Sunday, May 26
Shadow

رباب عائشہ کی “خاک کے آس پاس” تبصرہ : فرح ناز (کراچی)

پریس فار پیس فاؤنڈیشن کا ایک اور خوب صورت کارنامہ ، خوبصورت سرورق ،عمدہ طباعت ، ابرار گر دیزی صاحب کی مہارت اور ٹیم ورک کی محنت کا نتیجہ “ خاک کے آس پاس “ میری نگاہوں کے سامنے ہے ۔ادارے کے زیر اہتمام تقریب رونمائی کی تصاویر میں ایک جوان سی بزرگ خاتوں کو دیکھا ،پو چھنے پر پتہ چلا ،یہ رباب عائشہ صاحبہ ہیں ملنے والو ں نے ان کی شگفتہ طبیعت کے اتنے گن گائے کہ رشک آنے لگا ،سوچا جب خاتون اتنی پیاری ہیں ،تعارف اتنا متاثر کن ہے تو یقینًا تحریریں بھی ادبی اور فنی محاسن سے مرصع ہوں گی اور اسی سوچ گے تحت کتاب آرڈر کے تین دن بعد میری ٹیبل پر تھی ۔دو دن سے اس کے مطالعہ میں غرق تھی کہ بعض تحریریں خصوصی توجہ کے قابل ہوتی ہیں ۔میں خود کو اس قابل تو نہیں سمجھتی لیکن کچھ ہے جو لکھنے پر مجبور کر رہا ہے۔ چونکہ یہ کتاب افسانوں اور کالمز پر مشتمل ہے تو اس پر دونوں پہلوؤں سے رو شنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔

“بحیثیت افسانہ نگار “

   آج میرے زیر تبصرہ کتاب “خاک کے آس پاس “ ہے ، کتاب کا نام ہی اتنا حقیقت سے قریب ہے کہ کوئی اس کی اہمیت سے منکر نہیں ہو سکتاکہ  ہم خاک کے پتلے ہیں ، اور خاک سے ڈھلے ہیں اور ایک دن خاک کی صورت خاک میں مل جانا ہے ۔

مٹی سے محبت ہماری فطرت میں شامل ہے پڑھتے ہوئے کئی جگہ ایسا محسوس ہوا کہ رباب عائشہ میں کہیں میں بھی موجود ہوں۔ ان کی تحریریں مٹی سے جڑی ہیں جو اصل سے محبت کی علامت ہے ۔

مصنفہ کا فنی اور ادبی سفر اتنا طویل اور شاندار ہےکہ ان کے فنی محاسن پر بات کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔

رباب عائشہ کے تجربے اور مشاہدات نے اس کتاب کو جو افسانوں اور کالمز پر مبنی ہے نہ صرف ادبی شہکار بنادیا ہے بلکہ اس کی ایک الگ تاریخی حیثیت بھی ابھر کر سامنے آتی ہے ۔

مصنفہ کے افسانوں کی بات کی جائے تو ان کی تحریروں میں انسانی رویوں کی بے حسی اور مفاد پرستی کا عنصر واضح دکھائی دیتا ہے” پتلی گھر” جیسی علامتی کہانی ہو یا مغربی تہذیب کا نوحہ ، انسانی نفسیات کی بند گر ہیں کھولتی ، ماضی میں جھانکتی  “عکس در عکس “کی کہانی ہو یا خزاں کے رنگوں میں بھی خوبصورتی ڈھونڈتی انسانی فطرت کا قصہ ، مٹی سے گلدان اور پھر طاق تک کا سفر اور پھر انجام ، موسموں کا، مزاجوں کا یا مقدر کے تغیرات اورلاشعوری طور پران  کا انسانی زندگی پر اثر انداز ہو تا نظر آتا ہے “ خاک کے آس پاس “ پڑھ کر آپ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے۔

الغرض یہ کہ آپ بحیثیت صحافی ہی نہیں بلکہ بہترین افسانہ نگار بھی ہیں

مغربی اور مشرقی تہذیب کا موازنہ کرتی کہانیاں قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ سب کچھ اچھا نہیں تو سب کچھ برا بھی نہیں ہوتا ۔فیصلہ قاری کو کرنا ہے  ، کچھ جملے دل کو کیا روح کو چھو گئے

  “اے کل جہانوں  کے مالک ! ہر زندہ انسان کو روح کی موت کے عذاب سے بچا “

یا اس جملے کی گہرائی کو محسوس کریں ۔

“کوزہ گر کے ساکت چاک کی طرح اس کی زندگی بھی رک گئی تھی اب اس کی صرف ایک خواہش تھی کہ وہ مٹی میں مل کر سوندھی سوندھی مہکار کا جزو بن جائے “

مکافات عمل کی کی کہانی ہو یا غلط فیصلوں پر پچھتاوے کا بوجھ اٹھاتی تحریر ،ہر جگہ مربوط پلاٹ اور خوبصورت تشبیہات و استعاروں نے قاری کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔

“بحیثیت کالم نگار “

ایک دور تھا جب اخبار کے بغیر صبح نہیں ہوتی تھی ۔چائے کے ساتھ اخبار کا ہونا لازمی ہوا کرتا تھا ۔اس وقت بھی ہمیں خبروں سے زیادہ کالم پڑھنے کی جلدی ہوتی تھی جو خبر کے پس پردہ خبرکو کھول کر رکھ دیا کرتے تھے ، تجزیہ نگار ہی کالم نگار ہوا کرتے تھے ۔ رباب عائشہ ہمیں اسی دور میں لے گئیں۔

مصنفہ نے جس طرح باقاعدہ تواریخ کے ساتھ راولپنڈی اور اسلام  آباد اور مختلف مقامات پر روشنی ڈالی ہے وہ یقینًا قابل ستائش ہے۔

کہتے ہیں کہ مصنف کے ہاتھ میں معاشرے کی نبض ہوتی ہے اور اگر وہ کالم نگار بھی ہو تو اس کی حساسیت اور سیاسی بصیرت ہی اسے اچھا کالم نگار بناتی ہے ۔بحیثیت صحافی رباب عائشہ قاری کی انگلی پکڑ کر اپنے ساتھ اس دور میں لے گئیں۔ جہاں سے ابتدا ء ہونی تھی جمہور کی ، جب نکھار آنا تھا لہو سے سینچے گئے گلستاں میں لیکن وہ خود بہت مایوس نظر آئیں۔ ہمارے پاس باصلاحیت افراد کی کمی تھی نا وسائل کی ۔کمی صرف خلوص کی تھی جسے مفاد پرستی کے عفریت نے نگل لیا اور ہم وہیں کھڑے ہیں امید چراغ سحر لئے۔

عمار مسعود ، ارفع کریم بہت پرانی بات تو نہیں ۔پروین فنا سید کا نام بہت عرصہ بعد پڑھ کر بہت اچھا لگا ۔ایک خوب صورت چہرے اور لہجے والی شاعرہ جن کا اب شاذو نادر ہی ذکر ہوتا ہے اور جن لوگو کا ذکر خیر ہوا وہ انسانیت کے روشن مینار ہیں جن کی آب وتاب سے رباب عائشہ کی کتاب جگمگا اٹھی ہے اللہ آپ کو ہمت اور زندگی دے اور آپ اسی طرح ادب کی خدمت کرتی رہیں اور ان گمشدہ ستاروں کو دوبارہ اپنی تحریروں میں زندہ کریں جن سے نئی نسل استفادہ اٹھا سکے (آمین)

سپاس گزار

تبصرہ نگار

فرح ناز فر ح

( عشقم )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact