تحریر  و تصویر : عنیزہ عزیر
 یہ دیوار، جس نے نہ جانے کتنی کہانیاں سنی، کتنی خوشیوں بھرے لمحات دیکھے اور نہ جانے کتنی دکھ بھری داستانیں اپنے اندر سموئیں۔ سرد بارش میں تیز ہواؤں کے تھپیڑے، سلگتی گرمی میں کَڑی دھوپ اور زمانے کی تمام سختیاں خود پر جھیلتی، دوسروں کے لئے سائبان بنی یہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔
زمانے کے بہت سے راز سموۓ اس دیوار کو میں روز تکتی ہوں تو یہ سوچتی ہوں کہ اس میں اور ہم عورتوں میں کتنی مماثلت ہے۔ بالکل اسی دیوار کی مانند ایک عورت بھی زندگی کے بہت سے راز اپنے اندر سموۓ رکھتی ہے۔ دھوپ ہو یا چھاؤں اپنے فرائض پورے کرتے کرتے اپنی عمر بسر کر دیتی ہے۔
زمانے کی سختیاں جھیلتی عورت کبھی اپنے لبوں سے کچھ نہیں بولتی اور پھر جس طرح یہ دیواریں، جب زمانے کے تغیرات کی تاب لاتے لاتے اندر سے کمزور پڑ جاتی ہیں اور کسی دن اچانک سے ڈھے جاتی ہیں۔ اسی طرح، عورت بھی دن رات سب کچھ اپنی ذات پر سہتی ایک دن ڈھے جاتی ہے۔ لیکن ان دیواروں اور عورتوں میں اک معمولی سا فرق بھی ہے اور وہ فرق بس اتنا ہے کہ یہ دیواریں جب ڈھے جاتی ہیں تو ان کی تعمیر نو ہو جاتی ہے لیکن عورت، عورت ایک دفعہ ڈھے جاۓ تو مٹی ہی اس کا مقدر بنتی ہے۔ اُن کے جانے کے بعد کوئی لاکھ اُن کے لوٹ آنے کی تمنا کرے لیکن وہ لوٹ کر نہیں آتیں اور اپنے پیچھے اَن مِٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact