Friday, May 24
Shadow

کتاب ۔ خاک کے آس پاس مبصرہ ۔۔۔۔  خالدہ پروین

مصنفہ ۔۔۔۔ رباب عائشہ
صنف ۔۔۔۔ (افسانہ+ کالم)
مبصرہ ۔۔۔۔  خالدہ پروین
                         تعارف و تبصرہ
                                *************
ادبی خانوادے سے تعلق رکھنے والی معروف صحافی اور مصنفہ رباب عائشہ صاحبہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ “سدا بہار چہرے” جیسی گراں قدر تصنیف کی اشاعت کے بعد”خاک کے آس پاس” کا شائع ہونا کتابوں کے ذخیرے میں گراں قدر اضافہ ہے ۔
کسی کتاب کا سرورق قاری کو کتاب سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ عنوان کے موضوع اور مفہوم کا عکاس سرِ ورق پرکشش اور خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ قاری کو کتاب پڑھنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔
خاک کے آس پاس افسانوں اور کالم کا مجموعہ ہے جو وقتاً فوقتاً مختلف اخبارات اور رسائل کی زینت بنتے رہے ہیں ۔ اس میں کل 11 افسانے اور 25 کالم موجود ہیں ۔
                       افسانے
                                              ******
افسانہ جدید دور کی ایک معروف صنف ہے جس میں مختلف مصنفین نے طبع آزمائی کی ۔ رومانوی اور معاشرتی موضوعات کے علاوہ علامتی اسلوب نے کافی مقبولیت حاصل کی ۔
رباب عائشہ کے ہاں “خاک کے آس پاس” میں موضوعات کے تنوع کے ساتھ ہمیں اسلوب کا تنوع بھی ملتا ہے ۔
 “پتلی گھر”۔۔۔  ایک علامتی افسانہ جس میں جہاز دنیا کی علامت ہے اور پتلی نما انسان ماضی اور مستقبل کی فکر میں گم حال سے بے خبر رواں دواں ہیں ۔
2 : “جذبے کا سفر” ۔۔۔ احساس و جذبات کی شدت کو بیان کرتا افسانہ جہاں جذبات کا سفر کامیابی کا باعث ہے ۔
 “خاک کے آس پاس” ۔۔۔ایک شاہکار تخلیق جس میں گلدان کی آپ بیتی کے ذریعے مٹی سے گلدان کی تخلیق کا سفر ، مٹی سے بنے انسان کے جذبات ، رویے اور زندگی کی تبدیلوں کا فلسفیانہ بیان جسے شان دار منظر نگاری نے چار چاند لگا دیے ہیں ۔
“موت کی چاپ” ۔۔۔ مہذب اور ترقی یافتہ ممالک کی چکا چوند زندگی کا تاریک پہلو (  تمام سہولتوں کے باوجود بزرگوں کی تنہائی اور کسمپرسی) سادہ بیانیہ اسلوب میں دلوں کو متاثر کرنے کا باعث ہے ۔
 “خمیازہ” ۔۔۔ نسترن کی کہانی جو روایتی سوچ کے تحت ظلم وزیادتی کرتے ہوئے یہ بھول گئی کہ جلد یا بدیر مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
“عکس در عکس” ۔۔۔ حقیقت سے فرار اختیار کرتے ہوئے زینت کے ماضی کے سفر کی عام داستان جس میں عکس در عکس بازیافت کی تکنیک نے تجسّس اور خوب صورتی پیدا کرنے کے علاوہ افسانے کو انفرادیت بخشی ۔
 “تلاش میں ہے سحر” ۔۔۔ مایوسی اور نا امیدی کے بعد دوبارہ زندگی کی طرف سفر جس میں ذات کی تلاش کو صوفیانہ انداز نے منفرد افسانوں کی صف میں لا کھڑا کیا ۔
“سائے کی دیوار” ۔۔۔ زندگی کو سائے کی دیوار کی مانند بےحیثیت قرار دیتے ہوئے ذات کہ تلاش پر زور دیا گیا ہے ۔ روحانی موت سے پیدا ہونے والی افسردگی اور ملال کی عمدہ عکاسی کی گئی ہے ۔
 “بے سبب جینے کی خواہش میں مرے جاتے ہیں لوگ” ۔۔۔ بے مقصد زندگی کہ حقیقت کو بیان کرتا ہوا افسانہ جس میں دیا گیا پیغام :
یادوں سے فرار دنیا میں زندگی گزارنے کے  لیے ضروری ہے
کامیاب زندگی کے لیے بہت ضروری ہے ۔
“سکہ” ۔۔۔ ناجائز بچے کے حوالے سے مشرق و مغرب میں پایا جانے والے تضاد کا موازنے کا انداز  بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
 “پچھتاوا” ۔۔۔۔ ایک سبق آموز افسانہ جس میں نا محرم کے دکھائے گئے سبز باغ سے متاثر ہو کر گھر کی دہلیز پار کرنے والی لڑکیوں کی  بے توقیر اور  بے عزت زندگی کی عکاسی کی گئی ہے ۔
مجموعی طور پر “خاک کے آس پاس” کے افسانوں کے موضوعات کا تنوع اور تکنیک ایسی خوبیاں ہیں جو انفرادیت کا باعث ہیں ۔معاشرہ ، نفسیات اور تصوف جیسے موضوعات کو پیش کرنے کے لیے آپ بیتی اور روداد کی تکنیک کے ساتھ علامتی اور افسانوی انداز قابلِ تعریف ہے ۔ عمدہ زبان اور شان دار منظر نگاری افسانوں کی ادبی شان کا باعث ہے ۔ رباب عائشہ کے افسانوں میں کرداروں کی بھرمار دکھائی نہیں دیتی ۔ عموماً کہانی ایک آدھ کردار کے گھومتے ہوئے نفسیاتی کیفیات اور صوفیانہ خیالات کو پیش کرتی ہے ۔ کرداروں کی کمی کے باوجود شان دار اور جان دار منظر نگاری ایسی خصوصیات ہیں جو کہانی کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ کسی قسم کی تشنگی کو بھی باقی نہیں رہنے دیتیں۔
اختتام ایسے نکتے پر ہوتا ہے کہ نا صرف سارا افسانوں نظروں کے سامنے گھومنے لگتا ہے بلکہ قاری پر سوچ کے نئے در وا کر دیتا ہے ۔
                          کالم
                                             ******
رباب عائشہ ایک محبِ وطن اور دردِ دل کی مالک شہری اور صحافی ہیں جس کا منہ بولتا ثبوت ان کے کالم ہیں ۔ حصولِ پاکستان کے لیے دی جانے والی قربانیاں ، حکمران اور اداروں کی موجودہ بےحسی ، مختلف شخصیات کے محبت و احترام سے بھرپور تذکرے (پروین فنا سید ، امتل الحبیب، صائمہ عمار ، اہلِ خانہ کے خاکے ، سکول اور کالج کی ساتھیوں ، اساتذہ کرام ، ارفع کریم وغیرہ) راولپنڈی شہر کی تشکیل و آباد کاری نیز اس کی موجودہ ابتری  غرض کوئی کالم بھی ایسا نہیں ملے گا جو انسانیت ، حب الوطنی ، وسیع المشربی اور دردِ دل کا عکاس نہ ہو
کالم کی زبان و بیان قاری کو اپنی گرفت میں لیتے ہوئے کالم نگار کے ساتھ ایک قلبی لگاؤ بلکہ محبت کے فروغ کا باعث ہے ۔
“سدا بہار چہرے” اگر اردو خاکہ نگاری کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہے تو “خاک کے آس پاس” افسانہ نگاری میں ایک منفرد انداز اور کالم نگاری میں دردِ دل اور حب الوطنی کی عکاس ہے ۔
رباب عائشہ جیسی شخصیات قوم کے لیے ایک سرمائے کی حیثیت رکھتی ہیں جو اپنی تحریروں کے ذریعے دلوں میں موجود رہیں گی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact