Friday, April 19
Shadow

معظمہ نقوی  کا شعری مجموعہ” آخری بارش” تاثرات : پروفیسر فلک ناز  نور

تاثرات : پروفیسر فلک ناز نور

ہمارے ہاں عام طور پر یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ بڑے شہراور قصبے ہی ادبی سرگرمیوں اور زرخیزی  کا محور ہیں  تاہم   ڈی جی خان جیسے ایک دور دراز  اور قدرے کم وسائل والے  اور مواقع سے محروم خطے سے تعلق  رکھنے والی مصنفہ اور شاعرہ معظمہ نقوی  کے شعری مجموعے” آخری بارش” کی اشاعت  ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کے مترادف ہے کہ پسماندہ علاقوں کے قلم کار بھی فنی  صلاحیت ،پختگی اور مہارت  میں  بڑے شہروں کے  تخلیق کاروں سے کم نہیں ہیں۔

مصنفہ معظمہ نقوی ایک ایسے علاقے کی باسی ہیں جہاں   سماجی روایات    اور جاگیر دارانہ  سو چ کے  شکنجے   آج کے جدید دور میں بھی بہت گہرے ہیں، مصنفہ  کے تعارف کے مطابق وہ بچپن سے ہی روایت شکن  رہی ہیں ،  بچپن  جو گڑیوں اور کھلونے  سے محبت کا زمانہ  ہوتا ہےلیکن  بچپن  کے ان معصو م  ایام  میں  میری قلمکار بہن کو  گڑیوں سے زیادہ    قلم و قرطاس  سے انسیت تھی   یہی وجہ ہے کہ    معظمہ نے  صرف تیرہ  سال کی عمر میں اپنی    پہلی نظم  ” منتظر نگائیں ” لکھی ،  پھر اردو ادب کی تعلیم   اور تدریس کے بعد   لکھنے کا سلسلہ   جاری ہے۔  2018 میں ادبی دنیا میں باضابطہ متعارف  ہوئیں،  2019 میں پہلی تصنیف  ”  کف دست”،  2021 میں  دوسری کتاب ‘ مودت نامہ” اور   جنوری 2023 میں ” نوائے نقوی ” شائع ہوئی۔

آج کل   معظمہ نقوی  کا شعری مجموعہ ” آخری بارش” میرے زیر مطالعہ ہے۔کتاب  پریس فار پیس پبلی کیشنز   نے بہت اہتمام اور محبت سے شائع کی ہے۔  مصنفہ کی نثری اور شعری  تخلیقا ت   میں علامت  نگاری  بھی  نظر آتی ہے۔

کتاب کا انتساب ” محبت کی پہلی بارش” کے نام ہے۔ “بارش” کا استعارہ  کتاب  کے  بہت  مختصر  لیکن  جامع  پیش لفظ میں امید، زندگی اور  قربانی  کے انمول جذبے  کے  طور پر جلوہ گر ہے۔ یہ شعری مجموعہ  فنی حسن کے    کی دل ربا  تصویر ہونے کے علاوہ  صوری حسن  سے بھی مالا مال ہے۔ کتاب میں کلام کے ساتھ ساتھ  خوب صورت  خاکوں  نے کتاب کے  حسن کو چار چاند لگا ئے ہیں۔  آج کل  سوشل میڈیا کے   دور میں  عام  لوگ اور ادب کے قاری  کلام کے ساتھ  تصویر اور  آواز کے  استعمال سے مانوس ہو چکے ہیں شاید  یہی  وجہ  کہ جدید دور کے قاری کے مزاج اور ذوق کے عین مطابق اس تصنیف کو    بڑے اہتمام سے تیار کیا گیا ہے۔ مصورہ  آنیہ ایس خان  جنھوں نے    انتہائی متاثر کن سرورق    کا فن پارہ   بنایا ہے اور سر ابرار گردیزی  صاحب   جنھوں نے بہت کمال سے   کلام سے مطابقت  کے حامل دلکش  اور جاذب  نظر   تصویری خاکوں  سے سجایا ہے۔بھی داد کے مستحق ہیں۔ کتاب  میں مایہ ناز  شاعر افتخار عارف، ڈاکٹر سوراج  نارئین،  محترمہ فرح ناز فرح  اور  علیزے  نجف  (علی  گڑھ) کی قیمتی آرا بھی شامل ہیں۔

کتاب میں بے ساختگی اور سلاسست نمایاں ہے۔شاعرہ نے بہت چھوٹی چھوٹی  نظموں اور اشعار  میں  گہری باتیں  بھی بیان کی ہیں۔یہ شعر ملاحظہ کریں۔

خرد کو جب کوئی  سنوار لیتا ہے

وہ  اپنی فکر کو اوج کمال دیتا ہے۔

معظمہ کی شاعری جذبات، خوبصورتی اور حکمت کا حسین خزانہ ہےاپنے سادہ مگر گہرے خیالات کے ذریعے وہ اپنے قارئین کے دل و دماغ پر اپنے گہرے نقش چھوڑتی ہیں۔ان کی شاعری قاری کو زندگی کی باریکیوں کے بارے میں غور کرنے اور سوال کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

معظمہ کے کلام کی خوبی اس کی ہمہ گیری ہے۔ ایک مختصر  کتاب میں  موضوعات کا تنوع ملتا ہے۔ کہیں وہ  جاڑے کی سرد شاموں  میں سانس کے تاروں کو چھیڑتی تنہایوں   کے کربناک لمحوں کا گداز تذکرہ  کرتی ہیں۔ کہیں دسمبر کی اداس گھڑیوں میں  اپنے حصار میں لپٹی  یادوں  سے ہم کلام ہیں۔ معظمہ  جہاں  شعر اور ادب میں نئی راہوں کی متلاشی ہے وہیں اس نے اپنا ناطہ  میر و غالب اور اقبال و  فیض  کی روایت سے بھی استوار رکھا ہے ۔

میری دعا ہے کہ  شاعرہ کا قلمی سفر  جاری اور ساری رہے۔ معظمہ   کے لیے بہت سی دعائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact