Tuesday, May 28
Shadow

آزادکشمیر

آزادکشمیر کے جنگلات کیوں کم ہورہے ہیں؟

آزادکشمیر کے جنگلات کیوں کم ہورہے ہیں؟

آرٹیکل, آزادکشمیر
تحریر : مظہر اقبال مظہر ، لندن گلوبل فاریسٹ واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ گیارہ برسوں میں آزاد کشمیر کے جنگلات کا تقریباً چار ہزار دو سو ایکڑ رقبہ کم ہوگیا ہے۔ جب آزاد جموں و کشمیر کی پہلی حکومت بنی تو جنگلات کا کُل رقبہ 32 فیصد تھا۔آج یہ رقبہ سُکڑ کر 15 فیصد رہ گیا ہے۔ آزادکشمیر میں جنگلات کے تحفظ کا قانون اتنا ہی پرانا ہے جتنی آزادکشمیر کی اپنی عمر ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ ایند ایگریکلچر آرگنائزیشن کی آرکایئوز میں آزادریاست جموں وکشمیر کا 1948 کا ایک قانون ٹِمبر پروٹیکش ایکٹ محفوظ ہے جس کا مقصد آزاد کشمیر کی حدود میں لکڑی کی سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ جہاد ِ آزادی کے زمانے میں اس قسم کے قوانین کا پاس ہونا اس وقت کے سماجی ڈھانچے ، جرائم کی نوعیت اور حکومت وقت کی دلچسپیوں کے حوالے سے ایک علیٰحدہ بحث کو جنم دیتا ہے جسے ہم کسی اور وقت کے لیے اٹھا لیتے ہیں۔ مذکورہ بالا قانون...
حویلی آزاد کشمیر گم گشتہ جنت

حویلی آزاد کشمیر گم گشتہ جنت

آثارِقدیمہ, آزادکشمیر, تحقیق, سیر وسیاحت
حویلی ریاست پونچھ کی ایک زرخیز اور مردم خیز تحصیل تھی ۔ریاست پونچھ کا صدر مقام شہر پونچھ تحصیل حویلی کی حدو دمیں واقع تھا۔ جہاں راجگان پونچھ کی عالیشان رہائش گاہیں ،موتی محل ، میاں نظام الدین ، وزیر اعظم پونچھ کی حویلی ۔ مہتمم بندوبست پونچھ جو ایک انگریز تھا کا دفتر۔پیر حسام الدین گیلانی کا حسام منزل، جعفری بلڈنگ وغیرہ تاریخی اور قابل دید جگہیں تھیں۔ 1947میں پونچھ شہر ہندوستان کے قبضہ میں چلا گیا تا ہم حد متارکہ پر موجودہ ضلع حویلی میں دیگوار تیڑواں سے لے کر خواجہ بانڈی اور ہلاں سے لے کر محمود گلی تک بہت سارے تاریخی ، سیاحتی اور زمانہ قدیم میں آباد  کئی مقامات ایسے ہیں جو اپنے اندر سیاحوں اور دیگر اہل ذوق کی دلچسپی کا سامان لیئے ہوئے ہیں ۔ذیل میں چند اہم مقامات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ سرائے علی آباد یہ  بین الاقوامی شہرت کے حامل درہ حاجی پیر کے دامن میں واقع ہے یہ سرائے...
آزادکشمیرمیں بڑھتی بے روزگاری

آزادکشمیرمیں بڑھتی بے روزگاری

آرٹیکل, آزادکشمیر
 ثاقب علی حیدری آزادکشمیر میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری ایک  نیا کاروبار بنتا جارہا ہے، اسی بنا پر حکومت اور نجی ادارے بے روزگار نوجوانوں سے سالانہ کروڑوں روپے کماتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق آزادکشمیر میں شرح خواندگی پاکستان کے دوسرے صوبوں کی نسبت سب سے زیادہ (75 فیصد) ہے اور جہاں ایک جانب آبادی کے تناسب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے وہیں دوسری جانب ریاست میں بے روزگاری بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت آزادکشمیر میں بے روزگاری کی شرح 19 فیصد سے بھی زیادہ ہے اور متنازعہ علاقہ ہونے اور بیرونی سرمایہ کاری سمیت پرائیویٹ سیکٹر نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث روزگار کے لیے نوجوانوں کا زیادہ تر انحصار سرکاری ملازمتوں کے حصول پر ہی ہوتا ہے۔  آزادکشمیر کی چالیس لاکھ کی آبادی میں اس وقت ایک لاکھ کے قریب سرکاری ملازمین ہیں۔ سرکاری مل...
سلطان مظفر خان کا مظفرآباد

سلطان مظفر خان کا مظفرآباد

آزادکشمیر, تصویر کہانی, سیر وسیاحت, فطرت, مظفرآباد
/کہانی کار:  رامل علی/ تصویر بشکریہ : کشمیر امیج  یہ مظفرآباد کا ایک منظر ہے۔ لوگوں کے لیے قصبہ نما دکھنے والی یہ جگہ ہمارے لیے تو شہر ہے۔ سلطان مظفر خان نے اس شہر کی بنیاد رکھی تھی اورآباد کیا تھا۔ مظفر خان کے نام سے منسوب یہ شہر مظفر آباد کہلانے لگا۔ اپنی خوبصورتی میں بے مثال یہ شہر ایک شاہکار ہے۔ بیضوی شکل کا یہ شہر پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ دو دریا ( نیلم اور جہلم) شہر کے وسط میں ملتے ہیں ۔ اس جگہ کا نام دومیل ہے۔ مختلف کواٹرز میں تقسیم یہ شہر آزاد کشمیر کا دار الخلافہ ہے۔ اس کے علاوہ دو خوبصورت وادیوں ، وادئ نیلم اور وادئ جہلم کے لیے بھی مظفر آباد سے ہی راستے جاتے ہیں۔ ...
آزادکشمیرمیں انتخابات کا سال

آزادکشمیرمیں انتخابات کا سال

آرٹیکل, آزادکشمیر
آزاد احمد چوہدری ‌آزاد کشمیر میں 2021  کا سال الیکشن کا سال ہے ۔ جس  میں مختلف سیاسی پارٹیاں زورِ بازو آزما ئیں گی۔ ابھی تو مسلم لیگ نون کی حکومت موجود ہے اور وہ ایک مرتبہ پھر سے  حکومت بنانے کی کوشش کرے گی جبکہ پیپلز پارٹی  ، مسلم کانفرنس اور تحریک انصاف بھی آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی کوشش کریں گی۔ تحریک انصاف آزاد کشمیر  تو تقریبا گزشتہ دو سال سے الیکشن کی مہم میں مصروف ہے ۔ مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف آزاد کشمیر  حکومت بنانے کے لیے پر امید  ہے ۔ جبکہ گزشتہ الیکشن میں مسلم کانفرنس ، جوکہ تحریک انصاف کی اتحادی جماعت تھی، وہ بھی پر امید ہے۔ کہ اتحاد کی ساتھ دونوں جماعتیں حکومت بنا سکتی ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کی مرکزی حکومت مہنگائی  ، لوڈ شیڈنگ ، چینی،آٹا اور گیس بحران جیسے کئی مسائل میں جکڑی ہوئی ہے ۔...
راولاکوٹ گردوارہ سکھ عہد کی یادگار

راولاکوٹ گردوارہ سکھ عہد کی یادگار

آثارِقدیمہ, آزادکشمیر, تصویر کہانی, کہانی
کہانی کار : حمید کامران آزاد کشمیر کے صحت افزا مقام راولاکوٹ کا گُردوار ہ ایک تاریخی عمارت ہے -چھپے نی دھار یا ساپے نی دھار گاؤں کیانتہائی بلندی پہ تعمیر کردہ یہ  عمارت ہزاروں آندھیوں طوفانوں اور زلزلوں کا مقابلہ کرتی صدیوں سے استقامت سے کھڑیاپنے مضبوطی کو منوانے میں حق بجانب ہے -اس کی تعمیر میں پتھر اور چونے کا مٹیریل استعمال ہوا ہے  اس کے پتھرخوبصورتی سے تراش کر بنائے گئے ہیں جو پرانے زمانے کے لوگو...
مہاجرین جموں کشمیر کی آبادکاری

مہاجرین جموں کشمیر کی آبادکاری

آرٹیکل, آزادکشمیر, مظفرآباد
 شبیر احمد ڈار       ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کے ظلم و ستم اور غاصبانہ قبضے سے ہم سب ہی باخبر ہیں . اس ستم وظلم کی وجہ سے لاکھوں گھرانے اب تک ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے. تحریک آزادی کشمیر  کا جذبہ لے کر  آزادکشمیر میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے  انہیں "مہاجرین جموں کشمیر " کے نام سے پکارا جاتا . مہاجرین جموں کشمیر 1990-1989ء بھی ان میں شامل ہیں جنھوں نے اپنا گھر بار ، عزیز و اقارب ،زرمبادلہ سب کچھ تحریک آزادی کشمیر  کے لیے وقف کیا اور آج آزادکشمیر کے مختلف کیمپوں میں آباد ہیں .مہاجر ہونا ایک اعزاز کی بات ہے اور مہاجر ہونا سب سے مشکل  کام بھی  ہے .     مہاجرین جموں کشمیر 1990ء مقبوضہ کشمیر کے مختلف شہروں سے ہجرت کر کے بیس کیمپ آزادکشمیر میں داخل ہوئے ان میں زیادہ تر مہاجرین کا تعلق مقبوضہ ضلع  پونچھ ، اوڑی ...
باغسر جھیل اور قلعہ باغسر

باغسر جھیل اور قلعہ باغسر

آثارِقدیمہ, آرٹیکل, آزادکشمیر, سیر وسیاحت
تحریر: مرزافرقان حنیف تصاویر :  مرزا فرقان حنیف  ۔ سوشل میڈیا    بھمبر آزاد کشمیر کا تاریخی مقام ہے۔ یوں ریاست جموں و کشمیر کا ہر شہر اپنی تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن بھمبر کی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے مغل حکمران یہاں سے گزر کر سرینگر جایا کرتے تھے۔ اسے بابِ کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔ کسی دور میں بھمبر ایک ریاست کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔ موجودہ بھمبر کو آزاد کشمیر کے ایک ضلع کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ضلع تین تحصیلوں پر مشتمل ہے، تحصیل بھمبر، تحصیل سماہنی، تحصیل برنالہ۔ضلع بھمبر میں ماضی کی بہت ساری یادگاریں موجود ہیں۔ ایسی ہی تاریخی جھیل اور باغسر قلعہ ضلع بھمبر کی تحصیل کے گاؤں باغسر میں واقع ہے۔ گاؤں باغسر یہ گاؤں ضلع بھمبر کی تحصیل سماہنی میں واقع ہے،جو کہ بھمبر شہر سے تیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ باغسر گاؤں لائن آف کنٹرول کے قر...
×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact