Tuesday, May 21
Shadow

شفا چودھری کی  کتاب “گونگے لمحے”، تبصرہ: کنیز باھو

تبصرہ نگار:کنیز باھو
دنیا کی سات ارب پر آبادی میں ہر شخص کے ساتھ ایک نہ ایک  کہانی وابستہ ہے مگر ساری کہانیاں نہ تو نظر سے گزر سکتی ہیں اور نہ ہی صفحہء زیست کی زینت بنتی ہیں دکھ، درد سب کے سانجھے ھوتے ہیں لیکن ان کا اظہار ہر کوئی نہیں کرسکتا یہ شرف انہیں نصیب ھوتا جو انگاروں پر چل سکتے ہیں۔ نمرود وشداد کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر گونگے لمحوں کو زبان دیتے ہیں ۔باطل کے خلاف آواز اٹھانا، وقت کی گرداب میں بکھرے ہوۓ خوابوں کی حقیقت بتانا پیغمبروں کا کام رہاہے، پیغمبروں کی سنت اپنانا نفس کی موت ہے ۔ کچھ قلم کے شہسوار جہاد باالقلم کے ذریعے اندھیروں میں ڈوبے معاشرے کو روشنیاں بانٹنے پر معمور ہیں جن میں شفا چودھری بھی شامل ہیں۔
مصنفہ ” شفا چودھری “کا تعلق پنجاب کے شہر وہاڑی سے ہے ۔آپ نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورسے ماسٹر کیا ہے۔گھر میں ادبی ماحول کی وجہ سے بچپن ہی سے ادب سے رشتہ استوار ہوگیا بچوں کی کہانیوں سے پھوٹی گئی یہ نخل امید اب پروان چڑھ کر ادب کی ہر صنف میں طبع آزمائی کرکے اپنا آپ منواچکی ہے۔
شفا چودھری اپنا منفرد اور جداگانہ اسلوب رکھتی ہیں ۔تحریر کی پختگی گہرے مطالعے اور مشاہدے کا ثبوت ہے۔ شاعرانہ نثر،خودکلامی کا انداز،مناظر میں ان کہی پہیلی سے بات قاری تک پہنچانا،کردار کو جی کر کہانی ترتیب دینا یہ بنیادی اوصاف کچھ بہترین لکھاریوں کا خاصہ ہوتے ہیں ۔
”گونگے لمحوں“ کی تہہ در تہہ گہری معنویت کی عکاسی کرتا ہوا کتاب کا سرورق انتہائی دلکش ہے۔ کتاب سولہ افسانوں اور سترہ مختصرافسانچوں پر مشتمل ہے ۔
افسانہ : پنکھ
” بلند سوچ اپنا جہاں خود دریافت کرتی ہے۔“ اسی تخیل کے گرد بنا گیا علامتی افسانہ ۔منظر نگاری کے فسوں نے سحرزدہ کردیا۔منجھے ہوۓ قلم سے تخلیق شدہ ادب لطیف کا بہترین نمونہ ۔
ادب لطیف کا بہترین شاہکار وہ تخلیق ہوتی ہے جو اعصاب کو ریلیکس کردے ،لطف فراہم کرتے ہوۓ تخیل میں میں سماجاۓ ۔قاری کبھی یاد کرے تو مسکرا اٹھے ۔
غلام گردشوں سے آزادی تک کاسفر
زندگی سے زندگی تک کاسفر
خوف سے یقیں کا سفر
لاشعوری سے شعور کاسفر
پنکھ کی اڑان قاری کی انگلی پکڑ کر علامات کے سنگ سفرکراتی رہی جو ایک کنویں پر زندگی جینے کے گر “ کی چابی کی تلاش پر ختم ہوا۔
افسانہ :فیصلہ
”بعض اوقات صبر آزمانا بہت مہنگا پڑجاتا ہے۔
افسانے میں اختصار کے جامع انداز میں پیغام قاری تک پہنچایاگیا۔
اگر معاشرے کی روایتوں کی بات کی جاۓ تو لڑکی کا ایسا فیصلہ ہضم کرنا مشکل امر ہے ۔
شادی سے پہلے اس رشتے کی نزاکتوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کسی پچھتاوے سے بچا جاسکے۔اسلام میں ہر رشتے کی روح کو برقرار رکھنے کے لیے بہت متوازن اور سیدھی ترتیب ہے ۔جس سے نکل کر جبر ،صبر یا بغاوت کی راہ اس رشتے کی روح کو کمزور کردیتی جو آہستہ آہستہ مرجھا کررہ جاتاہے۔آزمائش قدرتی ہوتو صبر پر انعام ہے خود ساختہ مجبوریوں میں نفس کی تسکین کے لیے نفس کی رہ پر چلنے کاامکان ذیادہ ہوتا ہے ۔ افسانہ نگار نے بے باکی سے مثبت حل پیش کیا ہے ۔فیصلہ کرنے کالمحہ مشکل ہوتا ہے لیکن ساری ذندگی کے عذاب سے بچالیتا ہے ۔
افسانہ : خاموش نظمیں
 افسانہ پڑھ کہ آنکھیں نم ہوگئیں ۔
کون کون سا درد نہیں سمویا گیا افسانے میں باپ کا دکھ ،بیٹی کا دکھ ،جدائی کا دکھ ،محبت کے عدم اظہار کی مجبوری ۔والدین کی محبت کو بیان کرتا ہوا افسانہ بہترین منظر نگاری ، عمدگی سے کردار سازی کی گٸی ہے کردار نبھایا گیا ہے اچھا افسانہ وہی ہوتا ہے جو قاری کے تخیل میں زندہ رہ جاۓ تاثر چھوڑجاۓ۔
افسانہ :راز
راز سحر ”تسلیم ورضا“ ہے ۔
ایک مایوس تھکی ہوئی روح کی صبر واستقامت سے پرواز یقین اور اس پہ ہونے والی عطا  کو بہت عمدگی سے افسانوی رنگ میں رنگا گیا جملوں میں پوشیدہ رمز اتار چڑھاٶ نے بہت خوبصورت بنادیا۔ تانیثی ادب میں امید کا درس دیتا ہوا بہترین افسانہ۔
افسانچہ :خوف کارقص
مصنفہ نے  کہانی میں بہت مہارت سے کردار کی نفسیاتی کیفیات کو بیان کیاہے۔تنہائی میں اکثر ماضی کے کسی دکھ ،مستقبل کے خوف کمزور اعصاب کے مالک انسان کی یاد پر ہیولے کی شکل میں سوار ہوتا ہے۔ کبھی انسان جکڑلیا جاتاہے کبھی اس خوف کا رقص زنجیروں میں جکڑ کر حواس معطل کردیتا ہے۔
منظرنگاری ،تخلیقیت ،کردارنگاری ،اسلوب ، جزیات پر محنت گویا کہ تمام عناصر کوانتہائی  متناسب انداز میں  سپردقرطاس کرکے کہانی تشکیل دی گئی ہے۔” میری آنکھوں میں دیکھو“ تحکمانہ جملے سے کہانی کا آغاز ہوتا ہے ۔ عدم اعتمادی ،قوت فیصلہ کی کمی ،اندیشوں میں جکڑے ہوۓ کردار کے کی زہنی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ کہانی بروکن فیملی کے بچے کے گرد بنی گئی ہے جو گھریلوناچاقی ،والدین کے جھگڑوں کی وجہ سے اپنی تنہائی کے خول میں بند ہوکر اذیت پسند بن چکا ہے ۔ سیاہ ہیولوں کا آنا،پناہگاہ میں جانا، لاشعور میں مختلف آوازوں کی تکرار سے بھاگنا، معمولی سی بات پر ہنسنا،غیر اہم بات پر روپڑنا ،ماضی کی تلخ یادوں کے گرداب میں پھنسے ہوۓ کردار کی مختلف کیفیات پر بہت باریکی سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔جوکہ مصنفہ کے گہرے مشاہدے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
 افسانچہ :مسکراہٹ کا رنگ
جیسا کے افسانچے کا نام ” مسکراہٹ کارنگ “ سے ظاہر ہے لطیف کیفیات کو مادی شکل میں ڈھال کر انسانی جزبات کی زبان کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔شفاف چوہدری کی اکثر کہانیاں خود کلامی پر مبنی ہوتی ہیں جو کردار کے گرد بنی مادی فصیلوں کو توڑ کر اندرون ذات تک رسائی حاصل کرکے کردار کی شخصیت کی تعمیر کرتی ہیں۔یہ کہانی راتوں رات شہرت پاجانے کے خواہش مند ایک مصور کی ہے۔ جو منفرد خیال کو پینٹ کرنے کی کوشش میں تصورات کی ناٶ میں بہتا ہوا اس پچھتاوے سے جاکر ملتا ہے جس کی وجہ سے وہ تخلیق کو مکمل نہیں کرپارہا ہوتا۔ مصنفہ یہاں یہ سمجھانا چاہتی ہیں کہ کسی بھی فن کا ماہر  فن سے مخلص ہوکر ہی منفرد فن پارہ تخلیق کرسکتا ہے۔ متعدد بار کوشش کرنے کے بعد تھک جب تک جاتا ہے تو عکس اسے مخاطب کرکے جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ کہانی کا اختتام حقیقی سبق پر کیا گیا ہے ” سچ میں جھوٹ کی پیوند کاری نہیں ہوسکتی “۔
افسانچہ : کوکلا چھپاکی
افسانویت اور حقیقت کے خوبصورت امتزاج سے خوشبو کے سنگ جڑی یاد پر بنی گٸی منفرد کہانی جو اپنے اندر درد سموۓ ہوۓ ہے۔
معنویت سے بھرپور گہرا جملہ پڑھیے۔
“جس کی پشت پر دوپٹے کی  ضرب لگائی جائے گی اس کی شادی اب کے برس ہو جائے گی۔”
بچپن سے دکھاۓ گئے خوابوں پر جب معاشرے کے دوغلے معیار کی کاری ضرب لگتی ہے تو اسی خوشبو سے خوف آتا ہے جو کبھی جذبات میں رنگ بھردیتی تھی۔
یہاں خوشبو کو علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ۔یہ ان لڑکیوں کی کہانی ہے  جو کسی نہ کسی وجہ سے والدین کی دہلیز پر بیٹھی رہ جاتی ہیں۔
مرکزی کردار بابل کے آنگن کانازک پھول ہے ۔
جو زمانے کے بدلتے رویوں ، تلخ حقیقتوں کے مشاہدے سے خوفزدہ ہوکر خود کو خوشبو کے سنگ اڑا کر  بابل کے آنگن میں لےجاتی ہے جہاں بےفکری کے دنوں میں سکھیوں کے ساتھ ”کوکلاچھپاکی “ کا کھیل کھیلتی تھی ۔
 معصوم آنکھوں کے بڑے خواب ، نازک کلی کے اندر پنپتی خواہشات، خوش رنگ یادیں کی کرنوں سمیت کینوس پر بکھرے  کہانی کے مختلف رنگوں کی خوشبو نے  قاری کے ذہن  معطر کردیا ہے.
افسانچہ :”نخل امید
بیٹیوں کی تعلیم کے منافی معاشرے کی کہانی ۔
بیٹے اور بیٹی میں فرق کرنے والے والدین کے کردار پر بخوبی روشنی ڈالی گئی ہے۔ قصور ماحول کا نہیں ہوتا ہے نا ہی کرداروں کا فتور صرف سوچ میں ہوتا ہے ادیب کا معاشرے پر حق ہے وہ تمام مسائل جو سوچ کے بگاڑ کی وجہ سے روایت کی شکل اختیار کرچکے ہیں ان پر قلم اٹھاۓ ، مثبت پہلوٶں کااحاطہ کرتے ہوۓ حل پیش کرے ۔ مصنفہ نے موضوع کو بخوبی نبھایا ہے ۔حروف تہجی سے شروع ہوتے ہوۓ الفاظ سے احساسات کا سفر طے ہوکر ماضی کے واقعہ میں لے گیا جہاں ”زندگی میں پہلی بار اس نے باپ کا لمس محسوس کیا“ اختتام میں اس جملے پرجھنجھوڑگئی ۔ بچی کی تعمیر شخصیت میں آج بھی کچھ گھرانوں میں محرومی اور احساس کمتری کے عناصر ڈالے جاتے ہیں جس کی وجہ وہ خود کو کم ذات سمجھتے ہوۓ بنیادی حقوق سے محروم کرلیتی ہے۔
کہانی واقعات پر افسانوی چھاپ سے مختصر انداز میں مثبت پیغام دے رہی ہے جوبہترین کہانی کا خاصہ ہے ۔ بیٹی کو تعلیم وتربیت کے بنیادی حقوق کے ساتھ بیٹے کی طرح ہی خصوصی توجہ سے اس کے اندر نخل امید پھوٹ پڑتی ہے۔جو پروان چڑھ کر مستقبل میں چمکتا ستارہ بنتے ہوئے  ماں باپ کا نام روشن کرسکتی ہے۔
مجھے مصنفہ کا ہر افسانہ ان کے روشن مستقبل کی نوید دیتا ہے ۔ ادیب اگر اپنی تحریر سے وفادار ہے تو ہر راستہ زندگی کے ارتقائی منظر کو روشن کرتا ہے ۔ دعا ہے مالک پاک سے مصنفہ کی کامیابیوں کا سلسلہ دراز رہے۔یونہی محبتیں بانٹتی اور سمیٹتی رہیں  آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact