Sunday, May 26
Shadow

اختیاری ہجرت کا کرب، نائلہ رفیق

ہم جو اپنے اپنے گاؤں سے نکل آئے ہیں، ہمارے گاؤں ہمارے اندر سے نہیں نکلتے۔ برسوں اینٹ پتھر کے بیچ رہ کر بھی ہم اپنے ہریالے اشجار میں جیتے رہتے ہیں۔ صبح آنکھ کھلتی ہے تو کتنی ہی دیر کان ان مانوس چہچہوں اور اللہ ہو کے منتظر رہتے ہیں جو ہماری صبحوں کے نقیب رہے۔

میں اپنے بچپن میں جہاں اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلاکرتی تھی وہ بہی دانہ کا ایک پیڑ تھا۔ جب بہار آتی تو سب سے پہلے اس پیڑ کے نیچے گھاس کا نہایت ملائم اور ایک منفرد سے ہرے رنگ کا قالین سا بچھ جاتا۔ بہار کے دن ان گنت ہوتے سفید سفید تتلیاں گھاس پہ کھلے رنگ برنگے پھولوں پہ یہاں وہاں ہر طرف اڑتیں۔ درخت نوخیز پتوں اور رنگ برنگے شگوفوں سے بھر جاتے۔

ہائے کیسے بتاؤں کہ دنیاکی سب سے مہنگی خوشبو کیکر کے پھولوں کی خوشبو سے اچھی نہیں ہو سکتی۔ وہ مہکتے سفید گچھے درختوں کو بھر دیتے اور عصر کے وقت انکی دھیمی مہک ساری کائنات کو بھر دیتی۔ اور وہ دریک کے جامنی پھولوں کے گلدستے۔ انکی خوشبو ۔۔۔ پاگل کر دینے والی خوشبو

selective focus photography of white flowers

وہ جنگلی طفیلیے۔۔۔ بیلوں کی صورت درختوں سے لپٹ جاتے اور ان کے گاڑھے ہرے رنگ کے پتوں کے بیچ نارنجی دانوں کی گچھیاں جھانک جھانک کر دیکھتی رہتیں۔

کوئی کہتا ہے کہ بہار آ گئی ہے تو دل ہمک ہمک کر بہی دانے کے قدموں میں بچھا وہ کائی جیسا قالین مانگتا ہے۔ نتھنے کیکر کے سفید فانوسوں کی مہک کے لیے تڑپ جاتے ہیں۔ نہ گھاس میں ٹنکے رنگ برنگ پھول ہیں نہ سفید تتلیوں کا دیوانہ وار رقص ہے۔گرمیوں کی لمبی دوپہریں کچ پکی خوبانیوں اور آلوچوں پہ ہاتھ صاف کرتے گزرتیں ۔ سیب کے درخت اپنے پھل کے بوجھ سے جھکے ہوتے اور ہم ان کے نیچے قسما قسمی کھیل کھیلا کرتے۔

برسات کے آتے ہی آلو بخارے آڑو اور سارے مقامی پھل ٹپا ٹپ نیچے گر جاتے۔ برسات نکلتے ہی مکئی کی فصل قد نکال لیتی۔ دادی کسی دن ڈھونڈ کر دانوں بھری چھلیاں لاتیں۔ موسم کے پہلے میوے ، پہلی فصل پہ دعا لازما” کی جاتی تھی۔ بس جونہی بھٹے کی دعا کی رسم پوری ہو جاتی ہم ہر شام امی کے آگ جلانے سے پہلے ہی اپنی اپنی چھلیاں لا کر چھیل کر بیٹھ جاتے۔ کوئی اندازے پہ دانوں بھری نکلتی کوئی دودھ والی نرم ‘دودھی’ ایسی چھلی سب سے چھوٹے بچے کو ملتی تاکہ چبا سکے اور پیٹ میں درد بھی نہ ہو۔ مکئی کی فصل کیساتھ اخروٹ بھی پک کر پھٹ جاتے جو جتنے ڈھونڈ پاتا اس کے ہوتے۔ میں کئی بار خواب دیکھتی کہ مجھے سینکڑوں اخروٹ ملے۔۔۔ اصل میں کبھی دس بھی نہ ملتے۔ پھر دادی ہی سب کو ڈھونڈ کے دیتیں۔ اس برس امی اور دادی کی قبر پہ سینکڑوں اخروٹ گرے ہوئے دیکھے کچھ گلہریوں نے کھا چھوڑے کچھ پورے مگر ایک بھی نہیں اٹھایا۔

سردیوں کے آتے ہی خشک کیے گئے میوے ، خشک کی گئی پھلیاں (فریش بینز) , اخروٹ , سینک کر سنبھالی گئی چھلیاں کیاکیا سوغاتیں نکل آتیں اور ہم کھڑکی کے شیشوں سے ناک لگائے برف کے گالوں پہ نظریں جما کر اڑتے جاتے اوپر اور اوپر اور اوپر جونہی نظر ذرا سی ہلتی کوئی پکارتا ارتکاز ٹوٹتا تو ہم زمین پہ آ جاتے۔۔۔۔

اب میں خبروں میں موسم بدلنے کے بارے میں سنتی ہوں۔ نہ کوئی خوشبو نہ خوشے نہ میوے نہ شگوفے۔۔ موسم کا پیامبر کوئی نہیں۔ بس روح کو جھلسانے والی گرمی ہے اور روح کو ٹھٹھرانے والی سردی ۔ ہم جنگوں میں در بدر نہیں ہوئے۔ ہم آئی ڈی پیز نہیں ہیں۔ ہم آدم و حوا کی طرح دانہ گندم کھا کر بھی جنت بدر نہ ہوئے ۔۔۔ ہم تو دانہ گندم کی تلاش میں اپنی جنتوں سے نکلے ہوئے بد نصیب ہیں۔ آدم کی جنت میں گندم تھی ہماری  جنت میں وہی ایک نہیں۔ کسی کی آئی آ جایے اس سرمایہ داری نظام کو  جس نے haves and have not  کا پھندہ بچھا کر ہمیں شکار کر لیا۔  سرمایہ دارانہ نظام کے چوہے دان میں جدید نظام تعلیم ماڈرن لائف سٹائل اور نجانے کس کس کے پر کشش ٹکڑے لگا کر ہمیں پھانس لیا۔

واپس اپنی جنت کو جاتے ہیں تو زندگی الٹ کر برسوں پیچھے چلی جاتی ہے۔ تن آسانی کا زہر نشہ بن کے رگوں میں دوڑ رہا ہے اب معلوم پڑا کہ کھیتوں میں مکئی خود بخود نہیں آ جاتی تھی۔ یہ پیڑ پودے ایک ترتیب سے خود ہی نہیں اگ آئے تھے۔ اب اگر جنت آباد کرنی ہے تو پہلے شداد بننا پڑے گا۔

ہر رات سونے سے پہلے یہ فیصلہ کرتی ہوں کہ لوٹ جاؤں گی۔ اپنے بچوں سے ان کی جنت کیوں چھینوں۔ انہیں بھی وہ سب جینے کا حق ہے جو میں نے جیا۔ ہر صبح ٹریفک کے شور اور الارم کی کان پھاڑتی آواز سے جاگ کر have nots  کے خانے سے نکل کر haves کے خانے میں جانے کے لیے اپنی روح گروی رکھ دیتی ہوں۔

جانے یہ جنگ کون جیتے گا یا شاید مجھ سے پہلے گزرنے والے ان گنت لوگوں کیطرح میں بھی ‘مجھے گاؤں لیجا کر دفنانا’ کہہ کر اپنی اولاد کو سرمایہ داری کی بھٹی کا ایندھن بنا کر چلی جاؤں گی۔

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے، جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے

جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے

وہ خواب تھے ہی چنبیلیوں سے، سو سب نے حاکم کی کر لی بیعت

پھر اک چنبیلی کی اوٹ میں سے ، جو سانپ نکلے تو لوگ سمجھے

وہ گاؤں کا اک ضعیف دہقاں، سڑک کے بننے پہ کیوں خفا تھا

جب ان کے بچے جو شہر جاکر کبھی نہ لوٹے تو لوگ سمجھے

(احمد سلمان​)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact