Friday, May 24
Shadow

کتاب: سدا بہار چہرے تبصرہ: تسنیم جعفری

کتاب: سدا بہار چہرے
مصنفہ: رباب عائشہ
تبصرہ: تسنیم جعفری
ناشر: پریس فار پیس
سدا بہار چہرے۔۔۔بذات خود ایک خوبصورت نام ہے ، ایسے ہی ایک سدا بہار چہرے سے ہمیں 25 جون 2023 کو پریس فار پیس کے توسط سے اسلام آباد میں ملنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ بہت ہی معزز، پیاری،  ملنسار اور با کمال صلاحیتوں کی مالک رباب عائشہ صاحبہ میری ایک کتاب کی تقریب پذیرائی میں ہمارے ہاں تشریف لائی تھیں۔ پریس فار پیس کے ڈائریکٹر ظفر اقبال صاحب نے ان کا تعارف کروایا تھا اور بتایا تھا کہ وہ بھی اس تقریب میں تشریف لا رہی ہیں ، بہت سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں ۔ میں نے کہا وہ اتنی دور سے تشریف لائیں گی انہیں کوئی پریشانی نہ ہو ، لیکن جب ملیں تو پتہ چلا کہ وہ تو ہم سے بھی ذیادہ ایکٹو اور ہشاش بشاش ہیں ماشاللہ۔ رباب عائشہ صاحبہ اپنی دیرینہ دوست اور معروف مصنفہ اور ماہر تعلیم تنویر لطیف صاحبہ کے ساتھ تشریف لائیں تھیں ،جن کے آنے سے تقریب میں چار چاند لگ گئے تھے، نہ صرف خود آئیں بلکہ ساتھ بہت مزیدار ڈشز بھی بنا کر لائیں اور میری کتابیں بھی خرید کر اس روایت کو زندہ کیا کہ جس کتاب کی تقریب پذیرائی ہو اسے خریدا بھی جاتا ہے۔ اتنی دلنواز شخصیات کا تقریب میں آنا ہی میرے لئے اعزاز کی بات تھی۔ ان دونوں نے اس بات پر خفگی کا بھی اظہار کیا کہ اب اسلام اباد میں ادبی تقریبات کیوں نہیں ہوتی ہیں،اور  انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلام اباد میں آئندہ جو بھی ادبی تقریب ہوگی وہ ہمارے گھر پر ہوگی۔ گویا ہماری وہ ادبی تقریب اسلام آباد میں نجی ادبی تقریبات کی ابتدا ثابت ہوئی۔
رباب عائشہ صاحبہ نہ صرف خود بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کی مالک صحافی ہیں بلکہ آپ نے اپنی اس کتاب میں ماضی کی گرد میں دفن گوہر نایاب تلاشے ہیں ، کمال کی شخصیات کے بارے میں یہ خاکے ہیں۔
یہ کتاب ادبی لحاظ سے ایک شاندار دور کی عکاسی کرتی ہے۔۔۔گویا ہم خود اس زمانے میں پہنچ کر ان نایاب شخصیات سے مل رہے ہیں۔
“سدا بہار چہرے” رباب عائشہ صاحبہ کی مختلف شخصیات کے بارے میں کالموں، انٹرویوز اور مضامین پر مشتمل کتاب ہے جسے پریس فار پیس نے شائع کیا ہے۔ پریس فار پیس کا یہ بھی کمال ہے کہ ماضی کی ادبی شخصیات کو ڈھونڈ نکالتے ہیں اور انہیں پھر سے فعال کردیتے ہیں۔ اس بات کے لئے رباب عائشہ صاحبہ نے ظفر اقبال صاحب کو خصوصی دعائیں دی ہیں کہ وہ اس تیز رفتاری کے دور میں بھی ماضی کے ادیبوں کو ساتھ لے کر چلنے کے لئے وقت نکال لیتے ہیں۔
ہمیں اس کتاب میں نہ صرف ان شخصیات کے بارے میں پتہ چلتا ہے جن کے بارے میں لکھا گیا ہے بلکہ ان کے توسط سے رباب عائشہ صاحبہ کی اپنی زندگی کے اہم  واقعات بھی ہمارے سامنے عیاں ہوتے ہیں جو ان شخصیات سے جڑے ہیں۔
رباب عائشہ صاحبہ نے اپنی پسندیدہ شخصیات کے بارے میں اتنے پیار سے ذکر کیا ہے کہ ہمیں بھی ان سے ملنے کی خواہش ہوتی ہے۔ ان پیاری اور قابل ذکر شخصیات میں چند یہ ہیں : الطاف فاطمہ، گل جی، ممتاز شیریں، ادا جعفری، پروین فنا سید، زہرہ نگاہ، بیگم سعیدہ قاضی عیسی، معروف مصور غلام رسول، معروف صحافی سید اصغر بخاری،منصور راہی ، ہاجرہ منصور، خدیجہ مستور وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جن سے مصنفہ کا بذات خود تعلق یا رابطہ رہا ہے، جیسے الطاف فاطمہ صاحبہ آپ کی والدہ کی خالہ ذاد بہن تھیں، ان سے آپ کے گہرے مراسم تھے جن میں سے کچھ آپ نے یہاں بیان کئے ہیں۔ کچھ شخصایت کے انہوں نے باقائدہ انٹرویوز بھی کئے تھے اس زمانے میں۔ کچھ گمنام شخصیات کا بھی ذکر ہے جن سے مصنفہ متاثر ہوئیں۔
اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے اس خوبصورت کتاب میں، باقی آپ کتاب پڑھ جان سکیں گے۔
رباب عائشہ صاحبہ کے لئے بہت ساری دعائیں کہ ان کا سایہ ہم سب کے سروں پر تادیر سلامت رہے اور ہم ان سے سیکھتے رہیں۔ آمین 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact