تبصرہ : سرور غزالی
کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو اپنے  ساتھ لگے لاحقے کے ساتھ ایک انسیت کا احساس دلاتے ہیں ۔  ریاض نامہ ایک ایسا ہی نام ہے،  ایسی ہی کتاب ہے جس میں  پہلی نظر میں ہی ریاض اور نامہ کے الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ اٹوٹ جڑے نظر آتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کتاب ریاض نامہ آج پہلی بار  نہیں بلکہ برسوں سے  میری نظروں کے  سامنے رہی ہے۔  یا شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ میں ریاض بھائی کو برسوں سے جانتا ہوں اور عرصے سے انہیں دیکھتا چلا آرہا ہوں۔ ریاض بھائی ،بھابھی اور بچوں کے ساتھ جو انسیت ہے اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کا نام گرچہ کہ” ریاض نامہ “ہے مگر اس میں شاید سب سے کم ذکر خود ریاض بھائی کا ہے لیکن انہوں نے جن تجربات، واقعات اور حالات کا نچوڑ اس کتاب میں سمودیا ہے وہ قابل تعریف بھی ہے اور قابل توجہ بھی ہے اور اس میں سیکھنے اور معلومات کے لیے بھی بے شمار مواد موجود ہیں۔ کتاب ” ریاض نامہ “کے مختلف پہلو ہیں ان میں جرمنی میں رہنے کے تجربات کی روشنی میں آنے والے اور نئے آنے والوں کے لیے بہت ساری ایسی معلومات ہیں جن سے وہ اپنی زندگی کی شروعات میں بہت ساری آسانیاں حاصل کر سکتے ہیں اور اس کتاب سے بے شمار فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کتاب میں جو برلن، جرمنی اور دیگر ممالک کے  واقعات، سفری واقعات ریاض بھائی نے پیش کیے ہیں ان سے آپ  سفر کرنے کے دوران بھی  استفادہ کر سکتے ہیں۔
ریاض بھائی نے اپنے بزنس کے تجربات اس میں پیش کیے ہیں جس سے انسان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے ریاض بھائی نے جن چیزوں کو اس کتاب میں موضوع بنایا ہے اس سے انسان یہ جان سکتا ہے کہ دور دراز دیار غیر میں، پردیس میں رہنے کے باوجود انسان کس طریقے سے اپنی ابائی اور اپنی خاندانی روایات اور ان کی روشنی میں ایک خانگی زندگی کو کس طرح پروان چڑھا سکتا ہے اور مشرقی خاندان کی تشکیل اور ان کی روایت کو ہر صورت میں قائم رکھ سکتا ہے۔
ریاض بھائی  کی زندگی ہمیشہ ہی ایک کھلی کتاب کی مانند رہی ہے۔ بالکل اسی طرح ریاض نامہ بھی ایک روشن خیالی شفاف بیانی کا مظہر ہے۔ اپنے زندگی کے اصول کی طرح اس کتاب میں بھی ریاض بھائی نے بغیر کسی لیل و للت بغیر کسی ہیر پھیر اور بغیر کسی جھجک کے تمام باتیں صاف شفاف اور ایماندارانہ طریقے سے پیش کر دی ہیں انہوں نے کسی بات کو بڑھا چڑھا کر افسانوی انداز دے کر نہیں،  نہ ہی کسی بات کو چھپا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ تمام حقیقت من و عن پیش کر کے نہایت اعلی اخلاق اور جرت رندانہ کا اظہار کیا ہے۔ ( یہ تبصرہ  جناب شیخ ریاض کی سوانح  عمری “ریاض نامہ  “کی رسم اجراء میں پڑھا گیا )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact