تاثرات : جمیل احمد

ساڑھے دس بجے ملنے کا وقت طے تھا۔ وہ میرا انتظار کر رہے تھے۔ ہمارا  نظریاتی تعلق دہائیوں پر محیط ہے۔وہی مسکراتا چہرہ، تواضع اور عجز و انکسار کا مرقع۔ کمال محبت سے اپنی تازہ کتاب “لوگ اور لوگ بھی کیسے کیسے”  عنایت کی۔یہ پروفیسر محمد ایاز کیانی  کی دوسری کتاب ہے۔ اس سے قبل وہ  “تماشائے اہل کرم” کے عنوان سے سفرنامہ  لکھ کر  قارئین سے زبردست پذیرائی  حاصل کر چکے ہیں۔میں نے پروفیسر ایاز کیانی کا شکریہ ادا کیا؛ یوں ہماری مختصر ملاقات اختتام کو پہنچی۔
“لوگ اور لوگ بھی کیسے کیسے” دراصل اُن  شخصیات کے بارے میں خاکوں کا مجموعہ ہے، جنھیں مصنف کسی نہ کسی انداز میں قارئین کے سامنے رول ماڈل کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ خاکہ نگاری  کے بارے میں بات کی جائے تو یہ اردو ادب کی وہ صنف ہے جس میں شخصیتوں کی تصویریں اس طرح براہ راست کھینچی جاتی ہیں کہ ان کے ظاہر اور باطن دونوں قاری کے ذہن نشین ہوجاتے ہیں۔ اس لحاظ سے خاکہ نگاری کا مقصد کسی شخصیت کی نمایاں خصوصیات کا اظہار کرنا ہے، نہ کہ اس کی مکمل زندگی کا بیان۔یہ صنف  دلچسپ  ہے،لیکن  حساس بھی کہ خاکہ نگاری میں قلم پر بے پناہ گرفت کے ساتھ ساتھ جرأ ت اور سلیقہ مندی بھی درکار ہوتی ہے۔
محمد ایاز کیانی نے اس کتاب کے لیے انتالیس شخصیات کا انتخاب کیا ہے، جن میں سے بیشتر کو راقم ذاتی طور پر جانتا ہے، یا کسی نہ کسی طور ان سے شناسائی رہی ہے۔لہٰذا میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مصنف نے ان شخصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے کسی مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیا، بلکہ نہایت سادہ اور سلیس انداز میں پوری دیانت داری کے ساتھ حقائق من و عن بیان کر دیے ہیں۔ان شخصیات کی زندگی کے کئی پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھے، مصنف نے انھیں بھی نہایت خوبی سے قلم بند کر دیا ہے۔یوں یہ کتاب خاکہ نگاری کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی دستاویز کی شکل بھی اختیار کر گئی ہے۔
رول ماڈل کی بات ہوئی تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ کتاب میں جن شخصیات کا تذکرہ کیا گیا ہے، کم و بیش سب ہی کی زندگی محنت اور جدوجہد سے عبارت ہے۔اس لحاظ  سے کتاب میں مقصدیت کا پہلو بھی جھلکتا ہے۔یعنی کتاب نوجوانوں کے لیے اپنے ہی گردو پیش کی شخصیات کی زندگیوں سے تحریک اور ہمت حاصل  کرنے کا ایک عمدہ ریسورس ہے۔
مجموعی طور پر پروفیسر محمد ایاز کیانی کی کتاب “لوگ اور لوگ بھی کیسے کیسے” ایک عمدہ کاوش ہے، جس میں ایسے مانوس کرداروں  کا تذکرہ ہے، جن کی زندگیوں سے ہم آج بھی inspiration حاصل کر سکتے ہیں۔مختصر یہ کہ  کتاب  تذکرہ ہے، تاریخ ہے اور ہمت و جدوجہد کی داستانیں بھی سموئے ہوئے ہے۔
یہ کتاب ممتاز پبلی کیشنز نے شائع کی ہے، جس پر پروفیسر ذوالفقار احمد ساحر نے نظر ثانی کی ہے۔صفحات 192 اور قیمت چھ سو روپے ہے۔ناشران سے ای میل

کے ذریعے mumtazpublications313@gmail.com 

اور واٹس ایپ کے ذریعے 03060718996 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact