Sunday, May 26
Shadow

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

عمار حسین ایڈووکیٹ
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے کہا تھا اللہ تو قادر و عادل ہے، مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات اور حقیقت بھی یہی ہے۔ اسے معاشی تنگ دستی سمجھ لیں یا بے روز گاری، پاکستان میں بہت سے لوگ ایسے کام کرنے پر مجبور ہیں، جن کے ذریعے اُن کی روزی روٹی پوری ہوتی ہے اور نہ ہی وہ اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کر سکتے ہیں ۔
روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے مزدور بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں۔
یہ روزانہ نئی امید کے ساتھ اپنی مقررہ جگہ پر کام کی تلاش میں آتے ہیں، کبھی امید بر آتی ہے تو کبھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ کام تو دوسروں سے زیادہ کرتے ہیں، مگر معاوضہ دوسروں سے کم ملتا ہے۔ سب کے اوقات کار مقرر ہوتے ہیں ، مگر ان دیہاڑی دار مزدوروں کے کوئی اوقات کار نہیں ۔ کام پر آنے کا وقت تو مقرر ہے، جانے کا کوئی نہیں ۔
یہ بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات اور تعلیم کے اخراجات بھی پورے نہیں کر پاتے ،مگر کیا کریں ، کوئی اور کام ملتا نہیں، اس وجہ سے یہ کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ شدید سردی میں جب لوگ گرم بستروں میں نیند کے مزے لے رہے ہوتے ہیں، یہ تلاش معاش میں مصروف ہوتے ہیں ، بیماری کی حالت میں بھی کام پر آنا پڑتا ہے ، مگر اس کے باوجود انکے مسائل کے حل پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔
دیہاڑی دار مزدور ہمیں مختلف کاموں میں سہولت دیتے ہیں ، مگر خود انتہائی کسمپرسی کا شکار ہیں۔ ان کے بارے میں ہمیں اجتماعی طور پر سوچنا ہوگا ، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اور یہ لوگ اپنی بے بسی کے ہاتھوں اپنا وجود ہی کھو بیٹھیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact