تبصرہ نگار: قانتہ رابعہ
بشری تسنیم کا نام ہر اہل فکر کے لیے جانا پہچانا ہے۔ اپنی تحریر میں خواہ وہ افسانے ہوں یا کالم، گوشہءتسنیم ہو یا پیغام صبح، ایک واضح سوچ رکھتی ہیں۔ ان کی ہر تحریر کا مقصد رجوع الی اللہ اور معرفت الہی ہوتا ہے۔ زیر نظر کتاب جو ان کے واٹس ایپ کالمز کا مجموعہ ہے جو “پیغام صبح سیریز” کے نام سے واٹس ایپ کے بہت سے گروپس میں شیئر کی جاتی رہی ہے۔۔۔ روزانہ صبح سویرے اپنے رب سے تعلق کی نوعیت اور یاددہانی کی یہ اتنی موثر سیریز تھی کہ شیئر ہونے میں قارئین کے لئے لمحاتی تاخیر بھی گوارہ نہ تھی۔
ان کالمز کے تمام موضوعات حساس دل سے لکھے وہ نکات ہیں کہ اگر ایک پر بھی عمل ہو تو زندگی جنت نہ سہی جنت کا راستہ ضرور بن جائے۔۔۔
 ان کی تحریر میں اتنی  ادبی چاشنی ہے کہ کئی کئی منٹ ذہن ایک ہی فقرہ میں مشغول رہتا ہے۔۔۔ بار بار پڑھ کر بھی سرور کم نہیں ہوتا، جہاں ادبیت اور مقصد اکٹھے ہو جائیں وہاں عام سی بات بھی خاص بن جاتی ہے۔۔۔
 میں نے بھی جب یہ مجموعہ ہاتھ میں لیا تومیری  دس طرح کی مصروفیات تھیں، یہ سوچا کہ بھاگم دوڑ میں ایک دو کالم  دیکھ کے رائے لکھ دیتی ہوں۔۔۔ مگر پہلے کالم پر ہی اتنا خشوع طاری ہو گیا کہ آنکھیں نم ہو گئیں ۔۔پھر ایک ایک کر کے ساری کتاب پڑھ لی کہ پڑھے بغیر گزارہ ہی نہ تھا۔ بہت سارے کالم ایسے نکات لیے ہوئے ہیں کہ ان کی نکتہ رسانی پر رشک آتا ہے۔
شاپنگ ہر کوئی کرتا ہے مگر ایک نئی طرح کی برانڈڈ شاپنگ کیجئے۔ واہ! شاپنگ کا ایسا مفہوم کبھی کم ہی کسی کے ذہن میں آیا ہوگا۔۔۔ صحبت اہل صفا میں صحابہ کرام کا نیکیوں کا شوق اور ذوق بیان کر کے ہم جیسے گناہ گاروں کو رغبت دلائی ہے۔ “سعادت عظیم” پڑھ کے نماز روزہ ذہن میں آتا ہے یا حج عمرہ کو عظیم سعادت قرار دیا جا سکتا ہے۔۔۔ لیکن نہیں اس کا حق انہیں حاصل ہے جو ظلم کے خلاف رکاوٹ بنتے ہیں۔ وہ کامیابی کی شرط، تقوی کو قرار دیتی ہیں جو بند کمرے میں نہیں میدان عمل میں قدم رکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔
الغرض! ہر کالم اعلی پائے کا شاہکار ہے۔ ان کی تحریر میں اخلاص  ہر سطر بلکہ ہر لفظ سے جھانکتا نظر آتا ہے۔۔۔
میرا اعزاز ہے کہ مجھے بشری تسنیم  کی کتاب پر چند لفظ لکھنے کی سعادت مل رہی ہے۔۔۔ وہ رشتہ میں ہی مجھ سے بڑی نہیں بلکہ ادب علم عمل میں بھی مجھ سے بہت آگے ہیں۔۔۔ اللہ تبارک و تعالی اس سبقت کو قائم و دائم رکھے کہ یہ نیکیوں کی شاہراہ پر بہت قیمتی متاع ہے۔
بشری تسنیم کی ایک پہچان ان کی وہ کتاب ہے جسے اردو پڑھنے والوں کے لیے نعمت عظمی کہا جا سکتا ہے اور وہ ہے ان کی کتاب “تیرے نام تیری پہچان”۔
اسمائے حسنی کی علمی اور ادبی خوبصورت تفسیر جو پہلے آپ نے کم ہی پڑھی ہو گی۔
اسمائے حسنی کا مدلل اور مفسر تعارف۔ اللہ تعالی قبولیت کے اعلی مقام پر رکھ کر توشہ آخرت بنائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact