حفصہ محمد فیصل

بطور لکھاری راستوں میں اس طرح کی وال چوکنگ دیکھ کر کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ یہ بابے اور عامل وغیرہ کیسی پہنچی ہوئی چیز ہیں، ہم بھی جا کر اپنی قسمت ازمائی کر ہی لیں۔
دیوار کوڑے کے ڈھیر کی ہو، کسی میدان کی  ہو یا کسی پارکنگ ایریا کی۔ ہر جگہ ہی ان کے کارناموں اور صلاحیتوں کے جھنڈے گاڑھے بلکہ لکھے نظر آتے ہیں۔ ویسے اگر ہر تمنا  انہی سے پوری ہو سکتی ہے یعنی؛ محبوب قدموں میں بھی آسکتا ہے، روزی کا مسئلہ ہو یا بیوی بچوں کی پریشانی ہو ہر مسئلے کا حل بابا بنگالی اور عامل چوپالی سے ہی مل جاتا ہے۔
 سوچنے کی بات ہے، واقعی لوگ ان کے پاس جاتے ہیں؟
 موبائل نمبر کے ساتھ رابطے کے سارے انتظامات بھی میسر ہوتے ہیں۔ ایسی ضعیف الاعتقادی والے لوگ پوری دنیا ہی میں پائے جاتے ہیں لیکن ہمارے دیس کی تو بات ہی نرالی ہے۔ یہاں تو ویسے بھی گنگا ہی الٹی بہتی ہے۔ لوگ ایسی چیزوں کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ جبھی تو ایسے لوگ ہمارے نفسیات سے کھیلتے ہیں اور اب اس شعبے کو جسے میں “دھوکہ دہی اور فریب کاری” کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتی، ناقص العقل لوگ ان کے پاس جا کر اپنی مشکلیں کا حل تلاش کر رہے ہیں اور وہ لوگ ان سے عملیات کے نام پر پیسہ بٹورتے ہیں ساتھ ہی ان کے ایمان سے بھی کھیل رہے ہیں۔ الامان الحفیظ کیسی منطق ہے لوگوں کی!
 حالانکہ مشکل کشا تو ہماری شہہ رگ سے بھی قریب ہے۔ فقط ایک پکار کی ضرورت ہے۔ بلکہ کبھی کبھی تو وہ پکارے بغیر ہی عطا کر دیتا ہے۔
 ایک فریاد عرش ہلا دیتی ہے۔ شرط صرف اخلاص اور صحیح الاعتقادی کی ہے۔

Leave a Reply

Discover more from Press for Peace Publications

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact