تاثرات : قانتہ رابعہ

یادش بخیر آج سے ڈیڑھ سال پہلے تک سوشل میڈیا کے نام پر مجھے صرف واٹس ایپ کی دنیا میں جھانکنے کا موقع ملا ۔میری بہت پیاری سسرالی  بھانجی مجھے ہر ملاقات ہر تاکید کرتی خالہ آپ فیس بک پر اکاؤنٹ بنائیں ناں،

اور خالہ نے کبھی اس فرمائشی پروگرام پر کان نہیں دھرے، اس کے بعد قسمت کا فیصلہ کہ مجھے اگست 2021ء کے اواخر میں فیس بک کا اکاؤنٹ چھوٹی بیٹی نے بنا دیا ۔ساتھ ڈھیر ساری نصیحتیں بھی کیں۔  جن میں سے ایک یاد ہے کہ ہر ایرے غیرے کی  پوسٹ کا  جواب نہیں دیتے اور دوسرا یہ کہ ہر ایک کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنے نہ بیٹھ جائیں،
خیر آمدم برسر مطلب ،فیس بک پر اکاؤنٹ بناتے ہی جو پہلی پوسٹ پڑھنے کو ملی وہ اتنی دلچسپ اور مزے کی تھی کہ بے اختیار نیچے نام پر نظر ڈالی تو روبینہ قریشی لکھا دیکھا جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس پوسٹ کا نام ،کبھی غم کبھی خوشی تھا۔
مجھے حسن مرعوب کرے نہ کرے لیکن اچھے الفاظ ضرور مسحور کرتے ہیں خواہ تقریر کے ہوں یا تحریر کے۔

اب یہ کیسے ممکن تھا کہ دریا کی سی روانی والی سادہ اور مزے کی تحریر پڑھ کر میں رابطہ نہ کرتی ،اس لیے میں نے اولاد کی تمام نصیحتیں ایک طرف کیں اور ان سے ان باکس میں رابطہ کیا ،تحریر کی تعریف کے بعد ان سطور کو کاغذی دنیا میں منتقل کرنے کے فضائل بیان کیے ۔ہوائی گفتگو اور فیس بکی تحریروں کی عارضی قدروقیمت ہونے کا واویلا کیا ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خاتون محترم نے ان تحاریر کو کاغذ پر منتقل کرنے کا وعدہ کیا۔
میں وقتاً فوقتاً یاد دہانی کرتی رہی اور اس بات پر ان کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے مشورے پر عمل کیا اور ماہنامہ بتول میں تین چار ماہ تک تحریریں بھیجتی رہیں پھر دوسرا مشورہ میں نے انہیں کتاب شائع کروانے کا بھی دیا ۔اس کی اہمیت کے لیے ڈھیروں دلائل دیے۔ میں اس پر بھی ان کی شکر گزار ہوں ہوں، میں وہ گمنام سپاہی ہوں جو فوج تیار کرتا ہے لیکن پیچھے ہی رہتا ہے۔
حاصل زیست ایک بے حد خوبصورت سرورق عمدہ صفحات اور موٹے فونٹ پر چھپی کتاب ہے ،جسے دیکھ کر خوشی، ہاتھ میں لے کر اطمینان، اور مطالعہ کے بعد ڈھیروں سکون ملتا ہے۔
کتاب کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ کتاب میں ان کی زندگی کا حاصل حصول درج ہے جسے دوسرے لفظوں میں اعمال نامہ بھی کہہ سکتے ہیں۔
دو ورقی یا سہہ ورقی چھوٹے چھوٹے بہترین اور سبق آموز واقعات پر مبنی یہ کتاب عام و خاص سب قارئین کے لیے یکساں دلچسپی کی  حامل ہے ،روبینہ کے انداز میں بچوں کی سی معصومیت اور سادگی ہے ۔ان کی تحریروں میں غیر معمولی حسن ہے، محبت ہے، اپنے علاقے سے اپنے رسم و رواج ،اپنے خاندان ،عزیزوں کے بارے میں لکھتے ہوئے وہ قاری کو انگلی پکڑ کر ساتھ رکھتی ہیں ،باتوں ہی باتوں میں نوجوان بچیوں کو گھرداری ،ازدواجی زندگی کے بارے میں وہ سب کچھ بتا دیتی ہیں جو ایک اچھی ماں اپنی بچی کو بتانا ضروری سمجھتی ہے۔ مزے مزے کے رسم ورواج سے آگاہ کرتی ہیں تو چشم دید محسوس ہوتا ہے۔ اگر اپنی ساس یا سسرالی رشتوں کی بابت بتاتی ہیں تو کوئی اصول اور سبق دے کر ہی فارغ ہوتی ہیں۔ ان کا سلسلہ نسب اہل قریش سے ملتا ہے ۔اپنے حسب نسب اور خاندان کے بارے میں بجا طور پر فخر کا اظہار کرتی ہیں ۔ان کی تحریروں میں روحانیت ،کشف ،کرامات کی جھلک بھی موجود ہے ۔کچھ کرداروں کے بارے میں اتنا ڈوب کر لکھا کہ آنکھیں نم ہوئیں اور دل چاہا کہ ان کے بارے میں کچھ مزید پڑھنے کو ملے۔
مثلاً ،یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ،میں سیداں کا کردار ناقابل فراموش ہے ،اسی طرح اللہ والی ،میں اپنی خالہ ساس کے کردار کواتنے  پر تاثیر لفظوں میں لکھا کہ دل و دماغ پر یہ کردار نقش ہوگیا ۔ان کی تحریر کی ایک خوبی خوبصورت اور مختصر جملے ہیں ۔سرگودھا کے بارے میں تعارفی مضمون ہو یا انیس سو پینسٹھ کی جنگ ،بیان کرتے ہوئے ان کا حافظہ ماشاءاللہ غضب کا ہے ہر چیز اس طرح یاد میں محفوظ ہے جیسے چند لمحوں پہلے کی بات ہو خوبصورت استعارے ،اور ضرب الامثال ان کی تحریر کا اضافی حسن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact