Friday, May 24
Shadow

بیادِ آصف فرخی/ انعام ندیم/تبصرہ : کومل شہزادی

تبصرہ : کومل شہزادی
آصف فرخی بطور افسانہ نگار، نقاد،مدیر اور مترجم اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ان کی متعدد کتب اشاعت کے مراحل سے گزرچکی ہیں۔علاوہ ازیں وہ تخلیقی حوالے سے بیدار اور متحرک تھے اور اردو ادب کو اپنی تخلیقات سے مسلسل زرخیز کرتے رہے۔ان کے تراجم اور افسانی مجموعے پڑھنے والوں کی نظر سے اوجھل نہیں۔آصف فرحی ایک اہم ادبی شخصیت ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔بقول محمد سلیم الرحمن :

” وہ ادب دوست ہی نہیں،ادب شناس بھی ہے۔مستزاد یہ کہ اس کا قلم اردواورانگریزی دونوں میں رواں تھا۔مطالعہ وسیع تھا۔”

زیر تبصرہ کتاب “اُس آدمی کی کمی “جس کے مرتب انعام ندیم ہیں۔یہ کتاب عکس پبلی کیشنز لاہور سے ٢٠٢٠ ء میں شائع ہوئی۔جو  ٣۵٦ صفحات پر مشتمل ہے۔جیسا کہ کتاب کے عنوان سے ظاہر ہورہا ہے کہ اُس آدمی کی کمی  یہ بیادِ آصف فرخی ہے۔جس کو انتہائی دلچسپی کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے۔کسی بھی کتاب کو مرتب کرنے کے لیے مرتب کرنے والے کی دلی دلچسپی بے حد ضروری ہے،اگر قارئین اس کتاب کا مطالعہ کریں گے تو ان کو اندازہ ہوجائے گا کہ انعام ندیم نے اس کتاب کو کتنی دلچسپی ،محنت اور محبت سے مرتب کیا ہے۔اس کا ثبوت کتاب کے ایک ایک قرطاس سے ملے گا۔بالخصوص انعام ندیم کاتحریر کردہ پیش لفظ ان کی آصف فرخی کے لیے  عقیدت کو ظاہر کرتا ہے۔اس میں ۵٨ تحاریرکو یکجا کیا گیا ہے جن میں نظم ،غزل اور مختصر مضامین اورجن میں انگریزی سے اردو میں ترجمہ شدہ ٩  تحاریرشامل ہیں  جو مختلف شخصیات کی آصف فرحی کے لیے تحریر کردہ ہیں۔اول مضمون اہم ادبی  شخصیت شمس الرحمن فاروقی کا “شعلہ مستعجل “ہے۔انہوں نے آصف فرخی کی صلاحیتوں کا تذکرہ کرنے کے ساتھ ان کے ادبی کارناموں کا اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے۔علاوہ ازیں آصف فرخی سے اپنی قربت اوران کے آخری ایام کا احوال بھی قلمبند کیا ہے۔”کچھ یادیں” شمیم حنفی کا مضمون ہے جو انسان کی زندگی اور موت کے فلسفے پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ آصف فرخی سے اپنے تعلقات ،ملاقات اور آصف فرخی کی ادبی خدمات کا مختصر تذکرہ کیا  ہے۔”اب کیا فردا کیادیروز،کیسی آنے والی کل” حسن منظر کی تحریر ہے جو انہوں نے آصف فرخی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تحریر کی۔آصف فرخی کی طبیعت اور ان کی موت کے ملال  کو اختصار سے بیان کیا ہے۔”کثیر الجہات اور جامع صفات آصف فرخی” کے عنوان سے افتخار عارف نے تحریر قلمبند کی ہے۔اس میں آصف فرخی کے مطالعہ کی وسعت ،ان کے حلقہ احباب ،ادبی کارنامے اور ان کی موت پرافسوس اور نقصان کا تذکرہ کرتے ہیں۔”کیا تیرابگڑتا جو نہ مرتا”کے عنوان سے اہم ادبی شخصیت کشور ناہید نے مضمون تحریر کیا۔آصف فرخی کے امراض ،شمارے کا احوال،اولاد کا تذکرہ اور آصف فرخی کے چند زندگی کے ایام ،کتب کو شائع کروانے اور ان کے جانے کے بعد انکی کتب وغیرہ کا عمدہ انداز میں تذکرہ کیا ہے۔”کوئی یوں بھی مرتا ہے” کے عنوان سے حمید شاہد نے تحریر لکھی جس میں آصف فرخی کی موت کی خبر نجیبہ عارف سے سن کر اپنے دکھ کا اظہار ،ان کی علالت اور طرززندگی کا احوال بیان کیا ہے۔بقول حمید شاہد

“آتش فشاں پر کھلے گلاب ،اسم اعظم کی تلاش ،چیزیں اورلوگ ،شہر بیتی،شہر ماجرا،میں شاخ سے کیوں ٹوٹا،ایک آدمی کی کمی،میرے دن گزررہے ہیں۔”

آصف فرخی کے لیے جو تحاریر انگریزی میں لکھی گئیں تھیں انہیں انگریزی سے اردو ترجمہ کرکے بھی شامل کیا گیا ہے۔ان میں مہرین خان ،محمد حسین زیدی،ذوہا سہیل،احمد زید،انعام ندیم وغیرہ کی ترجمہ شدہ تحاریر ہیں۔آصف فرخی کے بچھڑنے پر نظم سندھی سے اردو ترجمہ جو شاہ محمد پیرزادہ کی ہے جسے مصطفی ارباب نے اردو میں ترجمہ کی ہے۔آصف فرخی کی موت پرعمدہ نظم قلمبند کرکے ان سے اپنی عقیدت کا ظہار کیا ہے۔

موت کیا ہے
میں سمجھ رہا تھا زندگی کا بہاؤ ہے
جس کا انت ایک تاریک سمندر ہے
ایک ایک کرکے
سبھی اس میں اترتے جاتے ہیں
دل کو دھچکا لگتا ہے
جھیل جاتےہیں رفتہ رفتہ اسے ہم
جانے والے کے ساتھ نہیں جاتا کوئی
یہ سب سچ ہونے کے باوجود
یہ بھی سچ ہے
کوئی دیوار خستہ ہوکر اندر میں کہیں گرجاتی ہے
تار نفس میں
ایک کھنچاو ساآتا ہے
اور دل ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے

نجیبہ عارف نے ایک مختصر نظم میں ہی آصف فرخی کی موت کا ملال اور ان کی موت پر کربناک صرت حال کی عکاسی بہت اعلی انداز میں کی ہے۔ان کی نظم کے چند مصرعے ملاحظہ کیجے:

آصف فرخی
ہم تجھے روتے ہیں
تیری میت سے دور دور بیٹھے
تجھے روتے اور بین کرتے ہیں
ہم اپنے قلم توڑتے
فیس بک پر تیری تصویریں ہمیں دیکھ کر مسکراتی ہیں
ہم چیخ چیخ کر کہتے ہیں
نہیں نہیں،یہ جھوٹ ہے
آصف فرخی ! جان لو

علاوہ ازیں افضال احمد سید،فاطمہ حسن ،امینہ سید،نیلوفر عباسی،ناصر عباس نیر،عشرت آفرین،رفاقت حیات،رضا نعیم،فاروق عادل،مشرف عالم ذوقی،مبین مرزا،جمیل عباسی وغیرہ نے عمدہ تحاریر قلمبند کیں۔مزید برآں قمر رضا شہزاد ،نجیبہ عارف، محمد علی منظر،عشرت آفرین نے نظمیں لکھ کر آصف فرخی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ کاشف حسین غائراورذوالفقار نے غزلوں کی صورت میں  عمدہ اظہار خیال کیا ہے۔مختصر تحاریر میں ہر ایک نے اپنے اپنے انداز سے آصف فرخی سے عقیدت کا اظہار کیا ہے۔انعام ندیم کا یہ کارنامہ قابل داد ہے کہ انہوں نے ان سے تحاریر کو یکجا کرکے قارئین کے لیے سہولت پیدا کردی ہے کہ وہ آصف فرخی کو جاننے کے ساتھ ساتھ ان سے عقیدت رکھنے والوں کو بھی جان سکیں۔آخر میں انعام ندیم نے “آخری ملاقات” کے عنوان سے آصف فرخی سے اپنی آخری ملاقات کا احوال تفصیلی انداز میں کیا ہے۔جس میں کرونا،افطار کے کھانے کی تیاری سے لے کر تراجم اور فن پاروں پر عمدہ گفتگو کا تذکرہ کیاگیا ہے۔اگر آصف فرخی کی  شخصیت،مزاج اور فن کے حوالے سے  معلومات لینی ہوں تو یہ کتاب بہت مفید ہے۔کتاب میں ان تمام تخلیقات کو یکجا کرکے آصف فرخی کو عمدہ خراج تحسین پیش کیا ہے جو اس سے بہترین اور طریقہ نہ تھا۔میراخیال ہے مرتب کردہ کتاب پر کسی قسم کا تنقیدی پہلو تلاشنہ مناسب نہیں ہوتا۔المختصر کتاب بہت عمدہ ہے اور اردوادب میں اہم اضافہ ہے۔
آخر میں ایم۔خالد فیاض صاحب کا شکریہ کہ ان کے توسط سے یہ کتاب مطالعہ کے لیے ملی۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact