Friday, May 24
Shadow

کھاری پانی، تحریر: دانیال حسن چغتائی

دانیال حسن چغتائی
پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک گاؤں میں دو بھائی رہتے تھے ۔ بڑا بھائی تو امیر تھا لیکن چھوٹا بھائی کنگال تھا ۔ ایک دفعہ نئے سال کے دن جب کہ سارا شہر جشن کی تیاری کر رہا تھا ۔ اس چھوٹے بھائی کے گھر کھانے کو چاول نہ تھے ۔ وہ اپنے بڑے بھائی سے ایک سیر چاول ادھار مانگنے کے لئے گیا لیکن اس نے اسے ٹکا سا جواب دے دیا۔
جب وہ نا امید ہوکر واپس آ رہا تھا تو اسے راستے میں لکڑی کا بھاری گٹھا اُٹھائے ہوئے ایک بوڑھا ملا ۔
بوڑھے نے اس سے پوچھا: ” تم کہاں جا رہے ہو؟ معلوم ہوتا ہے تم کسی مصیبت میں پڑے ہوئے ہو؟
چھوٹے بھائی نے اسے اپنی مصیبت کی ساری کہانی سنا دی۔ بوڑھے نے اسے حوصلہ دلاتے ہوئے کہا. اگرتم لکڑی کے اس گٹھے کو میرے گھر تک پہنچا دوتو میں تمہیں ایک ایسی چیز دوں گا جس کی مدد سے تم مالا مال ہو جاؤ گے ۔
چھوٹا بھائی بہت رحم دل تھا۔ اس نے لکڑی کا گٹھا سر پر رکھ لیا اور بوڑھے کے پیچھے پیچھے چل دیا۔
گھر پہنچ کر بوڑھے نے اسے ایک مال پوا دیا اور کہا ، اس کو لے جا کر تم مندر کے پیچھے جو جنگل ہے، وہاں جاؤ۔  وہاں ایک بل ہے جس میں بہت سے بونے رہتے ہیں ان بونوں کو یہ مال پوے بہت پسند ہیں۔ وہ کسی بھی قیمت پر اسے حاصل کرنا چاہیں گے ۔
اس وقت اس کے بدلے میں تم دولت نہ مانگنا بلکہ پتھر کی ایک چکی مانگ لینا ۔ بعد میں تمہیں اس چکی کی کرامات معلوم ہو جائیں گی ۔
بوڑھے سے رخصت ہو کر چھوٹا بھائی اس جنگل میں آیا۔ مندر سے کچھ دور اسے ایک بل میں سے بہت سے بونے نکلتے اور اندر جاتے نظر آئے ۔ وہ ایک درخت کو کھینچ کر اپنے بل تک لے جانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ یہ ان کے لئے بہت مشکل کام تھا۔ چھوٹے بھائی نے کہا اچھا میں تمہارے لئے یہ درخت بل تک لے چلتا ہوں ۔ بل کے پاس آ کر اسے ایک مہین سی آواز سنائی دی، مجھے بچاؤ، میں مر جاؤں گا ۔یہ سن کر چھوٹے بھائی نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا۔ اس کے پاؤں کی انگلیوں کے بیچ میں ایک ننھا سا بونا بھینچا جا رہا تھا۔ اس نے اس ہونے کو جھٹ سے اٹھا لیا۔اصل میں یہ بونوں کا راجکمار تھا۔ بونوں کے راجکمار کی نظر جب مال پوے پر گئی تو وہ بولا ، مہربانی کر کے یہ مال پوا مجھے دے دیجئے، اس کے بدلے میں آپ کو بہت سے جواہرات دوں گا ۔ لیکن چھوٹے بھائی کو بوڑ ھے کی بات یاد تھی۔ اس نے مال پوے کے بدلے میں پتھر کی چکی مانگی ۔ آخر کار بونے راجکمار کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے راجہ نے چکی دینا منظور کر لیا۔ جب چکی لے کر چھوٹا بھائی چلنے لگا تو بونے راجہ نے کہا، دیکھو بھائی یہ ہمارے راج کی سب سے قیمتی چیز ہے۔ اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا، تم اس چکی کو داہنی طرف سے چکر دے کر جو چیز مانگو گے،  وہ اس میں سے نکلنی شروع ہو جائے گی اور جب تک اسے بائیں طرف سے چکر نہیں دو گے۔ وہ چیز بکتی ہی جائے گی ۔ چھوٹا بھائی پتھر کی چکی لے کر گھر آیا۔
اس کی بیوی اپنے شوہر کے انتظار میں بھوکی پیاسی بیٹھی ہوئی تھی ۔ شوہر کو خالی ہاتھ آتے دیکھ کر وہ
نا امید ہوئی ۔مگر چھوٹے بھائی نے آتے ہی کہا۔
جلدی سے فرش پر چٹائی بچھاؤ۔ چٹائی پر چکی رکھ کر چھوٹے بھائی نے اسے داہنی طرف سے گھما کر کہا ” چاول نکلو،  اب چاول نکلنا شروع ہوئے ۔ اس طرح اس کو جن جن چیزوں کی ضرورت تھی، وہ سب اس نے چکی سے حاصل
کر لیں۔
پھر اسے خیال آیا کہ تو میں امیر آدمی ہوں، مجھے تو عالیشان مکان میں رہنا چا ہیے۔اس لئے اس نے چکی کو گھما کر نیا مکان، اصطبل ، گودام غرض یہ کہ شان وشوکت کی سب چیزیں مانگ لیں ۔ پھر اس نے اپنے اڑوس پڑوس کے سب لوگوں کو دعوت دی ۔ اس لئے اس نے نئی امارت کا جشن خوب دھوم دھام سے منایا۔
یہ دیکھ کر بڑا بھائی سوچنے لگا کہ میرا چھوٹا بھائی ایک رات میں لکھ پتی کیوں کر اور کیسے بن گیا ؟ اس میں ضرور کوئی بھید ہے ۔ وہ چھپ کر دروازے کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ اس نے دیکھا کہ چھوٹا بھائی ایک چکی کو گھما کر مٹھائی کے ٹکڑوں کے ٹوکرے بھر رہا ہے اور انہیں مہمانوں کو دے رہا ہے ۔ بڑے بھائی نے ارادہ کرلیا کہ میں کسی نہ کسی طرح اس چکی کو ضرور حاصل کروں گا۔ رات کو جب سب سو رہے تھے تو وہ اپنے بھائی کے گھر عقب سے گھسا اور چکی اٹھا لایا۔ چکی کو لے کر وہ ایک کشتی میں سوار ہو گیا اور ارادہ کیا کہ کسی الگ جزیرے میں اسے لے جاؤں اور لکھ پتی ہو جاؤں ۔ ہوا ایسا کہ اپنی کشتی میں ضرورت کی اور سب چیزیں تو وہ لے آیا تھا،  مگر نمک لانا بھول گیا تھا۔ اس نے چکی چلا کر کہا ” نمک نکلو، نمک نکلو۔“
کہنے کی دیر تھی کہ چکی میں سے ڈھیروں نمک نکلنا شروع ہو گیا۔ بڑے بھائی کو چکی روکنے کا طریقہ معلوم نہیں تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نمک کے بوجھ سے بڑے بھائی کی کشتی سمندر میں ڈوب گئی ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ تب سے وہ چکی سمندر میں برابر چل رہی ہے اور اس کے نمک سے سمندر کا سارا پانی کھاری ہو رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact