شہلہ کریم 

اصنافِ تحریر میں سے ایک صنف میں بھی ہوں میرا نام ” فیچر “ ہے۔ میں ماہرین لکھاریوں کا لاڈلا ہوں جو لکھاری جتنا اپنے فن میں ماہر ہوتا ہے اتنا ہی وہ میرے اصول و ضوابط کا پابند ہوتا ہے میری کئی اقسام ہیں۔ نام تو میرا فیچر ہے مگر میرے مختلف کردار ہیں جن کی وجہ سے مجھے مختلف القابات سے نوازا گیا ہے میں جب اکثر  ”قارئین اور عام لوگوں“ کی تربیت کے لیے لکھا جاتا ہوں تو لوگ مجھے،  ”تربیتی فیچر“ کہتے ہیں۔ اس طرح میں عوام کو کسی اہم ترین فن، کام اور چیز سے روشناس کرواتا ہوں۔ مثال کے طور پر ملکی و شہری دفاع سے متعلق ، ٹریفک قوانین کے بارے میں ، صحت کے اصولوں کے بارے میں ، بیماریوں سے آگاہی سے متعلق وغیرہ لے مجھے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب اخبارکی کسی خبر اور رپورٹ کو ادبی اور فنی رنگ دینا ہو تو بھی میں قارئین کے کام آتا ہوں  اس سلسلے میں مجھے ”نیوز فیچر“ کا نام دیا جاتا ہے۔ جس تحریر میں میں انسانی احساسات، جذبات اور نفسیات کو   بیان کرتا ہوں اور پھر اسی طرح قاری کی دلچسپی اور معلومات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ 

اسی طرح میرا ایک نام  ”سوانحی فیچر“ ہے۔ اس میں میرا کردار کسی فوت شدہ اہم اور مشہور شخصیت پر خاکہ نگاری کرنا ہے۔ اس میں قارئین مجھ پر محنت کر کے شخصیت کے کارناموں اور زندگی کے مختلف پہلوﺅں پر جامع روشنی ڈالی جاتی ہے ۔ کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے مخفی اور لوگوں سے پوشیدہ اچھے کاموں کو منظر عام پر لے کر آؤں۔ اسی لقب سے ایک ملتا جلتا لقب ”شخصی فیچر“ کہلایا جاتا ہوں۔“ اس میں میرا کردار کسی زندہ شخص کو بیان کرنا ہے ۔ اس میں قارئین کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ میں جس پر میں لکھا جائوں عموماً وہ اپنے فن کا ماہر ہو ۔ 

مثال کے طور پر ”ٹائر پنکچر شاپ“ پر کام کرنے والا ”شرفو نامی لڑکا“ اپنے کام کا ماہر ہو۔ اس کی عمر بمشکل دس بارہ سال ہو۔  پھرتی اور تیزی سے کام کرتا ہو اپنی مہارت سے دل موہ لیتا ہو، اور کہ لوگوں کو ٹپ کے طور پر اچھے خاصے پیسے دے کر جاتے ہوں تو  کبھی کسی فیچرنگار کی گاڑی پنکچر ہوجائے اور وہ اس ”پنکچر شاپ“ سے پنکچر لگوائے تو وہ یقینا اس بچے سے متاثر ہوکر اس کی کہانی لکھ دے تو وہ کہانی بھی میں ہی ہوں گا ، مگر عموماً ” مجھے “ کسی بڑی اور اہم شخصیت پر لکھا جاتا ہے۔ چھوٹوں موٹوں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔

سماجی، معاشرتی، معاشی اور اخلاقی موضوعات پر بھی میں ہی کام آتا ہوں جس کی وجہ سے مجھے بہت القابات دیے جاتے ہیں مثلاً  ”سماجی فیچر“، ”معاشرتی فیچر“، ”معاشی فیچر“ اور ”اخلاقی فیچر“ کہلاتے ہیں۔ اردو جرنلزم میں  میرے دو کردار”اخلاقی اور معاشرتی فیچر“ بہت مقبول ہیں، کیونکہ ان فیچروں میں میں معاشرے میں پھیلے مختلف موضوعات کا ذکر  پسند کرتا ہوں  ہے۔ میرے چاہنے والے جن کو لوگ  فیچر نگار کہتے ہیں معاشرے میں گھوم پھر کر اپنے گہرے مشاہدات، احساسات اور تجربات کا نچوڑ  اکثر میرے ذریعے  عوام کے سامنے پیش  کرتے ہیں   میری ایک بات یاد رکھیں کہ میری کوئی سی بھی قسم ہو، مگر  مجھے لکھنے والے ( فیچر نگار) کا ماہر ہونا ضروری ہے۔ اگر میرے لکھاری (فیچر نگار)  میں بنیادی صلاحیتیں نہ ہوں یا وہ اوصاف نہ ہوں جو ایک لکھاری ( فیچر نگار )کے لیے لازمی ہیں تو پھر وہ اپنے فرائض بخوبی سرانجام نہیں دے سکتا۔ کسی بھی فیچر نگار کے لیے ضروری ہے کہ مجھے لکھنے کی زبان و بیان پر عبور رکھتا ہو، کیونکہ مجھے سیدھے سادے انداز میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ میرے لیے فنکاری اور کلاکاری دکھانا ہوتی ہے۔

فیچر نگاری کی شرائظ  

  ایک فیچر ہونے کے ناطے میری کچھ  شرائط ہیں جن پر عمل درآمد کیا جائے تو میں اپنی درست حالت میں آ سکتا ہوں 

 میری  پہلی شرط میرے الفاظ ( فیچر کا )عام فہم اور دلچسپ ہونا ہے۔ اس کا انحصار میرے اسلوب، بے ساختگی، شستہ زبان پر ہے۔

دوسری شرط یہ ہے کہ  لکھاری (فیچر نگار) کا مطالعہ بے حد وسیع ہو۔ اچھی کتابوں اور رپورٹوں کا مطالعہ انسان کے ذہنی افق کو بھی وسیع کردیتا ہے۔ ذرہ سوچیے!

 اگر لکھاری (فیچرنگار )کا مطالعہ زیادہ نہیں ہوگا تو پھر وہ کس طرح  مجھ  میں مختلف چیزیں، الفاظ کا انبار اور علم کے موتی اکٹھے کرسکے گا۔ اسی طرح فیچر نگار میں تخلیقی صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے، اور تخلیقی صلاحیتوں کو مزید بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ مسلسل محنت، مطالعے اور مشق سے تحریر میں ذوق، دلکشی، روانی اور حسن پیدا کیا جاسکتا ہے۔ 

اگر مجھے لکھنے والے چاہتے ہیں کہ میں درست لکھا جاؤں تو میری بھی کچھ شرائط لازماً ماننی ہوں گی 

عمومی طور  فیچر نگار کی شخصیت متوازن ہو،

فیچر نگاراعتدال پسند ہو۔ 

فیچر نگارقومی اور ملکی تقاضوں کا شعور رکھتا ہو۔

فیچر نگار انٹرویو کے فن سے واقفیت رکھتا ہو، 

فیچر نگارتخلیقی اور فنی صلاحیت کا حامل ہو، 

فیچر نگارحالات جانتا ہو، 

اچھا رپورٹر ہو،

انسانی نفسیات کا مطالعہ رکھتا ہو،

فیچر نگارمختلف اندازِ فکر سے سوچنے اور دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، 

(10)جذبہ تجسس رکھتا ہو،

سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ عوام کی نفسیات کو جانتا ہو اور محنتی ہو۔ 

جو کام دیا جائے اس میں لیت و لعل سے کام نہ لیتا ہو،

اپنے اخبار کی پالیسیوں سے واقف ہو، کیونکہ  میری (فیچر) فطرت ہے جتنے  بھی عمدہ الفاظ سے لکھا جاؤں اگر لکھاری کے الفاظ  اخبار کی پالیسی کو مدنظر رکھ کر نہیں لکھے گئے  تو میں( فیچر) اخبار کی زینت نہیں بن سکوں گا۔ اخبار کی پالیسیوں سے، اخبار کے ایڈیٹر کے مزاج سے لاعلمی کسی بھی فیچر نگار کی ناکامی کا سبب بن سکتی ہے، چنانچہ جس اخبار کے لیے فیچر لکھا جارہا ہے، اس کی پالیسیوں کو جاننا اور اس اخبار کے ایڈیٹر کے مزاج سے واقف ہونا نہایت ہی ضروری ہوتا ہے۔ اچھا فیچر نگار کی ایک صلاحیت یہ بھی ہے کہ مجھے(فیچر) لکھنے سے پہلے  لکھنے سے پہلے (فیچر) میرے موضوع پر اپنے ایڈیٹر یا صفحے کے انچار چ سے مشورہ کرلیتا ہے۔

اخبارات خصوصاً میگزینوں میں فیچر کی اہمیت مسلّم ہے۔ فیچر کو صحافت کی ایک بڑی، مضبوط اور توانا قسم شمار کیا جاتا ہے۔ تمام بڑے اخبارات میں روزانہ اور ان کے سنڈے میگزینوں میں ہفتہ وار کئی کئی فیچر شائع ہوتے ہیں۔ فیچر کی اہمیت کی ایک وجہ قارئین کی نفسیات بھی ہیں۔ اکثر قارئین اور عوام بوجھل، خشک، مشکل، بوگس…. وغیرہ تحریروں کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ چٹ پٹی خبریں اور فیچر نما تحریریں پسند کرتے ہیں، چنانچہ اخبار مالکان، ایڈیٹران اور منتظمین کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اخبار میں عوام کی دلچسپی کی چیزیں لازمی طور پر شامل ہوں۔ دلچسپ اور معلو ماتی چیزوں میں فیچرز بھی آتے ہیں، کیونکہ فیچر کے معنی ہی کسی چیز کے نمایاں نقوش، شکل و صورت، وضع قطع، خدوخال اور چہرے مہرے کے ہیں۔ جرنلزم میں فیچر کا مطلب اور مفہوم کسی واقعے اور معاملے کی ایسی لفظی تصویر پیش کرنا ہے جس میں کسی حقیقت اور کیفیت کا اظہار ڈرامائی، افسانوی اور خوبصورت انداز میں کیا گیا ہو۔

(فیچر ) میری  تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ خود صحافت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ”اردو صحافت“ میں میرا نام (فیچر) کا لفظ انگلش سے آیا ہے۔ پھر  میں رفتہ رفتہ مقبول سے مقبول تر ہوتا چلا گیا۔ اب میں اتنا مقبول ہوا کوئی اہم اخبار  میرے نام  سے خالی نہیں ہوتا۔  میری  اہمیت میری تاریخ،  میری اقسام کے بعد اب میں اپنے  عناصر، لوازم اور ساخت کے بارے میں بھی مختصراً بتاؤں گا۔  میرے مختلف حصے ہوتے ہیں۔ ہر حصے کے کچھ فنی تقاضے ہوتے ہیں۔ ان کو پورا کرنا یا ان کے قریب قریب رہ کر لکھنا ہوتا ہے، مثلاً 

میرے پہلے حصے کو ابتدائیہ اور ”انٹرو

  “کہا جاتا ہے۔  یہ حصہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔  ابتدائیے میں اصل بات اور بنیادی چیز اس کا پرکشش، دلکش اور جاذب نظر ہونا ضروری ہے۔ ابتدائیہ اچھا، انوکھا اور اچھوتا ہونا چاہیے۔ غیرروایتی ابتدائیے کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اسی لیے کوئی شعر بھی ہونا چاہیے یا پھر کوئی حکایت ، کوئی واقعہ  اور کوئی کہاوت ، کوئی چونکا دینے والا لفظ  اور کوئی سوال بھی، کوئی ڈرامائی انداز بھی  اور کوئی علامتی بیان بھی مثلاً کچھ ایسا جملہ جو جاذب نظر ہونا چاہئیے…. اس کے لیے کوئی خاص یا مقرر اصول و قاعدہ نہیں ہے۔

فیچر ہونے کے ناطے میرا عمدہ انٹرو ۔

 اسے قرار دیا جاتا ہے جس میں انسانی نفسیات، احساسات اور جذبات کو اپیل  دینے والاکوئی عنصر پایا جاتا ہو۔

  اچھے اور ماہر فیچر نگار میرے بارے میں رائے عامہ ہے کہ دوسرے حصے میں جس موضوع پر فیچر لکھا جارہا ہے، اس کا تعارف، پس منظر، پیش منظر وغیرہ ذکر کرنے کے بعد اپنی تحقیق، اعدادو شمار اور حقائق کو ہلکے پھلے انداز میں بیان کرنا ہوتا ہے۔ اس دوسرے حصے میں ہی فیچر کے پورے مسئلے کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ اس کو بیان کرنے کے لیے مکالمہ، حکایتی، واقعاتی، کہانی، خاکہ، ڈرامہ…. کوئی بھی طریقہ اور اسلوب اختیار کرسکتے ہیں، اس پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ فیچر کے تیسرے حصے میں فیچر کے موضوع پر دلائل دے کر اپنا مدعا ثابت کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے، جبکہ فیچر کے آخری حصے میں فیچر کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے فیچر کوا ختتام اور ”وائنڈ اپ“کی طرف اس طرح لے جایا جاتا ہے کہ پڑھنے والا اس سے کوئی سبق حاصل کرے۔ قاری کے ذہن پر غیرمحسوس طریقے سے ایک اچھا تاثر چھوڑا جاتا ہے۔

قارئین! یہ تھا میرا پرانا طرظ زندگی اور میں تھا پرانے زمانے کا فیچراور فیچر نگاری کا قدرے قدیم طریقہ کار، آج کے فیچر پر ایک نظر    کیونکہ دور جدید آ گیا ہے  فیچر کے انداز بدل چکے ہیں۔ جرنلزم کی دنیا میں اس کا مفہوم بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ دیکھیں! اخبار کے ”نیوز سیکشن“ میں فیچر کا مفہوم کچھ اور ہوتا ہے۔ ”میگزین ڈیپارٹمنٹ“ میں فیچر کا مطلب دوسرا ہوتا ہے۔ میگزین کے شعبے میں فیچر کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ تحریر کو ڈرامائی، افسانوی، معلوماتی اور دلچسپ انداز میں لکھا جائے، تاکہ قارئین کو دلچسپی کے ساتھ ساتھ مدعا بھی سمجھ میں آجائے اور مفید معلومات بھی حاصل ہوجائیں، جبکہ اخبار کے ”نیوز سیکشن“ فیچر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خبر کو مرچ مسالہ لگاکر تجزیے کے انداز میں لکھا جائے تاکہ خبر میں قارئین کی دلچسپی کا عنصر بڑھ جائے۔ 

فی زمانہ بہت سے کالم نگاروں نے اپنے کالموں کو ”فیچر نما“ بنالیا ہے۔ ”مضمون کے نام پر“ چھپنے والی تحریروں میں سب ہی ”اصنافِ تحریر“ چلتی ہیں۔ کالم، مضمون، سفرنامہ، سوانح، خاکہ، تبصرہ، رپوتاژ، مکالمہ اور فیچر سب ایک دوسرے میں خلط ملط ہوتے جارہے ہیں۔ جس رائٹر اور مضمون نویس کے ذہن میں جو آتا ہے لکھتا چلا جارہا ہے، اور اس کو ”صحافت کا ارتقا“ کا نام دیا جارہا ہے۔ مضمون کے انداز میں فیچر اور فیچر کے اسلوب میں مضامین لکھے جارہے ہیں۔ ”کالم اور کالم نما“، ”فیچر اور فیچر نما“، ”مضمون اور مضمون نما“، ”مکالمہ اور مکالمہ نما“، ”کہانی اور کہانی نما“، ”خاکہ اور خاکہ نما“…. جیسے عنوان اور ٹائٹل دیے جارہے ہیں۔

آج کی تیز رفتار دنیا کی جدید ترین صحافت میں سب چلتا ہے۔  پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ جو لکھ سکتے ہیں، جس انداز میں طبع آزمائی کرسکتے ہیں، کریں۔ صحافت کے میدان کے نوواردوں کو چاہیے کہ وہ مطالعہ، مشاہدہ اور محنت سے جو دل میں آتا ہے لکھیں، اور بس لکھیں کسی بھی انداز، اسلوب اور طریقے سے لکھیں۔ لکھنے والے کو سب کچھ مل جاتا ہے اور کاہل اور کام چور کو کچھ بھی نہیں حاصل ہوتا رائٹرز سے مؤدبانہ گزارش ہے کوشش کیجئے مجھے( فیچر کو) توجہ دیں اور بدلے میں زمانے کی توجہ حاصل کریں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact