Friday, May 24
Shadow

اے طائر لا ہوتی۔ ادیبہ انور۔ یونان

ادیبہ انور۔ یونان
مجید:-”موقع کی نزاکت کو سمجھا کر۔
چل چلتے ہیں ناں.
اپنی بیوی سے بھی بول۔ تیار ہو جائے۔“
اکرم:- ”نہیں بھائی میں نہیں جاؤں گا۔“
”دیکھا نہیں تھا؟
کتنی باتیں سنا کر گئی تھی اس دن.“
مجید:-”چل کوئی بات نہیں۔
بہن ہے تیری.تو بھی تو اوکھا بولا تھا۔“
اکرم:-”وہ ہر بار طعنےدے کر جاتی ہے. تواوکھا نہ بولوں؟“
مجید۔ ”بس جائیداد کا کام نپٹ جائے۔
”پھر تم بھی اپنی باری اتار لینا۔“
”بس آج معافی مانگ لے۔“
”نا بھائی۔ مجھے نہیں چاہیے اس کا حصہ۔“
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس  رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact