Friday, May 24
Shadow

بین کرتی آوازیں تاثرات : مہوش اسد شیخ

تاثرات : مہوش اسد شیخ

بین کرتی آوازیں ایک منفرد عنوان اور سرورق کی حامل کتاب میرے ہاتھ آئی تو کچن کی مصروفیات کے باوجود فوراً سے بیشتر ہی مطالعہ کی غرض سے کھول لی۔ اس بات کا ذکر میں پہلے بھی کئی بار کر چکی ہوں کہ خوبصورت طباعت اور عمدہ کاغذ مجھے مطالعہ پر راغب کرتے ہیں اور عمدہ و معیاری طباعت تو پریس فار پیس کا خاصا ہے۔
چلیے اب چلتے ہیں کتاب کے مواد کی طرف :
مصنفہ نے اس کتاب میں افسانوں کے نام پر خوابوں کے جزیرے کی سیر نہیں کروائی، محبت کے فلسفے نہیں جھاڑے، خیالی پلاؤ نہیں پکائے بلکہ
انھوں نے تو معاشرے کے ناسور عیاں کیے ہیں، اپنے قارئین کے لیے سوچوں کے نئے در وا کیے ہیں۔ لوگوں کے دلوں میں پنپتے دکھ جو وہ کہنے سے بھی ڈرتے ہیں انھیں سرعام قرطاس پر اتار ڈالا ہے ۔ مطالعہ کے دوران ایسا لگا کہ یہ افسانوی مجموعہ نہیں بلکہ مصنفہ کی آپ بیتیاں ہیں۔ پڑھتے ہوئے آپ کو اکثر محسوس ہو گا کہ یہ آپ کی اپنی آپ بیتی ہے جسے افسانوی رنگ میں ڈھال کر پیش کر دیا گیا ہے۔ میں نے مصنفہ کو پہلی بار پڑھا ہے، ان کے قلم کی پختگی کی قائل ہو گئی ہوں۔ ہم جیسے نوآموز کی منظر نگاری اکثر بوریت کا سبب بن جاتی ہے، کچھ قارئین تنقید کر جاتے ہیں مگر میں نے محسوس کیا کہ مصنفہ نپے تلے انداز میں اتنی روانی سے لکھتی ہیں کہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ منظر نگاری کہاں ہے، اصل کہانی کہاں ہے، تصویر خود بخود آپ کی نگاہوں میں بنتی چلی جاتی ہے، وہ الفاظ نہیں جذبات تحریر کرتی ہیں، قاری کرداروں کا دکھ محسوس کیے بنا نہیں رہ پاتا۔ افسانے انڈیا میں بیٹھ کر لکھے گیے ہیں مگر پڑھتے ہوئے آپ بے اختیار کہہ اٹھیں گے یہی حالات ہی تو پاکستان کے بھی ہیں۔ ایک بات بہت پسند آئی کہ افسانوں میں جو ہندی کے چند الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کے ساتھ اردو معنی بھی درج کیے گئے ہیں۔

پہلا افسانہ” بین کرتی آوازیں“ پڑھا تو میرے اپنے دکھ جنہیں تھپک تھپک کر سلا چکی تھی، بین کرتے اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ دہلی کے حالات نہیں، ہمارے پاکستان کے حالات ہی تو بیان کیے ہیں مصنفہ نے۔ یہ اخبارات، یہ چینل سب بکے ہوئے ہیں، سب اچھا ہے کی تصویر بنے ہوئے ہیں، سب اچھا ہے تو برا کہاں ہیں عوام کے گھروں میں؟
افسانہ” انگلی کی پور پر گھومتا چاند “ ایک اکیلی، تنہا ماں کا دکھ جو اپنا گھر نہیں چھوڑنا چاہتی اور بچے اس کے ساتھ رہ نہیں سکتے، بیرون ملک سیٹ ہیں۔ ایک ایک لفظ سے دکھ چھلکتا ہے۔
افسانہ” یہ عجیب عورتیں “ عنوان شاید آپ کو کچھ عجیب لگے، افسانے کا آغاز بھی مجھے عجیب سا لگا مگر اختتام تک پہنچتے پہنچتے میں نے جان لیا کہ کہیں نہ کہیں ہم سبھی عورتیں عجیب ہیں، اپنی اپنی جگہ کچھ نہ کچھ عجیب ضرور کر رہی ہیں۔” ہٹلر “ بھی بہت خوب صورت افسانہ ہے ۔” کشمکش“ اف کیا کہوں اس افسانے کے بارے میں، رکشے والے کا دکھ بھولے نہیں بھول رہا، وہ بس کے پیچھے بھاگ رہا تھا میں نے اس کی جگہ خود کو بھاگتا ہوا بے بس محسوس کیا۔ افسانے کا آخری جملہ” پانچ سو کا وہ نوٹ میری مٹھی میں بھینچا  ہوا تھا مجھے لگا وہ پانچ سو کا نوٹ نہیں رکشے والے کا دل بھینچ ڈالا گیا اور درد میرے سینے میں اٹھا۔ غربت کا دکھ روتے دلسوز افسانے ہیں ۔” ڈائل ٹون “ انڈیا کے ساتھ ساتھ ہمارے بھی سرکاری محکموں کا پردہ فاش کرتا افسانہ ہے۔  افسانہ” ادراک “ نے بہت خوبصورت سبق دیا” ہر عورت کو یہ ادراک ہونا ضروری ہے کہ وہ ایک الگ اور مکمل وجود ہے۔ “ افسانہ” نسل “ پڑھتے ہوئے دل دکھ سے بھر گیا کہ ناپید ہوتے جانوروں کی نسل، انسان اشرف المخلوقات کی نسل سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔” خوشبو “ اپنی طرز کو ایک خوبصورت افسانہ ہے ہم سب کو کسی نہ کسی شے کی خوشبو بہت اچھی لگتی ہے، کسی کو گیلی مٹی کی خوشبو، کسی کو بھونتے ہوئے چنوں کی، جمنی کو شام کے وقت بنتی گندم کی روٹی کی خوشبو کا نشہ تھا۔” تشنگی “ ہر انسان اپنے اندر محرومیاں لیے پھر رہا ہے۔ کوئی پیسے کے لیے ترس رہا ہے، کوئی سکون کے لیے اور کوئی دنیا کی دوسری خوشیوں کے لیے۔ زندگی تشنگی، پیاس کا ہی نام ہے۔” ایڈہیسو“ افسانے کا خلاصہ آخری سطر ہے، کیا کوئی ایسا ایڈہیسو نہیں جو انسان کی بکھری ہوئی شخصیت کی کرچیوں کو بھی جوڑ سکے۔
” وہ نقش زیر آب ہے “ ہارر فکشن، آغاز عام روائتی سا جیسا ہر ہارر کہانی میں ہوتا ہے مگر اختتام اچھا لگا۔” کال بیلیا“ عورت اپنی آئی پر آئے تو سوئی کے نکے سے دنیا ڈھا سکتی ہے۔” منو“ کبھی سنا کرتے تھے کہ کسی کے بھلے کے لیے جھوٹ بولا جائے تو گناہ نہیں ہوتا، صمد نے کسی نیکی کی خاطر چوری کر لی۔ اب وہ نیکی کیا تھی آپ خود ہی پڑھیں تو زیادہ اچھا ہے ۔” سادہ اوراق “ حالات حاضرہ کا پردہ چاک کرتا بہترین افسانہ ہے ۔ سارا تالاب گندہ ہو تو ایک دو مچھلیاں کیونکر صاف پاک رہ سکتی ہیں۔” دمڑی کی دال“ عورت پاکستان کی ہو یا ہندوستان کی، لگتا ہے حالات سبھی کے ایک سے ہیں۔
کتاب کا دوسرا حصہ کاٹ دار اور بہترین گیارہ افسانچوں پر مشتمل ہے ۔
مجھے خود کلامی، مجذوب، ٹھوکر زیادہ پسند آئے۔
نسترن احسن فتیحی واقعی باکمال مصنفہ ہیں، ان کا تعارف پڑھ کر زبان سے بے اختیار ماشا اللہ نکلا۔ اس کتاب کے بعد ان کی باقی کتب کا مطالعہ کرنے کو دل مچل اٹھا۔
انھیں کتاب کی اشاعت پر ڈھیروں مبارک باد اور انکے قلم کی روانی کے لیے دعا گو

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact