Sunday, May 26
Shadow

ماہم جاوید کا ناول انتخاب/ رائے: مہوش اسد شیخ

کتاب: انتخاب (ناول)
مصنفہ :ماہم جاوید
رائے : مہوش اسد شیخ
ماہم جاوید کا ناول  انتخاب مصنفہ کی جانب سے   موصول ہوا۔ میں مطالعہ سے پہلے طباعت دیکھتی ہوں۔ ماشا اللہ مضبوط جلد، اچھی کوالٹی کا پیپر جو کہ پریس فار پیس کا خاصا ہے۔ معیاری مواد، معیاری طباعت پریس فار پیس کی پہچان ہے ۔
سرسری ورق گردانی کے دوران ہی بےصبری سے مطالعہ شروع کر دیا۔ پڑھتے پڑھتے مجھے احساس ہوا کہ یہ عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف سفر کرتی کہانی ہے، دل یکدم اوب گیا کہ اس ٹاپک پر اتنا پڑھ چکی ہوں کہ اب دل نہیں کرتا۔ قرآنی آیات کی بھرمار، بھاری بھر کم فلسفہ، مشکل اصلاحات مطالعہ کا مزہ ہی نہیں رہتا۔
لیکن چارو ناچار مطالعہ جاری رکھا۔ جس بات نے مجھے مطالعہ جاری رکھنے پر اکسایا وہ عام فہم زبان اور رواں اسلوب تھا۔ یہ اس ناول کا پلس پوائنٹ ہے۔
یہ مقدس کی کہانی ہے جو مٹی کی مورت کو بہت اونچا درجہ دے بیٹھی تھی۔ اس مٹی کی مورت نے اس کے ظاہری حلیے کی وجہ سے اور کچھ حالات ایسے ہو گئے کہ اسے چھوڑ دیا دوسرے لفظوں میں اپنی اوقات دکھا دی۔
تب رب نے اسے سہارا دیا۔ یہ کہانی بھی بہت دلچسپ ہے، خواب میں ایک بزرگ سے ملاقات ہونے لگی۔ ان کے درمیان ہونے والی گفتگو ناول کا دلچسپ حصہ ہیں۔ مقدس ہر تکلیف پر صبر کرتی رہی، اسے انتہائی لذیذ پھل ملا۔  برا کرنے والوں کا انجام بھی برا ہوا۔انھیں منہ کی کھانی پڑی۔ ناول اتنا دلچسپ ہے ایک ہی نشست میں پڑھ لینے کو جی چاہتا ہے مگر ماشاءاللہ ناول اتنا ضخیم ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔
ناول میں ایک بات مجھے پسند نہیں آئی، اس کا ذکر کرنا چاہوں گی اور پرامید ہوں کہ مصنفہ اس بات کو مثبت لیں گی۔
انگریزی الفاظ و جملوں کا بہت استعمال کیا گیا ہے۔
مکالموں میں تو یہ بات قابل قبول ہو گئی کہ فیملی پڑھی لکھی دکھائی گئی ہے، کوئی ڈاکٹر ہے تو کوئی بن رہا ہے۔ ایسے پڑھے لکھے تو بات کرتے ہوئے بے اختیار انگریزی بولیں، ٹھیک ہے مگر مصنفہ نے عام کہانی بیان کرتے ہوئے بھی انگریزی الفاظ کا استعمال کیا ہے اور الفاظ بھی ایسے کہ ان کا بہتر نعم البدل موجود ہے ۔ مثال کے طور پر” اس نے آگے بڑھ کر اس کا لگیج اٹھا لیا۔“
عام قاری ایک بار اس لفظ کو دوبارہ ضرور پڑھے گا پھر سمجھے گا کہ کیا کہا جا رہا ہے۔
سامان اٹھا لیا، بیگ اٹھا لیا کچھ بھی بہتر لکھا جا سکتا تھا۔ یہ تنقید صرف اصلاح کے لیے کی ہے۔ یہ بات میں مصنفہ کو میسج کر کے بھی سمجھا سکتی تھی یہاں اس لیے لکھی کہ بہت سوں کا بھلا ہو جائے۔ میں نے خود لوگوں کے تبصروں، کمنٹس اور تنقید سے بہت کچھ سیکھا ہے جو دوسروں کی کہانیوں اور کتابوں پر کیے گئے تھے۔
مصنفہ کا پہلا ناول ہے، پہلا ناول ہی اتنا دلچسپ اور رواں لکھا ہے ماشاءاللہ انھیں میری طرف سے ڈھیروں مبارک باد۔ میری خواہش ہے یہ ناول سب کی لائبریری کا حصہ ہو۔ ناول آرڈر کرنے کے لیے یا اپنی کتاب کی اشاعت کے لیے ادارے سے رابطہ کیجیے۔

واٹس ایپ :

00447837931805

ای میل:

info@pressforpeace.org.uk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact