Sunday, May 26
Shadow

نسترن احسن فتیحی کی “بین کرتی آوازیں”، تبصرہ نگار: آر سی رؤف

تبصرہ نگار: آر سی رؤف
بے چہرہ لوگوں سے مزین سرورق کے پیچھے چھپی
“بین کرتی آوازیں” قلم کا وہ نوحہ ہے جو درد دل رکھنے والوں کو میگرین کرا دے کیونکہ بے حس  معاشرے کے قرطاس پر جھوٹ کا کاروبار جاری ہے۔
خوب صورت چاندنی رنگ صفحات پر گہری روشنائی سے ثبت نسترن احسن فتیحی صاحبہ کے موتی موتی پروئے الفاظ دل کے راستے روح میں اترتے چلے گئے۔ان کے قلم سے نوشتہ سب افسانوں اور افسانچوں میں  کاٹ تو موجود ہے لیکن حساس دل بھی دھڑکتا ہے کہ پہروں ذہن و قلب سے اس کا اثر نہیں جاتا۔وہ پند و نصائح پہ مائل نہیں دکھائی دیتیں البتہ انگلی پکڑ کر برائی کی نشاندہی کر کے جڑ تک پہنچا کے دم لیتی ہیں۔اب یہ قارئین پر منحصر ہے اسے ناسور بننے دیں یا کاٹ کر الگ کر دیں۔
افسانہ “صندوق” کا پہلا جملہ ہی پڑھتے یہ محسوس ہوا جیسے یہ تیری میری کہانی بیاں  ہونے جا رہی ہے۔تصنع بھری  زندگی کی بھاگ دوڑ میں بدن تھک کر” بے جان” بھی ہو جائے “دماغ بہت تیزی سے گردش” میں رہتا ہے اور ماضی کے دھندلکوں سے ان خوابوں کو مجسم کرتا رہتا ہے جو موجودہ نسل نے کبھی دیکھے ہی نہیں۔حال سےماضی تک کا یہ سفر ایک دوسرا جہان ہے جس کے باسی اسی میں جینے کی تمنا لیے بڑھاپے کی دہلیز تک آ پہنچتے ہیں۔وہ اپنے خواب اپنے ان پیاروں کو سونپنا چاہتے ہیں جنہیں ان کا ادراک تک نہیں۔
“انگلی کی پور پر گھومتا چاند” تنہائی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں فقط ٹمٹا سکتا ہے زیست کو روشن تر کرنےکی اس میں تاب نہیں۔
“حقیقت اور خواب جب خلط ملط ہو جائیں تو جینا محال ہو جاتا ہے”۔اپنے خوابوں کو آنکھوں میں جگائے رکھنے والی، ہر  معمولی عورت “عجیب عورت” قرار دے دی جاتی ہے۔
 افسانہ “ہٹلر” نشاندہی کرتا ہے کہ ہم اس نگر کے باسی ہیں جہاں نام نہاد جمہوریت کی چھتری تلے وقت کی فراٹے بھرتی بس پر بیٹھے “سارے لوگ اپنے خوابوں سے صرف ایک فرلانگ کی دوری پر ہیں۔”اچانک ہی خوف کی سیاہی اور “شفق کی سرخی میں اضافہ کرتا وقت  کسی  نہ کسی  “ہٹلر” کاچہرہ جابجا  پوسٹروں میں ہر سو مسکراتا نظر آتا ہے۔”

زندگی کی بے سود “کشمکش” میں پیسے کا مختار ایک ایک روپے کا  حساب کتاب رکھتے ہوئے اس لئے فکر مند پے کہ اس سے  کہیں بس نہ چھوٹ جائے۔اسی تگ دو میں نچلا طبقہ اپنی محنت کا جائز صلہ پانے کے لئے اسی بس کے پیچھے ہاتھ اٹھائے  دوڑتا ہوا اس دوڑ میں ہار جاتا ہے اور پیسہ مٹھیوں میں بند دھرا رہ جاتا ہے۔طبقاتی معاشی تقسیم کی تصویر دکھاتا یہ افسانہ بہت دیر تک رلاتا رہا۔

افسانہ “پرچھائیاں”میں صبا کےکردار میں آج کے دور کی عورت  بحیثیت ماں ، جسے اپنے حقوق کا ادراک ہوا بے تو وہ اپنی ہستی کو مٹا دینے پر خوش نہیں رہتی،بے چارگی سے مدد کے لئے سب کی جانب دیکھتی ہے۔کیونکہ  الگ گھر کی خواہش کی بدولت درمیاں میں  ساس کے روپ میں وہ ماں   موجود نہیں جو بلال کو  یہ کہہ کر روک سکے
“ماں کچھ بھی کہے  بچے کی بھلائی کے لئے بولتی ہے تو تم بیچ میں مت بولا کرو۔”
گیجٹس کی بھرمار، بوریت کو ختم کرنے والے آلات نے سب کو ایک دوسرے سے دور کر کے حواسوں پر مکمل بوریت طاری کر دی ہے۔جیتے جاگتے وجود “پرچھائیوں” میں تبدیل ہو کر ہم پر پوری طرح حاوی ہو چکے ہیں۔عورت نے خود اذیتی میں فرار کی راہ تلاش کر لی ہے لیکن وہ پھر بھی مجروح اور بے چین ہے۔
نسترن فتیحی کو بہت چاؤ سے اپنے کردار تخلیق کرتی ہیں۔۔وہ کبھی ماں کے دل میں اتر کر اس کی آنکھوں سے ، جھریوں میں چھپے زخم دکھاتی محسوس ہوتی ہیں تو کبھی بیٹی کے دکھ کھنگالتی ہیں ۔کبھی کسی بیوی کی نظر سے دنیا میں جھانکتی ہیں اور کبھی شوہر یا کسی باپ کی لاچارگی کی داستاں سناتی ہیں۔
“ڈائل ٹون” پڑھ کر فتیحی کی متوازن طرز فکر کا قائل ہوئے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔جس کی اک آواز سننے کے لئے بیوی بچے اس مرد کے اعتبار، اعتماد اور عزت نفس کو کرچی کرچے دکھائی دیتے ہیں جو انتہائی جانفشانی سے اپنے جملہ فرائض کی ادائیگی میں جتا رہتا ہے۔ گویا  فتیجی   مرد و عورت کی تخصیص سے بالاتر ہو کر معاشرے کے  کریہہ چہروں  سے پردہ اٹھاتی ہیں۔
روٹی کی فقط خوشبو بھی خوشحالی کا استعارہ ہے جن گھروں میں غربت نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں وہاں تو دهواں تک نہیں اٹھتا۔ مادہ پرستوں کی اس دنیا  میں شیرنی کے بچے کے مقابلے میں انسانی جان کس قدر ارزاں ہے۔ہارر پر مبنی افسانے “وہ نقش زیر آب ہے ” میں  ماورائی قوتیں فاتح قرار نہیں پاتیں بلکہ اللہ سبحانہ تعالی کی قدرت سے سب کچھ رونما بھی ہوتا ہے اور آنکھوں سے اوجھل بھی رہتا ہے۔دور صحراؤں کے”کال بیلیا”  کی نرملا جوگن سانپوں کا زہر اتارنے کے لئے جان سے گزرنے  سے گریز نہیں کرتی تو کہیں  دلوں کے  جوڑنے والی ” ایڈہیسو” کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔منّو،دمڑی کی دال،ووٹ کا ویٹ اور سادہ اوراق نہایت سہل زبان میں بیان کردہ افسانے مگر پسِ پشت ان  بھول بھلیوں کی طرف نشاندہی کرتے ہیں  جن میں انسان کبھی خود بھٹکناچاہتا ہے اور کبھی اسے بھٹکا دیا جاتا ہے۔
کتاب کا دورسرا حصہ افسانچوں سے آراستہ و پیراستہ ہے۔افسانچے بھی اسی قدر متنوع اور ہمہ جہت ہیں۔مجذوب پڑھ کر دا ایڈیٹ کی بہت  یاد آئی۔کچرے والوں کو زمین سے پرے بھی کچرا ہی نظر آیا لیکن ان کی قسمت تابناک کرنے کی بجائے مزید تاریک کر گیا۔
الغرض فتیحی نے معاش،معاشرت ،سیادت،سیاست ہر پہلو  پر بات کی،  لیکن ساتھ ہی ساتھ انسانی فطرت کے ظاہری اور باطنی گوشے اس طرح سے آشکار کئے  کہ بین کرتی آوازیں اور چیختے چنگھاڑتے وجود گتھم گتھا ہوتے ہوئے محسوس ہوئے جہاں پیشہ ور قاتل بھی  اپنی فطرت پر چل پڑے تو مسیحا بن جائے۔”پرواہ کسے ہے “کہہ کر تلخیوں کو پی کر بے نیازی دکھانے والے تنہائی میں اپنا تکیہ بھگوتے  رہتے ہیں ۔
گویا یہ کتاب  نہ تو فقط چکھنے کے لئے ہے  اور نہ ہی خاموشی سے گلے سے اتار دینے کے لئے۔
وقت ثابت کرے گا کہ اس کا شمار ان چند کتابوں میں ہو گا جنہیں بار بار پڑھ کر  جسم و جان کا حصہ بنا لیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact