔ممتاز شیریںافسانے میں فن کے طریقہ کار کو برتنے کو تکنیک قرار دیتے ہوئے لکھتی ہیں:

تکنیک کی تعریف زرا مشکل ہے۔مواد، اسلوب اور ہیئت سے ایک علاحدہ صنف ہے۔فنکار مواد کو اسلوب سے ہم آہنگ کرکے اسے مخصوص طریقے سے متشکل کرتا ہے۔افسانے کی تعمیر میں جس طریقے سے مواد ڈھلتا جاتا ہے وہی ’’تکنیک‘‘ ہے۔۔۔اور آخر میں جو شکل پیدا ہوتی ہے اسے ’’ہیئت‘‘ کہتے ہیں اور جو چیم بنتی ہے وہ افسانہ‘‘۔

    (بحوالہ اردو افسانہ وایت و مسائل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی ۲۰۰۰ئ،ص۴۷)

کرن عباس کا انداز منفرد ہے۔اسلوب ہی شخصیت ہے ’’Style is the Man‘‘ کہ مصداق ہر مصنف کا اپنا انداز بیان ہوتا ہے جو ان کی شخصیت کے انفردی انداز کی عکاسی کرتاہے انھوںنے اپنے ناول میں جو اسلوب استعمال کیا ہے وہ استعاراتی اسلوب ہے جو دل نشین بھی ہے اور منفرد بھی۔نثار احمد فاروقی نے ایک جگہ اسلوب کی تعریف یوںپیش کرتے ہیں:     

’’افکار و خیالات کے اظہارو ابلاغ کا ایسا پیرایہ ہے جو دل نشیں ہو اور منفرد بھی‘‘۔

(آزادی کے بعددہلی میں اردو تنقید،مرتبہ شارب ردولوی،اردو اکادمی،دہلی،۲۰۰۳،ص۱۴۱)ٓ

کرن عباس نے اپنے کرداروں کے خیالات و احساسات کو استعاراتی انداز میں بڑی خوبصورتی سے ترجمانی کی کوشش کی ہے۔کرن عباس نے ناول کے ہیروں رسیم جو کہ ایک مصور ہے اور اپنے فن کی نمائش کوپسند نہیں کرتا اور اپنے فن کو اپنی زندگی تصو ر کرتا ہے، اس کے خیالات کو استعاراتی انداز میں پیش کرکے اپنے کرداروں کی نفسیاتی و جذباتی کیفیات کی ترجمانی کی ہے مثلاً وہ لکھتی ہیں:

’’فن،فن کار کے انتہا کی پیداوار ہے۔کوئی بھی فن یوں ہی وجود میں نہیں آجاتا۔خیال کے پر خار صحرا میں برہنہ پا تپتی ریت پہ قدم رکھ کر جھلسنا پڑتا ہے۔دیوانگی کی دیوار پر ٹھو کریں لگا لگا کر دنیا سے بے گانہ ہونا پڑتا ہے۔فن،ضبط کی تاریک کوٹھری میں قید ہوکر بے زبان جذبات کو زبان دے کر تخلیق پاتاہے۔انتہائی جُہد کے بعد جب خیالات معراج پا کے امر ہونے کی سعی کرتے ہیں تو فن سامنے آتا ہے۔

کل میری سابقہ مادرِ علمی میں مصوّری کی نمائش ہے۔مجھے ہر قسم کی نمائش سے سخت نفرت ہے اورمیری روح بھی قطعاً واہ واہ کی پرستار نہیں میرا فن میری زندگی ہے لیکن مجھے لوگوں کے تبصرے پسند نہیں مجھے شہرت کی تمنا نہیں میرا کام میرے جی کا قرار ہے اور یہی قرار میری منزل بھی ہے۔‘‘ 

(ناول ’’دھندلے عکس‘‘)

مصنفہ نے جس طرح مذکورہ اقتباس میں رسیم کے جذبات و احساسات کے ذریعے اس کردار کی شخصیت کو بڑی مہارت سے پیش کیا ہے۔وہیں انھوں نے کہانی اور کرداروں کو پیش کرنے کی لیے تکنیک کا بھی بخوبی استعمال کیا ہے۔کرن عباس نے کرداروں کی اندرونی کشمکش کو خودکلامی کی تکنیک کے روپ میں پیش کرنے کاہنر بخوبی جانتی ہیں۔مثلاً رسیم اپنی تخلیقات کو دںیا کے سامنے لانے سے کتراتا ہے کیوں کہ اس سے اس کی بے چینی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔اس کی اس کشمش اور بے چینی کا اظہار وہ خودکلامی کی صورت میں کرتا ہے۔مثلاً اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’کسی بھی خیال کو نقش کرنے سے پہلے میں اسے کاغذ پر اتارنے کی کوشش کرتا ہوں کہ کائنات کے مصوّ ر ے بھی دنیا کے تصوّر میں رنگ بھرنے سے قبل قلم کے ذریعے اس تصور کو لوح محفوظ میں رقم کر لیا تھا۔ آج کی رات یقینا مجھ پہ بھاری ہوگی۔میری روح کے راز آج سرِ بزم عیاں ہوئے ہیں۔ وہ راز،جو صرف میر ے تھے۔ جب بھی میری تخلیقات یو ں دنیا کے سامنے آتی ہیں،میری بے چینی میں شدید اضافہ ہوجاتا ہے لیکن آج اس بے چینی سمیت یہ جو ہلچل اور کشمش ہے،اسے میں سمجھ نہیں پارہا۔شاید افسانہ نگار،افسانے کے اس کردار میں کسی بڑی تبدیلی کا خواہاں ہے۔مگر۔۔۔میں اس تبدیلی کو سمجھنے سے ابھی قاصر ہوں۔‘‘

خود کلامی کی ایک اور مثال رسیم کے کردار سے ہی دیکھیے جہاں وہ اپنی زندگی میں محرومی کے شدید احساس سے دوچار ہے اور تنہائی کے کرب میں مبتلا ہے اور خود کو اس اذیت میں مبتلا کرکے ہی اسے سکون میسر آرہا تھا چنانچہ وہ خودکلامی کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار یوں کرتا ہے:

شب کی گہری چپ نے میری روح میں موجود سناٹے کو بھی مزید گہرا کردیاتھا۔ خاموشی اس قدر گہری تھی کہ اس طویل چپ کی سسکیاں باآسانی سنائی د ے رہی تھیں۔ میں رات کا لحاف اوڑھے خوابوں کو پھر سے سلانے کی کوشش کررہا تھا۔ روح کے قبرستان میں زندہ گور آرزوئیں جب کروٹ بدلتیں تو ان سسکیوں کا شو مزید بلند ہو جاتا۔پہلے پہل تو یہ سناٹا مجھے عجیب سے خوف میں مبتلا کر دیتا تھا لیکن اب مجھے اس سے انسیت سی محسوس ہونے لگی تھی،جیسے ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔میں اکتاہٹ کے اس مرحلے پر پہنچ چکا تھا،جہاں خود کو اذیت دیناسکو ن کا باعث تھا۔‘‘

(ناول’’دھندلے عکس‘‘)

اس ناول میں فلیش بیک کی تیکنیک کا بھی بڑا خوبصورت استعمال کیا گیا ہے۔ناول کا کردار نایاب جب اپنی محبت می

نا کام ہوتی ہے تو وہ مایوس اور ناامید ہوجاتی ہے اوربیماری کے عا لم میں اپنے خوشگوار ماضی کی یادوں میں کھو جاتی ہے جب دادی باغیچے  اس کے نئے پودے لگانے  کے بعد پھولوں اور پودوں کے ساتھ خوب چہکتے دیکھتیں تو اس کی خوشی سے جہاں مسکراتی ہے تو وہیں ان کے دل میں اندیشے و وسوسے بھی پیدا ہونے لگتے ہیں اور وہ نایاب کو اتنا زیادہ ہنسنے سے منع کرتی ہیں اور اس کی وجہ دریافت کرنے لگتی ہیں ا س موقع پر کرن عباس نے دادی اور پوتی کے مکالموں کے ذریعے فلیش بیک کی تکنیک کا خوبصورت استعمال کیا ہے۔مثال دیکھیے:

’’نایاب میری بچی!!اتنا نہیں ہنستے،اتنا نہیں خوش نہیں ہوتے۔آخر اتنی خوشی کس بات کی ہے؟‘‘دادی جان!میری پیاری داد جان۔۔۔!!۔یہ اتنے سارے پودے،جو میں نے لگائے ہیں،کچھ ہی دن میں پھل پھول جائیں گے۔پھر یہاں رنگ برنگی تتلیاں آئیں گی۔کتنے سارے پرندے آئیں گے۔سفید رنگ کی پریا ں بھی اتریں گی اور یہاں بیٹھ کر میں نظمیں لکھوں گی۔پھر میری نظمیں شائع ہوں گی۔ساری دنیا آپ کی نایاب کو سراہے گی دادی جان۔‘‘اللہ تمہیںہمیشہ ایسا ہی رکھے میری بچی۔۔۔بہار کے اولین دن تھے۔وہ اپنے اسی چھوٹے سے باغیچے میں بیٹھی ماضی کی حسین یادوں میںکھوئی ہوئی تھی،مگر ہر حسین یاد کسی نشتر کی طرح دل میں پیوست ہورہی تھی۔وہ پودے اب پھل پھول چکے تھے۔رنگ برنگی تتلیاں بھی اسی طرح اُتر آتی تھیں،جیسے کبھی نایاب نے تصوّر کیا تھا۔ پرندے بھی اپنے چہچاہٹ سے اس چھوٹے سے باغیچے کی رونق بڑھا نے کی کوشش کرتے۔ نایاب کی وہ تصوّراتی دنیاجو اس وقت موجود نہیں تھی، اب موجود تھی ،البتہ جو کچھ وہاں اس وقت موجود تھا،اب نہیں تھا۔اس کی پیاری دادی وہ خود بھی تو وہ نہیں رہی تھی،جو وہ اُس وقت تھی۔اس کی نہ وہ بے ریا ہنسی تھی،نہ وہ قہقہے۔اب تو بس یہاں غم برستے تھے۔‘‘

اقتباس قدرے طویل ہوگیا ہے لیکن فلیش بیک تکنیک کو ناول نگار نے جس خوبی سے بیان کیا ہے اس کی وضاحت کے لئے پورا قتباس دینا لازمی تھا۔غرض انھوں اس ناول میں فلیش بیک تکنیک کا بڑا اچھا استعمال کیا ہے اور کرداروں کی

زندگی میں آئی تبدیلیوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

کرن عباس نے اپنے ناول’’دھندلے عکس‘‘ میں،ڈائری کی تکنیک،خط کی تکنیک،فون کی تکنیک اورشعور کی ر و کی تکنیک کا عمدہ استعمال کیا ہے۔یہاں ایک مثال ڈائری کی تکنیک سے دیکھیے جس میں رسیم اپنی محبوبہ سے مخاطب ہوکر اپنے خیالات کا اظہار  کرتا ہے اور اپنی مصوری کا سارا کریڈٹ اپنی معشوقہ کو دیتا ہے۔مثلاً وہ لکھتا ہے:

’’تمہارے نام

رات کے بارہ بج چکے ہیں۔ایک نئی تاریخ کا آغاز ہوچکا ہے۔میں ہر سمت سے اندھیروں میں گھِرا ہوا ہوں۔بڑھتی تاریکی کے پنجے مجھے جکڑنے کی پوری کوشش کررہے ہیں،لیکن یہ کیا،شب کی پھیلی تاریکی میرے وجود میںموجود دشت کی تاریکی سے خوف زدہ ہوچکی ہے۔اندھیرے ہمیشہ روشنیوں سے خوف زدہ ہی رہتے ہیں،مگر میرے وجود کی تاریکی انھیں مسلسل کسی کرب میں مبتلا کررہی ہے۔آہ!۔۔۔۔۔۔۔۔

میری روح اور دماغ میں ہمہ وقت اضطراب کے طوفان برپا رہتے ہیں۔دماغ خیالات کے شور میں گھرا رہتا ہے،تو روح دن رات اپنی بر بادی پہ ماتم کُناں۔ ہاں،مگر دل درد کی آماج گاہ ہوکر بھی ہونٹوں کی چپ کی طرح بہت پر سکون ہے۔میں ایک مصور ہوں،مگر آج کے دن کوئی شاہ کار تخلیق کرنے کے بجائے ڈائری پر چند الفاظ لکھ کر تمہارے نام کرنا چاہتا ہوںیہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ الفاظ کبھی تم تک نہیں پہنچ سکیں گے۔‘‘

کرن عباس نے ڈائری کی تکنیک کے ساتھ ساتھ خط کی تکنیک کا استعمال بھی بڑی عمدگی سے کیا ہے۔اس ناول کے کردار نایاب رسیم سے محبت کرتی ہے لیکن رسیم نایاب سے محبت کے اظہار سے کتراتا ہے کیوںکہ وہ خوف زدہ ہے کہ شادی کے بعد نایاب بھی اس سے خوش نہیں رہ پائے گی کیوں کہ وہ رنگوں سے محبت کرتا ہے مصوری ہی اس کی زندگی ہے اور اپنے فن کے علاوہ وہ کسی میں آسودگی نہیں محسوس کرتااور اسی کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا ہے۔اسی بات کو وہ خط کے ذریعے نایاب کو سمجھانے کی کوشش کرتاہے۔اسی موقع پر مصنفہ نے خط کی تکنیک کا بہترین استعمال کیا ہے۔مثلاًرسیم کا خط ملاحظہ کریں جہاں وہ نایاب سے مخاطب ہے:

’’۔۔۔میرا یہ خط بھی تاریخ میں امر ہوگا اور وجہ تم ہوگی۔تم ایک ذریعہ ہو،مجھے فن کی منزلوںپہ پہنچانے کا یا پھر خالق سے ملوانے کا۔مگر یاد رکھنا میری سوچیں میرے دائرہ اختیار میں ہیں۔میں تمہاری دنیا کے لوگوں کی طرح سوچ کی قید جھیلنے کا قائل نہیں،نہ ہی میری منزلیں محدود ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری مانو،تو مجھے اپنی منزل نہ بنانا۔میں تو ایک درویش کی مانند ہوں،جس کا کوئی ٹھکانا ہے،نہ کوئی راہ۔مجھے اپنی سوچ بھی نہ بنانا۔ورنہ تم ایک بے کراں سمندر کے نہ ختم ہونے والے گرداب میں ہمیشہ کے لیے قید ہوجائو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے میری مصوری سے نہ پرکھنا۔ وہ تو رنگوں کا ایک حسین کھیل ہے،جسے دیکھتے ہی آنکھیں خوشی اور ستائش سے بھر جاتی ہیں۔میں تو ایک پیچیدہ معمّا ہوں،جسے حل کرتے کرتے میں فن کار بن چکا ہوںمگر اپنا بھید مجھ پہ بھی عیاں نہیں ہوا،تو تم یا کوئی اور اُسے کیا سمجھے گا۔تم اپنی دنیا کی کام اب ترین انسان سہی،مگر جب مجھ تک پہنچوگی تو سوائے ناکامی کے کچھ تمہارے ہاتھ نہیں آئے گا۔تمہارا ذہن سوالات کے اخطبوط می ہمیشہ کے لیے قید ہو جائے گااور تمہیں پھر مجھ سے کوئی دل چسپی نہیں رہے گی۔تم بس اپنی رہائی کے جتن کیا کرو گی۔

                                                                                                    تمہارا خیر خواہ،

                                                                                                    رسیم ۔

کرن عباس ایک کامیاب ناول نگار بننے کی پوری کوشش کرتی نظرآتی ہیں۔انھوں نے نہ صرف ناول کے فن پر گرفت کرنے کی مکمل اور کامیاب کوشش کی ہے بلکہ وہ ناول کی تکنیک پر بھی کامیابی سے دسترس رکھتی نظر آتی ہیں۔انھوں نے اپنے ناول میں خط کی تکنیک کا جگہ جگہ بڑی خوبی سے استعمال کیا ہے اور اس تکنیک کے ذریعے کرداروں کی نفسیات و جذبات واحساسات کو سمجھانے کی بھر پور کوشش کی ہے اور اس طرح وہ قاری کی توجہ کو گرفت میں رکھنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔

کرن عباس نے شعورکی رو کی تکنیک کا استعمال بھی بڑی عمدگی سے کیاہے اس تکنیک میں وقت کی کوئی قید نہیں رہتی۔ ادیب اس میں ایسے واقعات بیان کرتا ہے جس میں ماضی حال اور مستقل کا سفر دکھایا جاتا ہے۔

اس ناول میں غادہ کی کہانی اور رسیم کی کہانی میں بھی کئی سالوں کا فاصلہ ہے لیکن دونوںکاسفر ایک ہی اوردونوں کی ایک ہی منزل ہے۔دونوں ہی کے جذبات و احساسات یکساں ہے دونوں ہی کسی انجانے درد میں مبتلا ہے دونوں ہی کو کسی کی تلاش ہے دو نوں اپنے وقت اور حالات سے نا خوش ہیں دونوں ہی آسودگی کے متلاشی ہیں۔مثلاًغادہ جو ملک شام کے شہر تدمر(پالمیرا) کی رہنے والی لڑکی ہے جو نہایت حسین و جمیل ہے وہ ایک اچھیمصور ہے۔ وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کسی انجانی آرزو کے پورے ہونے کی خواہش رکھتی ہے۔وہ ایک پر اسرار شخصیت کی مالک ہے اور جس وقت اس پر یہ کیفیت طاری ہوتی ہے وہ بہترین تخلیقات تیار کرتی ہے، لیکن وہ اپنے زمانے اور وقت سے مطمئن نہیں ہے۔وہ خود کو کسی اور زمانے کی پیداوار سمجھتی ہے۔غادہ کے انہی خیالات کی ترجمانی کے لیے کرن عباس نے شعور کی رو کی تکنیک کا استعما ل کیا ہے۔ چنانچہ غادہ اور اس کی ماں کے مکالموں کی صورت مصنفہ نے ا س تکنیک کا خوب استعمال کیا ہے۔مثلاً:

یہ تم کیا ہر وقت گم صُم سی بیٹھی رہتی ہو،میری بیٹی۔۔۔کام کے علاوہ کچھ بات بھی کیا کرو۔‘‘گونگا شخص کیا بو ل سکتا ہے ماں؟‘‘ہائے میری بچی!کیسی باتیں کر رہی ہے،گونگے ہوں تیرے دشمن۔‘امّاں جان!بددُعا دشمن کو بھی نہیں دیتے۔‘‘اُس نے اداسی سے کہا۔’’پھر کیوں اپنے بارے میں ایسا کہتی ہو تم؟’’جو اپنے اندر کی دنیاکے حالات کسی سے بیان کرنے کے قابل نہ ہو۔جو اپنے احساسات و جذبات کو زبان نہ دے پائے،وہ گونگا ہی تو ہے ماں۔‘‘’’میری بچی! جانے کیوں مجھے لگتا ہے، تجھ پہ کسی آسیب کا سایہ ہوگیا ہے، تب ہی تم ایسے گم سم رہتی ہواور باتیں بھی کیسی بہکی بہکی کررہی ہو۔۔۔‘‘’’میں وقت کے کسی اور زمانے سے تعلق رکھتی ہوں ماں۔میں غلط جگہ،غلط زمانے میں آچکی ہوں۔‘‘ وہ صرف سوچ کر رہ گئی اگر اظہار کرتی تو اس کی ماںکا،اس پہ کسی آسیب کا سایہ ہونے کا شک یقین میں بد ل جاتا۔‘‘ 

یہ غادہ کے خیالات تھے۔رسیم بھی غادہ ہی کی طرح سوچوں کے سمندر میں غوطے لگاتا ہے۔وہ غادہ سے ملاقات کا

متمنی ہے جو برسوں پہلے ہی جسم کی قید سے آزاد ہوچکی ہے لیکن وہ روح کے ملن کو ہی اپنی منزل سمجھتا ہے۔رسیم کے خیالات کو پیش کرتے وقت انھوں نے شعور کی رو کی تکنیک کا بڑی عمدگی سے استعمال کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

’’یوں لگ رہاتھا،وقت کی گردش ماہ و سال کی قید سے آزاد ہوچکی ہے۔اگرچہ روحیں زمانے کی قید سے آزاد ہوتی ہیں،پھر بھی جسم کی قید روح کے گرد حصار کیے رکھتی ہے۔یہ حصار بہت کم زور ہوتا ہے،جو روحیں اس حصار کی اصلیت جان لیں،وہ جسم میں رہ کر لا متناہی منزلوں کی مسافر بن جاتی ہیں۔زمانہ ان کے لیے بے وقعت ہوجاتاہے۔یہ دو بچھڑی روحوں کے ملنے کا وقت تھا۔ایک روح کو اس ملاقات کے لیے موت جھیلنی پڑی تھی۔جسم کی قید سے مکمل رہائی حاصل کرنا پڑی تھی۔ طویل انتطار دیکھنا پڑا تھا اور دوسری روح کو پہلی کی کشش یہاں کھینچ لائی تھی۔‘‘

غرض کرن عباس نے شعور کی رو کی تکنیک کو اس ناول میں جگہ جگہ بڑی ہنر مندی سے استعمال کیا ہے۔جس سے کرداروں کے حالات اور نفسیاتی کیفیات کا بڑ ی فنی چابکدستی سے محاکمہ کیاگیاہے۔کرن عباس نے اپنے ناول میں کردارو ں کی ذہنی کشمش کو دور کرنے کے لیے حکایاتی و ملفوظاتی اسلوب سے بھی استفادہ کیا ہے۔یعنی کسی صوفی بزرگ کے دریعے کرداروں کو درس عرفان دیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ صوفیاا کثر اپنے تجربات اور مشاہدات کا بیان تقریرکی شکل کر کے اپنے مریدوں کو درس دیتے ہیں۔کرن عباس نے بھی اس ناول میں اسر ا کا  بابامحمد علی نامی صوفی بزرگ سے درس لینے کے ذریعے تصوف کی باتیں بتائیں ہیں اور ان مکالموں کی صورت راہ اللہ اور عرفان اللہ کا درس دیا ہے۔ یہاں مصنفہ نے ملفوظاتی اسلوب کی تکنیک سے کام لیا ہے۔مثلاًاقتباس دیکھیے:

’’وہ بابا محمد علی کے سامنے تشنہ روح لیے بیٹھی تھی۔اس کی طلب آخر اسے یہا ں لے ہی آہی تھی۔بلکہ لایا گیا،کہاجائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔

تمہار ی کوئی خواہش کوئی پریشانی نہیں؟‘‘سوال کیا گیا۔

جس حال میں رکھے خدا،اسی حال میں خو ش ہوں۔‘‘

تو پھر اس قدر بے چینی کیوں؟‘‘’’جس کشتی کی سمت متعین نہ ہو،وہ

ہوائوں کے سہارے ایسے ہی بھٹکتی رہتی ہے۔‘‘سمت متعین کیوں نہیں؟‘‘

’’انتظار ہے۔‘‘

’’کس بات کا؟‘‘

’’اس کے فیصلے کا۔‘‘

’’کہ وہ تمہاری کشتی کو خود کوئی راہ دکھادے؟‘‘

’’بالکل!‘‘

’’خدا کو دیکھا ہے کبھی؟

کئی بار۔‘‘

’’کیسا پایا؟‘‘

’’ہرروپ میں سراپا رحمت‘‘

’’آخری بار کب دیکھا تھا؟‘‘

’’ایک قدرتی آفت کے دوران جب دنیا اسے غصّے کے روپ میں دکھا رہی تھی اور وہ میرے سامنے ایک مجبور ماں کے روپ میں کھڑا تھا؟جو اپنے شریر بچوں کی باز پُرس پہ مجبور، ان کے پلٹنے کا انتظار کر رہی تھی۔‘‘

عبادت گزار اسے اپنی عبادت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں،تم نے ہر بار اُسے دل کی آنکھ سے دیکھا ہے۔عبادت کی آنکھ اسے ہر روپ میں پیش کرتی ہے اور دل کی آنکھ اسے صرف محبت کی صورت میں دکھاتی ہے۔‘‘

یہاں صوفی برزرگ کے درس ہی کی وجہ سے اسرا پر اللہ کی حقیقت عیاں ہوتی ہے اور اسے عرفان حاصل ہوتا ہے اور اس کی زندگی کی تشنگی اورادھوری آرزو کی تمنا کا سلسلہ ختم ہوتا ہے اور اب وہ خود کو تنہائی کے صحرا سے آزاد محسوس کرتی ہے اور اس طرح راہ ہدایت کے ذریعے کر ن عباس نے اسرا کی زندگی میں آئی تبدیلی کو پیش کیا ہے۔

غرض ناول ’’دھندلے عکس‘‘ اگرچہ کہ کرن عباس کا پہلا ناو ل ہے، لیکن ا ن کی تخلیقی صلاحیتوں اور زبان و بیان کی خویبوں کی وجہ سے ان کا ایک بہترین ناول ہے۔ ان کا انداز بیان عصر حاضر کے ادیبوں سے بالکل جدا گانہ اورمنفرد ہے۔و ہ نہ صرف موضوع کے اعتبار سے اس میں اپنیصلاحتیوں کے جوہر دکھاتی ہیں بلکہ مختلف تکنیکوں کے ذریعے بھی اپنے ناول

کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔انھوں عصر حاضر کے انسان کے کرب اور خود کی تلاش کے فلسفے کو بڑی خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے ساتھ ہی تکنیک کے تجربے بھی  کرتی دکھائی دیتی ہیں۔یقینا ان کا ناول ادبی دنیا میں ایک اضافے کی حیثیت رکھتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ زبان و بیان پر مکمل گرفت اور تکنیک و فن پر دسترس کی بدولت ناول ’’دھندلے عکس‘‘ مصنفہ کوادب میں اعلی مقام عطا کرنے کا ضامن بھی بنے گا۔

ڈاکٹر عرشیہ جبین

پروفیسر،شعبہ ٔ اردو

یونی ورسٹی آف حیدرآباد۔حیدرآباد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact